کرو مہربانی تم اہل زمین پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر
خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر
نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر
(۴) شوق میرا راہ وار ہے
سوزِ دروں ، جذبِ اندروں ، طلب وآرزو وہ عناصر ہیں جو کسی بھی مشن کی ترقی اور اشاعت کے لئے اساسی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن سے بے پناہ عشق تھا، آپ کا مشن قرآن کی زبان میں الفاظ ومعانیٔ قرآن اور سنت کی تعلیم اور لوگوں کا تزکیہ تھا، اپنے اس مشن کی تکمیل کے لئے آپ کی دل سوزی اور شوق وعشق کا ذکر قرآن نے یوں کیا ہے کہ:
فلعلک باخع نفسک علی اٰثارہم ان لم یؤمنوا بہٰذا الحدیث اسفاً۔ (الکہف: ۶)
ترجمہ: شاید آپ ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھودیں گے، اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہیں لائے۔
مولانا آزاد کی زبان میں :
’’انبیائے کرام ہدایت واصلاح کے صرف طالب ہی نہیں ہوتے، عاشق ہوتے ہیں ، انسان کی گمراہی ان کے دلوں کا ناسور ہوتی ہے، اور انسان کی ہدایت کا جوش ان کے دل کے ایک ایک ریشے کا عشق، اس سے بڑھ کر ان کے لئے کوئی غمگینی نہیں ہوسکتی کہ ایک انسان سچائی سے منہ موڑلے، اس سے بڑھ کر ان کے لئے کوئی شادمانی نہیں ہوسکتی کہ ایک گمراہ قدم راہِ راست پر آجائے‘‘۔ (ترجمان القرآن ۲؍۳۴۸)
دعوت وتبلیغ دین کے ہر کارکن کی ذمہ داری یہی ہے کہ اسی شوق فراواں ، سوز وعشق اور تڑپ ولگن سے اپنے مشن کی اشاعت میں منہمک رہے، اور یہ وصف اگر میسر نہ آسکا تو پھر حیاتِ