برس سے یہ سب باہم کٹے پھٹے اور جداجدا ہیں۔ عملاً ابھی تک ایک نہیں ہوسکے؟ واقعہ یہ ہے کہ یہ سب فرنگی سیاست کے برگ وبار اور مسلمانوں کی سادہ لوحی کا نتیجہ ہے۔ انگریز جانتا تھا (اور مغربی استعمار بلکہ ہر قسم کے استعمار کی سوچ اب بھی یہی ہے) کہ اگر مسلمانوں میں نظریاتی وجغرافیائی اتحاد کے ساتھ ساتھ سیاسی اتحاد بھی ہوگیا تو یہ کتنی بڑی طاقت بن جائیں گے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ مسلمان دنیا میں سمٹنے کے لئے نہیں، پھیلنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اس کے برٹش ایمپائر کے سنہرے وتوسیع پسندانہ خواب کی تعبیر میں دنیائے اسلام ایک بڑی بلکہ سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ اسنے یہ سب کچھ سامنے رکھ کر مسلمانوں کو فنا کرنے کی تدابیر سوچیں اور اپنی طے شدہ پالیسی کے مطابق فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں انتشار پسند اور حریص عناصر کی حوصلہ افزائی کر کے انہیں اندر سے کھوکھلا کیا اور مختلف گروہوں میں بانٹا جائے۔ ان کے درمیان ایسے مسائل اور ایسی تحریکیں پیدا کی جائیں کہ وہ کبھی ایک عظیم طاقت بن کر نہ ابھر سکیں۔ سلطنت عثمانی کی شکست وریخت ہویا چھوٹی چھوٹی عرب ریاستوں کا قیام، اعلان بالفور ہو یا ریڈ کلف ایوارڈ، ایران کا بہائی فتنہ ہو یا ہندوستان کا قادیانی فتنہ، اس نے وہی چال چلی اور وہی مہرے چنے جن میں اس کا فائدہ اور مسلمانوں کا نقصان زیادہ سے زیادہ تھا۔
سلطان ٹیپو ہندوستان کے مسلمانوں کی آخری امید تھا اور اس نے مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو واپس لانے کی خاطر بڑی بہادری سے جنگیں لڑیں۔ مگر اس کی شہادت کے ساتھ یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان اور روما کی عظمت کا چراغ گل ہوگیا اور نتیجتاً انگریزی استبداد کا دیو بوتل کے جن کی طرح کھل کر سامنے آگیا۔ ۱۸۵۷ء سے پہلے ہندوستان پر انگریز تاجروں کی حکومت تھی اور وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے لوٹ کھسوٹ کر رہے تھے۔ بظاہر ان کے لئے خطرے کی کوئی بات نہ تھی۔ مگر ۱۸۳۱ء میں سید احمد شہیدؒ کی تحریک جہاد نے ان کے کان کھڑے کر دئیے۔ ابھی اس تحریک کے اثرات ونتائج کو وہ زائل نہ کر سکے تھے کہ ۱۸۵۷ء میں ان پر براہ راست وار ہوگیا۔ دہلی، لکھنؤ، میرٹھ، کانپور، اودھ، روہیل کھنڈ، بندہیل کھنڈ اور گوالیار انگریزوں کے خلاف آتش فشاں بن گئے۔ اگرچہ آخری مغل تاجدار بہادر شاہ میں جان نہ تھی تاہم اس کا نام ہندوستان بھر میں گونجنے لگا۔ انگریزوں کے لئے یہ بڑا کٹھن وقت تھا اور اگر اس وقت انہیں ہندوستان کے غداران ازلی کا تعاون حاصل نہ ہوجاتا اور مسلمان اور ہندو باہم سوچ سمجھ کر جنگ کرتے اور اتحاد عمل کا ثبوت دیتے تو انگریزی اقتدار کی بساط الٹی جا چکی تھی۔ مگر افسوس ایسا نہ ہوسکا۔