جانتے ہیں کہ مناظرہ میں فحش بیانی سخت کلامی بدزبانی بلکہ گالی کو سننے کا مرزاقادیانی نے سرکار سے ٹھیکہ لے لیا ہے۔ آپ اس فن کے جگت استاد مانے جاتے ہیں۔ ہر مذہب کے بزرگوں کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ آپ کے دست وزبان سے کسی مؤمن کو امان نہیں۔ بلکہ حق تو یہ ہے کہ آپ ہی کی انشاء پردازی سے گبر ومسلمان کا چلن بگڑا۔‘‘
مولوی چراغ دین جموی لکھتے ہیں کہ: ’’ہندوستان میں جو شخص دینی مباحثہ میں اپنی بدزبانی اور دریدہ دہنی بلکہ فحش کلامی کے لئے شہرہ آفاق ہوا۔ جس کی نسبت اہل الرائے کی یہ مستقل رائے ہے کہ دینی مناظرہ میں گندگی اور خباثت کے چلن کو اس نے رواج دیا۔ جو اس فن کا استاد اور موجد ہے۔ وہ مرزاقادیانی ہے۔‘‘ (رسالہ تجلے سنہ۱۹۲۷ئ)
لیکن یہ ایک عیسائی اور ایک مخالف مسلمان کی رائے ہے اور اگر ہم حقیقت حال دریافت کئے بغیر صرف اسی پر انحصار کر کے مرزاقادیانی کے خلاف فیصلہ دے دیں تو بڑی بے انصافی ہوگی۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی مرزاقادیانی ایسے بدزبان، فحش بیان اور گندہ دہن تھے۔ یا یہ محض ان پر افتراء ہے۔ کیا مرزاقادیانی اس الزام کو قبول کرتے ہیں؟ اور اس کی سچائی کے معترف ہیں۔ نہیں وہ تو فرماتے ہیں کہ: ’’ھو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق وتہذیب الاخلاق‘‘ یعنی خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب الاخلاق کے ساتھ بھیجا۔ (اربعین نمبر۳ ص۳۵، خزائن ج۱۷ ص۴۲۵)
پھر ضرورت امام میں لکھتے ہیں کہ: ’’چونکہ اﷲتعالیٰ جانتا ہے کہ اس کو دنیا کے بے ادبوں اور بدزبانوں سے بھی مقابلہ پڑے گا۔ اس لئے اخلاقی قوت (یہی امام کو) درجہ کی عطاء کی جاتی ہے۔‘‘ (ضرورت امام ص۷، خزائن ج۱۳ ص۴۷۷)
اور مرزاقادیانی کا دعویٰ ہے کہ: ’’راستی کو تہذیب اور نرمی سے بیان کرنا ہمارا شیوہ ہے۔ بخدا ہم دشمنوں کے دلوں کو بھی تنگ کرنا نہیں چاہتے۔‘‘
(رسالہ شحنۂ حق ص ج، خزائن ج۲ ص۳۲۶)
پھر آپ اپنے رحم وحلم اور صبر وضبط کو کس خوبصورت اور مؤثر پیرایہ میں بیان کرتے ہیں کہ:
گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے
(آئینہ کمالات اسلام ص۲۲۵، خزائن ج۵ ص ایضاً)