پکارا کرو، یہ تیسرا مطلب زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے، فرماتے ہیں کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’یا محمد، یا أبا القاسم‘‘ کے الفاظ سے خطاب کرتے تھے، اللہ نے اپنے نبی کی تعظیم کے پیش نظر لوگوں کو اس طرح خطاب کرنے سے منع کردیا اور ’’یا نبی اللہ، یا رسول اللہ‘‘ کے الفاظ کہنے کا حکم دیا۔ (تفسیر ابن کثیر ۵؍۱۳۰)
مفسر قتادہ نے فرمایا: ’’اس آیت کے ذریعہ اللہ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ اس کے نبی کی عظمت واحترام اور رعب وہیبت اور عزت وجلال دلوں میں راسخ رہے‘‘۔ (ایضاً)
سید قطب شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ:
’’دلوں میں احترام رسول کے جذبات کا موجزن رہنا ضروری ہے، پیغمبر علیہ السلام کی شان میں نکلنے والے زبان کے ہر کلمہ سے احترام وعظمت ٹپکنا ضروری ہے، مربی کے لئے وقار وہیبت لازمی ہے، اس کا متواضع ونرم خو ہونا اپنی جگہ، مگر متبعین کے قلوب میں اس کی عظمت اور زبان سے اس کا اظہار بنیادی اہمیت رکھتا ہے‘‘۔ (فی ظلال القرآن ۴؍۲۵۳۵)
آیت کا پیغام مولانا آزاد رحمۃ اللہ علیہ کی زبان میں یہ ہے کہ: ’’اللہ کے رسول کے بلانے کو ویسا بلانا نہ سمجھو جیسا آپس میں ایک دوسرے کا بلاوا سمجھتے ہو، اس کی ہر صدا تمہارے لئے قانون ہے اور ہر بلاوا واجب التعمیل، یہاں سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ جو شخصیت جماعت کی ہدایت وقیادت کا مرکز ہو، ضروری ہے کہ اس کی صدائیں احترام کے ساتھ سنی جائیں ، ورنہ نظم جماعت درہم برہم ہوجائے گا۔ (ترجمان القرآن، مولانا آزادؒ ۴؍۱۰۰۶)
(۲) پیش قدمی سے ممانعت
قرآن میں وارد ہوا ہے:
یایہا الذین اٰمنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ واتقوا اللہ، ان اللہ سمیع علیم۔ (الحجرات: ۱)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی مت