یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ۔
(البقرۃ: ۲-۳)
ترجمہ: یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ، یہ ان خدا ترسوں کے لئے ہدایت ہے جو بے دیکھے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، اور ہمارے عطا کردہ رزق میں سے راہِ خدا میں خرچ کرتے ہیں ۔
اس آیت میں نماز کی پابندی کرنے والوں کو متقی، خدا ترس، قرآنی ہدایت کا اولین مستحق بتایا جارہا ہے اور آگے چل کر یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایسے لوگ دنیوی واخروی فلاح سے بہرہ ور ہوتے ہیں ، گویا اس میں نماز کے تین فوائد کا ذکر ہے: (۱) تقویٰ اور خدا ترسی کا مقام ملنا (۲) ہدایتِ قرآنی وربانی کا مستحق ہونا (۳) دنیوی واخروی فلاح سے بہرہ مند ہونا۔
(۲) اِنَّآ اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْاَبْتَرُ۔ (الکوثر: ۱-۳)
ترجمہ: ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کیا ہے، لہٰذا آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے، آپ کا دشمن بے نام ونشان ہے۔
علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
’’اتنے بڑے انعام واحسان (خیر کثیر) کا شکر بھی بہت بڑا ہونا چاہئے۔ تو چاہئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی روح، بدن اور مال سے برابر اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیں ، بدنی وروحی عبادات میں سب سے بڑی چیز نماز ہے، اور مالی عبادات میں قربانی ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے‘‘۔ (فوائد عثمانیہ ۸۰۴)
قرآنِ کریم میں دوسری جگہ بھی نماز اور قربانی کا ذکر ساتھ ساتھ کیا گیا ہے:
قُلْ اِنَّ صَلاَ تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (الانعام: ۱۶۳-۱۶۴)