پر نازل کیا؛ تاکہ سارے جہان والوں کے لئے خبردار کردینے والا ہو۔
مؤمن جب نماز ادا کرتا ہے اور قعدہ میں ہوتا ہے تو توحید ورسالت کی شہادت دیتا ہے، وہاں بھی ’’عبد‘‘ کا لفظ ’’رسول‘‘ سے پہلے لاکر کہتا ہے:
اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔
ترجمہ: میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں ۔
پیغمبر علیہ السلام کے علاوہ اللہ جب اپنے مؤمن بندوں پر اپنی شفقتِ بے پایاں کا اظہار فرماتا ہے تو اس موقع پر بھی ’’عباد‘‘ (بندوں ) کا لفظ استعمال فرماتا ہے، سورۂ فرقان کے آخری رکوع میں اہل ایمان کے مختلف امتیازی اوصاف کا تذکرہ آیا ہے، اس کے آغاز میں ’’عباد الرحمن‘‘ (رحمان کے بندے) کا لفظ مذکور ہے۔
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلیٰ اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ، اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعاً، اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔ (الزمر: ۵۳)
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمادیجئے کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ، یقینا اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے، وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔
گنہگاروں کو مایوسی اور ناامیدی سے روکا جارہا ہے، اور اللہ بڑے پیار سے ان کو مخاطب فرمارہا ہے کہ اے میرے بندو! تم نے بڑے گناہ کئے ہیں مگر ناامید نہ ہو، تمہارے گناہوں سے بڑھ کر میری رحمت ہے، توبہ کرو اور میری طرف پلٹ آؤ، میں تم کو بخش دوں گا۔