ہیں۔ اس کی پنڈت جواہر لال نہرو اس لئے حامی تھے کہ وہ اسے ہندوستانی اسلام سمجھتے تھے۔ جس کا قبلہ حجاز کی زمین نہیں بلکہ گورداسپور میں واقع ہے۔ حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے پنڈت نہرو کے اس ہندوستانی اسلام والے نظرئیے پر ایک دو مضامین میں بڑی شدید گرفت کی تھی۔ علامہ اقبالؒ سے قادیانی حضرات کی ناراضگی کا بڑا سبب یہی مضامین تھے۔ قائداعظم کے بارے میں ان کے تمام احسانات کے باوجود سر ظفر اﷲ خاں کی رائے کبھی اچھی نہیں ہوئی۔ کیونکہ قائداعظم مسلمان تھے۔ اگر ان کے بارے میں ان کی رائے اچھی ہوتی اور وہ ان کو اپنا باپ سمجھتے تو ان کی نماز جنازہ میں ضرور شرکت کرتے۔‘‘ (اداریہ روزنامہ مشرق ۱۵؍فروری ۱۹۶۴ئ) نیز چوہدری ظفر اﷲ نے سابقہ اثر ورسوخ کے استعمال میں اب کون سی کمی کی ہوئی ہے کہ زمانہ قریب میں لندن میں اپنے برطانیہ کے زیر سایہ یورپی قادیانیوں کی ایک کنونشن بلائی۔ جس کا کرتا دھرتا چوہدری موصوف ہی تھا۔ اس میں یہ مسئلہ خاص کر زیر بحث آیا کہ اگر قادیانی حکومت قائم ہو جائے تو نظام حکومت کیا ہوگا۔ یاد رہے کہ یہ کانفرنس ۳تا۷؍اگست ۱۹۶۵ء کو منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس سے ٹھیک ایک ماہ بعد ۶؍ستمبر ۱۹۶۵ء کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ راولپنڈی کے موقر جریدہ روزنامہ جنگ کی رپورٹ ملاحظہ ہو۔
جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن… سر ظفر اﷲ نے افتتاح کیا
لندن ۳؍اگست (نمائند جنگ) جماعت احمدیہ کا پہلا یورپی کنونشن جماعت کے لندن مرکز میں منعقد ہورہا ہے۔ جس میں تمام یورپی ممالک کے احمدیہ مشن شرکت کر رہے ہیں۔ کنونشن کا افتتاح گذشتہ روز ہیگ کی بین الاقوامی عدالت کے جج سرظفر اﷲ نے کیا۔ یہ کنونشن ۷؍اگست تک جاری رہے گا۔ جماعت نے مختلف پچھتر ممالک میں اپنے مشن قائم کر لئے ہیں۔ برطانیہ میں جماعت کے اٹھارہ مرکز قائم ہوچکے ہیں۔ کنونشن میں شریک مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر احمدی جماعت برسر اقتدار آجائے تو امیروں پر ٹیکس لگائے جائیں اور دولت کو از سر نو تقسیم کیا جائے اور سود پر پابندی لگادی جائے اور شراب نوشی ممنوع قرار دی جائے۔
(روزنامہ جنگ راولپنڈی ۴؍اگست ۱۹۶۵ئ، فرسٹ ایڈیشن وچناب ایڈیشن ج۷ ص۳۰۹)
ربوے کے ڈکٹیٹر مرزامحمود قادیانی کی بھی سنئے۔ آپ نے الفضل ۱۳؍اگست ۱۹۴۸ء میں کوئٹہ میں خطبہ دیا۔ (بلوچستان میں تو صرف پانچ چھ لاکھ انسان بستا ہے۔ اس میں بڑی مشکل