مذکورہ بالا الفاظ کو پڑھ کر ہر شخص بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ یہ نہایت ہی بااخلاق اور مہذب انسان کا کلام ہے۔ جو دشمنوں کے دلوں کو بھی تنگ کرنا نہیں چاہتا۔ جسے اپنے غیض وغضب پر اس قدر قابو ہے کہ وہ گالیاں سن کر بھی چیں بجبیں نہیں ہوتا۔ بلکہ دعائیں دیتا ہے۔ بھلا ممکن ہے کہ ایسا شخص کسی کے حق میں بدزبانی کرے اور اسے بھلا برا کہے۔ مگر نہیں ابھی آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مرزاقادیانی کے قول وفعل میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ وہ زبان سے تو تہذیب اور شائستگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر ان کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کے بعد ہر شخص اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ تہذیب ماشاء اﷲ آپ کو چھو نہیں گئی اور آپ کی تمام کتابیں فحش گالیوں اور بیجا حملوں سے بھری پڑی ہیں۔ ہم اپنے دعویٰ کی تائید میں صرف چند ایک کتابوں سے ان کی تہذیب اور شائستگی کے نمونے دکھاتے ہیں۔ اس سے ناظرین اندازہ کر لیں کہ باقی کتب میں کیا کچھ بھرا ہو گا۔ سنئے:
۱… ’’اٰخرہم شیطان الاعمی والغول الاغویٰ بقال لہ رشید احمد جنجوہی وھو شقی کالامروھی ومن ملعونین‘‘ یعنی سب سے آخر شیطان اور دیو گمراہ ہے کہ جسے رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں اور محمد حسن امروہی کی طرح بدبخت ملعون ہے۔
(مکتوب عربی ص۲۵۲، خزائن ج۱۱ ص۲۵۲)
۲… ’’یہودی صفت مولوی اور ان کے چیلے ان کے ساتھ ہوںگے۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۳، خزائن ج۱۱ ص۲۸۷)
۳… ’’شاید بعض بدذات مولوی منہ سے اقرار نہ کریں۔‘‘
(ضمیمہ انجام آتھم ص۶، خزائن ج۱۱ ص۲۹۰)
۴… ’’مردار اور خبیث فرقہ۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۹، خزائن ج۱۱ ص۲۹۳)
۵… ’’خنزیر سے زیادہ پلید … اے مردار خور مولویو اور گندی روحو… اے اندھیرے کے کیڑو۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۲۱، خزائن ج۱۱ ص۳۰۵)
۶… ’’بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شتر مرغ الہام کے معارف کو سنتے ہی جلد بول اٹھتے ہیں کہ یہ کچھ حقیقت نہیں… لیکن جاننا چاہئے کہ یہ سب شیاطین الانس ہیں۔‘‘ (ضمیمہ انجام آتھم ص۱۸، خزائن ج۱۱ ص۳۰۲)