اب یہ جو کچھ مرزاقادیانی نے کہا ہے۔ اگرچہ غلط اور بیہودہ ہے۔ لیکن کہا اس لئے گیا کہ لوگ ان کی پیش گوئیوں کے جھوٹے نکلنے پر اعتراض نہ کریں اور سمجھیں کہ اولوالعزم انبیاء کی پیش گوئیاں غلط نکلتی ہیں تو میرے حق میں ایسا ہونا کون سا محل اعتراض ہے۔ یہ عذر نہایت لغو اور پوچ ہے۔ مگر اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ مرزاقادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی پیش گوئیاں غلط نکلیں اور پچھلے نبیوں کی نظیر تلاش کرتے ہیں اور یہی ہمیں ثابت کرنا تھا۔ جو ہم واقعات سے بھی کر چکے اور مرزاقادیانی کے اقرار سے بھی۔ ہاں اس سے ہمیں انکار ہے کہ خدا کے سچے نبیوں نے پیش گوئی کی ہو۔ خدا سے خبر پاکر کی ہو۔ پھر اسے اپنی صداقت کا نشان ٹھہرایا ہو اور وہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی ہو۔ یہ تو جھوٹے نبیوں کی علامت ہے۔ پھر آپ کے جھوٹا ہونے میں کون سی کسر ہے۔ مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہور سے قبل تیس دجالوں کا آنا ضرور ہے۔ جن میں سے ہر ایک کہے گا کہ میں رسول اﷲ ہوں اور عیسائیوں کو بھی خبر دی گئی ہے کہ بہت سے جھوٹے نبی پیدا ہوںگے اور ان دونوں نے آپ کو نہایت اچھی طرح پہچان لیا۔
ان اوراق میں ہم نے جہاں تک ممکن ہو سکا مرزاقادیانی کی سیرت کو ان کے اپنے الفاظ اور واقعات کی بناء پر بیان کر دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ میں مسیح ہوں، کون مسیح؟ جس کی نسبت لکھا ہے کہ وہ گالیاں کھا کر گالی نہ دیتا تھا جو دشمنوں کو باوصف ان کی شدید عداوت اور مخالف کے پیار کرتا تھا۔ جو رسہتا تھا اور مائل بہ کرم ہوتا تھا وہ مسیح جو لذات دنیوی سے مجتنب رہا۔ نہ گھر بنایا نہ کھانے پینے کی فکر کی اور نہ شادی کی۔ بلکہ پاک اور بے عیب زندگی بسر کر دی۔ انیس سو برس ہوئے جب وہ مسیح آیا تھا اور اب پھر اس کی آمد ثانی کی امید میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی آنکھیں فرش راہ ہیںَ لیکن اس کے نام پر کون آیا؟ گالیاں دینے والا وبائیں پھیلانے والا جس کی نسبت کسی نے کہا کہ پنجاب میں طاعون کے ساتھ پیدا ہوا۔ جو دنیا اور اس کی خواہشات میں غرق رہا۔ مال ومتاع جمع کیا۔ اچھا کھایا اور اہتمام کے ساتھ کھایا۔ پلاؤ، قورمہ، بادا م روغن یاقوتی وغیرہ ملذذات سے عیش اڑاتا رہا۔ جس نے کئی بیاہ کئے اور بیاہ شادیوں سے جی نہ بھرا۔ آخر ایک مغل زادی کی خواہش تزویج میں جان دے دی۔ اگر ناظرین اسی قسم کے مسیح کے منتظر تھے تو انہیں مژدہ ہوکہ وہ قادیان میں آچکا۔ بلکہ ایک گندہ لٹریچر چھوڑ کر اس جہان سے چل بسا اور اگر ایسا شخص مسیح الدجال ہے اور سچے مسیح کو ہنوز آنا ہے تو آؤ! ہم سب مل کر دعا کریں۔
جلد آ ماہ کرامت جلد آ