بھی ظفر اﷲ خاں کی حسن کارکردگی کا حدود اربعہ بحسن وجود بالکل واضح ہوکر منظر عام پر آجاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے:
’’بھارت کے مشہور اخبار ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ میں بھارت کے سابق کمشنر مسٹر سری پر کاش کی قسط وار خود نوشت سوانح عمری چھپ رہی ہے۔ جس میں انہوں نے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور عالمی عدالت کے جج سر محمد ظفر اﷲ خان کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ ۱۹۴۷ء میں انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کو بیوقوف قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر پاکستان بن گیا تو اس سے ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ مسٹر سری پرکاش نے مزید لکھا ہے کہ کچھ عرصہ بعد جب کراچی میں سر ظفر اﷲ سے ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا کہ اب قائداعظم اور پاکستان کے بارے میں کیا خیال ہے تو انہوں نے کہا میرا جواب اب بھی وہی ہے جو پہلے دن تھا۔ مسٹر سری پرکاش کی یادداشت کے اس حصہ کی طرف جب چوہدری ظفر اﷲ کی توجہ مبذول کرائی گئی تو انہوں نے اس کی تردید کی اور یہ کہا کہ قائداعظم تو مجھے اپنا سیاسی بیٹا سمجھتے تھے اور مجھ پر آخری دم تک مہربان تھے۔‘‘ مشرق میں راجہ غضنفر علی خان مرحوم کی سرگذشت شائع ہورہی ہے۔ جسے سید نور احمد نے مرتب کیاہے۔ اس سرگذشت میں بھی سر محمد ظفر اﷲ خان پر ایک سنگین الزام عائد کیاگیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے: ’’ضلع گورداسپور کے سلسلہ میں ایک بات اور بھی قابل ذکر ہے۔ اس کے متعلق سر محمد ظفر اﷲ خاں (جو مسلم لیگ کی وکالت کر رہے تھے) خود بھی ایک افسوس ناک حرکت کر چکے تھے۔ انہوں نے قادیانی جماعت کا نقطۂ نظر عام مسلمانوں سے جن کی نمائندگی مسلم لیگ کر رہی تھی جداگانہ حیثیت سے پیش کیا۔ جس سے مسلمانوں کا کیس کمزور ہوگیا۔ سر محمد ظفر اﷲ خاں کو اس الزام کا جواب بھی دینا چاہئے۔ اب رہا یہ سوال کہ موصوف نظریہ پاکستان کے حامی تھے یا نہیں؟ اور وہ قائداعظم کو کیا سمجھتے تھے؟ تو اس کا اندازہ اس قابل تردید واقعہ سے کیا جاسکتا ہے کہ سر محمد ظفر اﷲ خان نے کراچی میں موجود ہوتے ہوئے قائداعظم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ اسی طرح لاہور میں ہوتے ہوئے حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ انتہاء یہ ہے کہ انہوں نے اپنے محسن سر فضل حسین کی نماز جنازہ میں بھی شرکت نہیں کی۔ محض اس وجہ سے کہ وہ مسلمان تھے اور موصوف کے عقیدے کے مطابق کوئی احمدی کسی مسلمان کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کر سکتا۔ یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ سر ظفر اﷲ اخان جس مذہب سے تعلق رکھتے