کے پس منظر بالخصوص، تحریک کشمیر کے حالات وواقعات کی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔ کشمیر کمیٹی کی آڑ میں قادیانیوں نے جو کچھ کیا وہ ایک حضرت علامہؒ کیا سب مسلمان رہنماؤں کے لئے تشویش کا موجب تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک کشمیر کے بعد قادیانیوں کی مخالفت شدید سے شدید تر ہوگئی۔ اس میں مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور اپنے حقوق کے تحفظ کے احساس اور جذبے کو بھی دخل تھا۔ قادیانی جو چاہیں کہیں۔ حقیقت یہی ہے اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ظفر اﷲ خاں نہ تو حضرت علامہؒ کے کبھی حریف رہے نہ رقیب۔ پھر حضرت علامہؒ ان باتوں سے ماوراء قسم کے انسان تھے۔ ایگزیکٹو کونسل کی رکنیت ظفر اﷲ خاں کے لئے کوئی اعزاز ہو تو ہو۔ حضرت علامہؒ کے نزدیک پرکاہ کے برابر حیثیت نہ رکھتی تھی۔ حضرت علامہؒ نے قادیانی فتنے کا احتساب ۱۹۳۳ء سے اپنی وفات تک برابر جاری رکھا۔ مگر اس دوران کی کسی ایک تحریر کے کسی ایک حرف سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ انہیں سر ظفر اﷲ خان سے کوئی ذاتی پرخاش تھی یا وہ ان کے ایگزیکٹو کا ممبر بن جانے کے باعث قادیانیت کی مخالفت تک پہنچ گئے۔ بلکہ اس کے برعکس وہ اپنے ایک مضمون ’’قادیانی اور جمہور مسلمان‘‘ (مطبوعہ ۱۹۳۵ئ) میں لکھتے ہیں: ’’اگر کوئی گروہ جو اصل جماعت کے نقطۂ نظر سے باغی ہے۔ حکومت کے لئے مفید ہے تو حکومت اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ دوسری جماعتوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوسکتی۔ لیکن یہ توقع رکھنی بیکار ہے کہ خود جماعت ایسی قوتوں کو نظرانداز کر دے جو اس کے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ ہیں۔‘‘
اور اگر بالفرض مسلمانوں کے حقوق پامال ہوتے دیکھ کر (کیونکہ سرظفر اﷲ خاں کو سرفضل حسین کی جگہ ایگزیکٹو کا رکن لیاگیا تھا۔ جو ایگزیکٹو میں مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے شامل تھے) وہ اس تقریر پر احتجاج کرتے یا قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کرتے (تاکہ مسلمان کہلا کر وہ اسلامیان ہند کے حقوق سے متمتع نہ ہوسکیں) تو کیا یہ غلط ہوتا؟
بہرحال حضرت علامہؒ کی لڑائی اصولی تھی، ذاتی نہ تھی اور ویسے بھی وہ گھٹیا سیاسی مفاد کی خاطر مذہب کو آڑ بنانے کے قائل نہ تھے۔ انہوں نے محض ملک وملت کے بہترین مفاد کو سامنے رکھ کر قادیانیت کی مخالفت کی اور ایسا کرنا ان کے لئے ناگزیر تھا۔
(اب آپ جو کچھ پڑھیں گے وہ سب حضرت علامہؒ کے اپنے قلم سے ہے۔ ہاں متن کے ساتھ ساتھ جملہ حواشی میرے قلم کی زیادتی ہیں۔ مرتب!)