اِنَّ الرَّجُلَ لَیَنْصَرِفُ، وَمَا کُتِبَ لَہٗ اِلاَّ عُشْرُ صَلاَ تِہٖ تُسْعُہَا ثُمُنُہَا سُبْعُہَا سُدُسُہَا خُمْسُہَا رَبْعُہَا ثُلُثُہَا نِصْفُہَا۔
(ابوداؤد: باب ما جاء فی نقصان الصلاۃ)
ترجمہ: آدمی نماز سے فارغ ہوتا ہے اور اس کے لئے ثواب کا دسواں حصہ لکھا جاتا ہے، اس طرح بعض کے لئے نواں ، آٹھواں ، ساتواں ، چھٹا، پانچواں ، چوتھائی، تہائی، آدھا حصہ لکھا جاتا ہے۔
یعنی جس قدر نماز میں خشوع ہوتا ہے اتناہی زیادہ اجر وثواب ملتا ہے، اور جتنا خشوع میں کمی ہوتی ہے اتناہی ثواب کم ہوتا ہے۔
(۳) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَلصَّلاَ ۃُ مَثْنیٰ مَثْنیٰ، تَشَہُّدٌ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَتَضَرُّعٌ وَتَخَشُّعٌ وَتَمَسْکُنٌ ثُمَّ تُقْنِعُ یَدَیْکَ یَقُوْلُ: تَرْفَعُہُمَا اِلیٰ رَبِّکَ عَزَّوَجَلَّ مُسْتَقْبِلاً بِبُطُوْنِہِمَا وَجْہَکَ تَقُوْلُ یَا رَبِّ یَا رَبِّ ثَلاَثاً فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ کَذٰلِکَ فَہِیَ خِدَاجٌ۔ (مسند احمد: ۴؍۱۹۷)
ترجمہ: نماز کی دو رکعتیں اس طرح پڑھو کہ ہر دو رکعت کے آخر میں تشہد پڑھو، نماز میں عاجزی، آہ وزاری، خشوع وسکون اور مسکنت کا اظہار کرو، نماز سے فراغت کے بعد اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اپنے رب کے سامنے اس طرح اٹھاؤ کہ دونوں ہاتھوں کی تھیلیاں تمہارے چہرے کی طرف ہوں ، پھر تین بار یارب یارب کہہ کر دعا کرو، جس نے اس طرح نہ کیا اس کی نماز اجر وثواب کے لحاظ سے ناقص ہوگی۔
(۴) ارشاد نبویؐ ہے:
اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا قَامَ یُصَلِّیْ أَقْبَلَ اللّٰہُ عَلَیْہِ بِوَجْہِہٖ حَتّٰی یَنْقَلِبَ اَوْ یُحْدِثَ حَدَثَ سُوْئٍ۔ (ابن ماجہ)
ترجمہ: آدمی جب نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، تو اللہ اس کی طرف