کہ غوث قطب ولی جتنے بزرگ امت محمدیہ میں گذرے ہیں۔ ان کا ایمان صحابہ کے ایمان کے برابر نہیں ہوسکتا اور اس شرف کو نہیں پاسکتے۔ جو صحابہ عظام نے پایا۔ کیونکہ انہوں نے محمد رسول اﷲﷺ کا چہرہ دیکھا۔ مگر اﷲ نے ہمیں محمد رسول اﷲ کا چہرۂ مبارک دکھا کر اس کی صحبت سے مستفاد کر کے صحابہ کرامؓ کے گروہ میں شامل کر دیا۔‘‘
(الفضل ۲۷؍دسمبر۱۹۱۴ء ص۷، بحوالہ قادیانی فتنہ ص۳۸،۳۹)
خود مرزاقادیانی بھی گوہر افشانی فرماتے ہیں کہ: ’’صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا۔‘‘
ناظرین کرام! کے سامنے اب اور بھی پوری وضاحت ہوگئی کہ نہ صرف یہ کہ مرزائیوں کا محمد رسول اﷲ اور ہے بلکہ ان کے محمد رسول اﷲ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے بھی اسی طرح صحابہ ہیں۔جیسے کہ نعوذ باﷲ تاجدار مدینہ رحمتہ اللعالمین کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے صحابی تھے اور جیسے کہ حضور کی ازواج مطہرات کا نام اﷲ تعالیٰ نے امہات المؤمنین رکھا ہے۔ جیسا کہ ازواجہ، امہاتہم کا خطاب نازل فرمایا ہے۔ اسی طرح مرزاغلام احمد قادیانی کی بیوی بھی مرزائیوں کی ام المؤمنین ہے اور جس طرح خانۂ کعبہ کو اﷲتعالیٰ نے مسجد الحرام فرماکر حرم پاک بنایا۔ ارشاد فرمایا ہے۔ مرزاقادیانی بھی قادیان کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین اردو ص۵۲)
اور مرزامحمود احمد قادیانی اپنی کتاب منصب خلافت میں لکھتے ہیں: ’’قادیان کی نسبت اﷲتعالیٰ نے ’’انہ اوی القریۃ‘‘ فرمایا۔ یہ بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔‘‘ (منصب خلافت ص۳۴،۳۵)
لیکن ایک نہایت اہم بات لکھنے سے پہلے یہ بھی لکھ دوں کہ یہ بھی اعتراض ہوسکتا ہے کہ مفتی مرزائیت نے تو لکھ دیا ہے کہ ہم نے مرزاقادیانی کو بحیثیت مرزا نہیں بلکہ محمد رسول اﷲ سمجھ کر مانا ہے۔ مگر دوسرے مرزائی مرزاقادیانی کو محمد رسول اﷲ نہیں مانتے ہوںگے۔
اب میں ایک مشہور مرزائی شاعر جس سے میں خود بھی قیام قادیان کے دوران اپنے بعض اشعار کی اصلاح لیا کرتا تھا اور جن کا نام قاضی ظہور الدین صاحب اکمل تھا، نے اپنی ایک نظم میں چند اشعار لکھے ہیں۔ جو درج ذیل کرتا ہوں۔ انہوںنے بھی مرزاقادیانی کو محمد رسول اﷲ کے طور پر ظاہر کیا ہے۔ بلکہ حضورﷺ سے بھی بڑھ کر۔ اشعار