۱۲… ’’کس طرح کوئی نبی بعد ہمارے نبی کے آسکتا ہے۔ حالانکہ آنحضرت کی وفات کے بعد وحی نبوت بند ہوچکی ہے۔‘‘
(حمامتہ البشریٰ ص۲۰، خزائن ج۷ص۲۰۰)
۱۲… ’’اس وقت میں ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم کے نمونے پر وحی اﷲ پانے میں تیئس برس کی مدت دی گئی ہے۔‘‘
(اربعین ص۲۲، خزائن ج۱۷ص۴۰۹)
۱۳… ’’مولوی عبدالکریم کے لئے بہت دعا کرتے رہے۔ اس پر الہام ہوا۔ ’’الطلع البدر علینا‘‘ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مولوی عبدالکریم صحت یاب ہوگا۔‘‘
(ملفوظات ج۸ ص۲۸۴، اخبار الحکم مورخہ ۲۴؍ستمبر ۱۹۰۵ئ)
۱۳… ’’گیارہ اکتوبر کو ہمارے ایک مخلص دوست مولوی عبدالکریم ایسی بیماری کاربنکل یعنی سرطان سے فوت ہوگئے۔ اس کے لئے بھی میں نے دعاء کی تھی۔ مگر ایک الہام بھی ان کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۲۲۶، خزائن ج۲۲ ص۳۳۹)
۱۴… (اے شیعہ لوگو) ’’تم نے ایسے کشتہ سے نجات چاہی کہ جو نومیدی کے ساتھ مرگیا۔‘‘
(اعجاز احمدی ص۸۱، خزائن ج۱۹ ص۱۹۳)
کربلائے است سیر ہر آنم
صد حسین است درگریبانم
(درثمین فارسی ص۱۷۱)
یعنی ہر گھڑی مجھے سیر کربلا میسر ہے۔ سینکڑوں حسین تو میں جیب میں لئے پھرتا ہوں۔
۱۴… ’’حسینؓ طاہر ومطہر تھا اور بلاشبہ ان برگزیدوں میں سے ہے جن کو اﷲتعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنی محبت سے معمور کرتا ہے اور بلاشبہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمانی ہے اور اس امام کا تقویٰ اور محبت الٰہی اور صبر واستقامت اور زہد وعبادت ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی… غرض یہ امر نہایت درجہ شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسینؓ کی تحقیر کی جائے۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۵۴۵)
ان تناقضات کے دیکھنے کے بعد اب آپ چاہیں بقول ان کے انہیں منافق کہیں یا