چھپے خرچ کرتے ہیں ، یقینا وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس کے لئے کبھی کساد بازاری نہیں ہے۔
اس آیت میں اللہ کی معرفت رکھنے والے علماء حق کے تین اوصاف ’’تلاوتِ کتاب، اقامت صلاۃ اور انفاق‘‘ کا ذکر آیا ہے، حقیقت یہی ہے کہ یہی تین امور دین کے اصل محافظ اورخوفِ خدا کی بنیادی نشانیاں ہیں ، قرآن نے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ یہود اپنی کتاب کو فراموش اور نماز کو ضائع کرچکے تھے، اور زرپرستی میں غوطہ زن تھے، جب کہ مخلص اہل ایمان کے اوصاف یہاں اس سے مختلف مذکور ہیں ۔
(۱۰) مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ، وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ، تَرَاہُمْ رُکَّعاً سُجَّداً یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَاناً، سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ۔ (الفتح: ۳۹)
ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں ، اور جو ان کے صحبت یافتہ ہیں وہ کفار پر سخت آپس میں رحم دل ہیں ، تم ان کو اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں رکوع وسجود میں سرگرم پاؤگے، ان کا امتیاز ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان سے ہے۔
اس آیت میں صحابہ کے اوصاف کا بیان ہے، ان کا پہلا وصف ’’دشمنوں کے مقابلہ میں سخت اور باہم رحیم‘‘ ان کے کمالِ ایمان کا ثبوت ہے، اور ان کا دوسرا وصف ’’رکوع وسجود میں سرگرمی‘‘ ان کے کمال عمل کی دلیل ہے، اور پھر یہ بتایا جارہا ہے کہ نماز ان کا ایسا لازمۂ زندگی اور وظیفۂ حیات بن گیا ہے کہ بندگی، سجدہ اور نماز کے آثار وانوار ان کے چہروں پر نمایاں وروشن رہتے ہیں ، اور ان کے چہروں کی تابانی اور جمال اس کی شہادت دیتے ہیں کہ وہ بندگانِ خدا میں انبیاء کے بعد سب سے افضل ہیں ۔
mlm