یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی
کہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہی
تری زندگی اسی سے، تری آبرو اسی سے
جو رہی خودی تو شاہی، نہ رہی تو رو سیاہی
سنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے
خودی اور خدا کی معرفت افراد واقوام کی زندگی کا حقیقی سرمایہ اور حاصل ہے، معرفت الٰہی جس دل کو حاصل ہوجاتی ہے وہ توحید کا سچا علم بردار بن جاتا ہے، وہ شرک کی تمام جلی وخفی، عیاں ونہاں صورتوں سے آخری حد تک گریزاں اور نفور ہوجاتا ہے، پھر وہ اللہ کے اخلاق واوصاف کو اپنانا اور ان کا پرتو بننا چاہتا ہے، وہ اپنی حیات ِ مستعار کا ہر لمحہ اللہ کے رنگ میں رنگ لیتا ہے، اور ظاہر ہے کہ:
ومن احسن من اللّٰہ صبغۃ۔ (البقرۃ)
ترجمہ: اللہ کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟
(۲) عقل میرے دین کی اصل ہے
عقل سلیم دین کی جڑ ہے، وہ کلیدی اہمیت کی حامل ہے، بے عقل افراد واقوام بے مقصد زندگی گذارتے ہیں ، دین کی بقاء وارتقاء کا دار ومدار عقل سلیم ہے۔ قرآن میں جابجا اللہ نے قرآن میں ، اپنی نعمتوں میں ، اپنی قدرت کے کمالات میں ، آفاق وانفس میں ، تاریخ عالم اور تاریخ اقوام وملل میں ، امتوں کے اسبابِ عروج وزوال میں ، تدبر وتفکر اور عقل کے استعمال کی اسی لئے دعوت وتاکید فرمائی ہے کہ اس کی مدد سے انسان حقیقت تک رسائی حاصل کرسکے گا، اور اپنے عمل کے لئے راہیں متعین کرے گا، عبرتیں حاصل کرے گا، سبق لے گا، وہ عقل کا استعمال کرے گا تو دل کی ناجائز خواہشات کے ہاتھوں میں اپنی لگام اور باگ نہیں دے گا، اس کے نفس کا سرکش گھوڑا اس کی عقل