ب… دوسرا مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ اس پر وحی ربانی بھی آتی ہو لیکن وحی کے لئے اﷲتعالیٰ نے اس کا انتخاب براہ راست نہ فرمایا ہو بلکہ کسی دوسرے اصلی نبی نے اسے منتخب کیا ہو۔
یہ مفہوم بھی غلط مہمل اور تناقض پر مشتمل ہے۔ نبی کے معنی ہی یہ ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے اسے اپنی وحی کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ ہر نبی اﷲ تعالیٰ کا منتخب کیا ہوا ہوتا ہے۔ کسی شخص کو ایک طرف نبی اور مہبط وحی کہنا اور دوسری طرف یہ کہنا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کا منتخب کیا ہوا نہیں ہے۔ صریح تناقض بیان ہے۱؎۔
ج… تیسرے معنی کے لحاظ سے اس لفظ کا مصداق ایسے شخص کو قرار دیا جاسکتا ہے جو صاحب وحی بھی ہو اور منجانب اﷲ منتخب بھی۔ مگر کوئی مستقل شریعت لے کر نہ آئے بلکہ کسی دوسرے نبی کی شریعت کا اتباع اور اسکی تبلیغ کرے۔
اس معنی کے لحاظ سے بھی یہ لفظ بے معنی ہی رہتا ہے اور ظلی وبروزی کا لفظ اس مفہوم سے اباء و انکار کرتا ہے۔ اس کا لغوی مفہوم تو یہ بتاتا ہے کہ وہ شخص مستقل نبی نہ ہو۔ لیکن مندرجہ بالا شخصیت کو یقینا مستقل نبی کہنا پڑے گا۔ کیونکہ نبوت کی حقیقت صرف منجانب اﷲ انتخاب اور مہبط وحی ہونے پر ختم ہو جاتی ہے۔ جس شخص میں یہ دونوں باتیں موجود ہوں کیا وجہ ہے کہ اس کی نبوت کو مستقل اور اصلی نہ کہا جائے۔ مستقل اور علیحدہ شریعت نہ لانے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ صاحب شریعت نہیں ہے۔ لیکن نبوت کو غیر مستقل اور ظلی وبروزی کہنا بالکل غلط اور تناقض بیان ہے۔ اس کے علاوہ اگر محض دوسری شریعت کی اتباع اور تبلیغ کی بناء پر کسی نبی کو غیر مستقل اور ظلی وبروزی کہنا صحیح ہو تو بکثرت ایسے انبیاء اس کے حدود میں داخل ہو جائیں گے جن کا مستقل نبی ہونا ایک مسلمہ مسئلہ ہے۔
مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام کی کتاب زبور میں دعائیں اور مناجاتیں ملتی ہیں احکام بہت کم ملتے ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے شریعت یعقوبی کی پیروی فرماتے تھے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بعض جزئی ترمیمات کر کے تورات ہی کی پیروی کی اور اسی طرف دعوت دی۔ کیا یہ دونوں حضرات ظلی وبروزی نبی تھے؟ کیا انہیں مستقل نبی نہ کہا جائے گا؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام کون سی مستقل شریعت لائے تھے جو شریعت ابراہیمی سے علیحدہ کہی
۱؎ حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق کوئی غلط فہمی نہ ہونا چاہئے۔ ان کا انتخاب بھی اﷲتعالیٰ ہی نے فرمایا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صرف دعاء کی تھی اور انتظاماً انہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع کر دیا گیا تھا۔ ورنہ فی نفسہ وہ مستقل نبی اور مہبط وحی تھے۔