نہیں ہلتا؛ لیکن ان کے مقابلہ میں ایک ایمانی اور ربانی سجدہ ہو تو وہ کایا پلٹ دیتا ہے:
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزارو سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
دین اسلام کا ہر متبعِ اسلام سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ رسمی، سطحی، قومی اور دکھاوے کی نماز وعبادت کے بجائے ایمانی وللہی نماز وعبادت کی طرف رجوع ہو۔ ایک حدیث میں اس کا واضح فرق بھی اس طرح بتایا گیا ہے کہ:
مَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا کَانَتْ لَہٗ نُوْراً وَبُرْہَاناً وَنَجَاۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ لَمْ یُحَافِظْ عَلَیْہَا لَمْ یَکُنْ لَہٗ نُوْراً وَلاَ بُرْہَاناً وَلَا نَجَاۃً، وَکَانَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ فِرْعَوْنَ وَہَامَانَ وَاُبَیِّ بْنِ خَلْفٍ۔ (بیہقی)
ترجمہ: جو شخص نماز کا اہتمام پابندی اور حفاظت کرتا ہے تو نماز اس کے لئے قیامت کے دن نور، اس کے ایمان کی دلیل اور عذاب سے نجات کا باعث ہوگی، اور جو نماز کا اہتمام، پابندی اور حفاظت نہیں کرتا، تو اس کے لئے نہ تو قیامت کے دن کوئی نور ہوگا، نہ دلیل ہوگی اور نہ عذاب سے نجات کا کوئی ذریعہ ہوگا؛ بلکہ وہ قیامت کے دن فرعون وہامان اور ابی ابن خلف (جیسے کافروں ) کے ساتھ (جہنم میں ) ہوگا۔
شاعر اسلام علامہ اقبال نے بھی رسمی اور ایمانی دونوں نمازوں کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ امت میں رسمی عبادتیں تو ہیں ، مگر روح سے خالی اور بے جان ہیں ۔
رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے