Deobandi Books

حقوق العلم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

70 - 82
اور مثلاً کسی کے فیصلہ میں پڑنا گو فی نفسہٖ طاعت ہے، لیکن حسبِ ارشادِ نبوی کہ حضرت ابوذر ؓ  کو فرمایا تھا: لَا تَقْضِیَنَّ بَیْنَ اثْنَیْنِ۔1 ان ۔ُعلما۔َ  کو جو حکاّم نہیں ہیں اس میں پڑنا مناسب نہیں کہ اس میں بدنامی اور شبہ طرف داری کا ہوتا ہے، پھر جو نفعِ دین مسلمانوں کے ساتھ یکساں تعلق رکھنے سے ہوتا ہے وہ فوت ہوجاتا ہے۔ البتہ ایک صورت فیصلہ کی بہت اسلم یہ ہے کہ فریقین اگر درخواست کریں تو ان سے کہے کہ تم دونوں مل کر سوال لکھ کر اپنے اپنے دستخط کردو۔ پھر اس پر حکم شرعی بطور جواب لکھ کر حوالہ کرے کہ اس پر دونوں عمل کرلو یا کسی ثالث کو ۔َحکم۔َ مقرر کرکے اس سے نافذ کرالو۔ اور اسی مصلحت سے مناسب ہے کہ کسی شخص کے دنیوی معاملے میں دخل نہ دے، اور اسی مصلحت سے مناسب ہے کہ مالی معاملات سے علیحدہ رہے۔ مثلاً چندہ وصول کرنا یا اس کا تحویل دار بننا یا اس کے صرف کا اہتمام لینا یہ سب صورتیں بدگمانی اور تہمت کی ہیں۔ ایسے کام متد۔ّین رؤسا کے متعلق ہونا چاہیے، البتہ ان رؤسا کو چاہیے کہ جو کام کریں ۔ُعلما۔َ  سے حکمِ شرعی دریافت کرکے کریں۔


خاتمہ
اہلِ دنیا کا سلوک ۔ُعلما۔َ  کے ساتھ:
ان باہمی تعلقات کے بیان میں جو اہلِ دنیا اور اہلِ علم میں ہونے چاہئیں۔ مختصر ان کا یہ ہے کہ :
۱۔ دنیادار ۔ُعلما۔َ  کو اپنا مخدوم سمجھیں۔
۲۔ ان کا ادب اور تعظیم کریں۔
۳۔ وہ جو کام دین کا کررہے ہیں جس میں مال کی ضرورت ہو بدون ان کی استدعا کے اس میں اعانت کریں۔
۴۔ جو بات ان سے پوچھیں ادب سے پوچھیں۔
۵۔ دلائل دریافت نہ کریں۔
۶۔ اگر کوئی شبہ رہے معاندانہ سوال نہ کرے مستفیدانہ پوچھیں۔
۷۔ اگر ان سے کوئی لغزش ہوجائے تو ان کی مذمت نہ کریں آخر وہ بشر ہیں ان سے بھی خطا ہوتی ہے، وہ اس حال میں بھی تمہارے نفع اور ہدایت کے لیے کافی ہیں تم ان کے اقوال پر عمل کرو افعال کو مت دیکھو۔
۸۔ تمہارا شبہ ایک عالم سے حل نہ ہو دوسرے سے حل کرو اور ایک کا قول دوسرے سے رو برو مت نقل کرو۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 علومِ دینیہ سے بے رغبتی کے اسباب 9 1
3 اَلْبَابُ الْأَوَّلُ 10 1
4 دین کے اجزا 11 3
5 علمِ دین کے دو مرتبے 11 3
6 علم کے ہر مرتبہ کو سیکھنے کا شرعی حکم 13 3
7 ۔ُعلما۔َ سے علم حاصل کرنے کا طریقہ 13 3
8 دو شبہات کے جواب 14 3
9 کیا مولوی بننے سے پست خیالی او رکم ہمتی پیدا ہوتی ہے 17 3
10 باب اول کی تیسری فضل کے بعض اجزا کی ضروری توضیح اور تفریع 21 3
11 مال خرچ کرنے میں احتیاط بخل نہیں ہے 22 3
12 صرف عربی زبان جاننے کا نام مولوی نہیں ہے 23 3
13 باریک لکھنے پر اعتراض کا جواب 24 3
14 تواضع کو تذلل سمجھنا غلط ہے 24 3
15 کمروں کی صفائی نہ کرنے پر اعتراض اور اس کا جواب 25 3
16 طلبہ کے کپڑوں پر شبہ کا جواب 26 3
17 طلبہ کا بے ڈھنگا پن 26 3
18 کیا مولوی بدتہذیب ہوتے ہیں 27 3
19 متفرق شبہات کے جوابات 33 3
20 ۔ُعلما۔َ کے درمیان عناد و حسد ہونے کا شبہ 33 3
21 ۔ُعلما۔َ کا آپس میں اختلاف کرنا 34 3
22 زمانہ کی مصلحت کا لحاظ نہ کرنے کا شبہ 36 3
23 ۔ُعلما۔َ کا لوگوں کے حال پر رحم نہ کرنے کا 37 3
24 تقریر و تحریر سے واقف نہ ہونے کا شبہ 38 3
25 دنیا کے قصوں سے بے خبر ہونے کا شبہ 39 3
26 اَلْبَابُ الثَّانِيْ 40 1
27 عمل کی ضرورت نہ ہونے کا غلط خیال 40 26
28 علومِ دینیہ کی طرف نسبت رکھنے والے بعض لوگوں کی غلطی 41 26
29 احتمال، وسوسہ، طمع اور اشراف میں فرق 42 26
30 مدرسہ یا انجمن کے لیے سوال کرنے کا حکم 43 26
31 علما۔َ کو نصیحت 45 26
32 بعض مولویوں کی غلطی اور اس کا نقصان 47 26
33 بعض ۔ُعلما۔َ کا خیال غلط اور اس کا نقصان 48 26
34 اُ۔َمرا سے اجتناب کے وقت کیا نیت ہونی چاہیے 50 26
35 دنیاداروں کو دھتکارنا مناسب نہیں ہے 50 26
36 شہرت حاصل کرنے کی ایک حرکت 51 26
37 مناظرہ کرنا کب ضروری ہے 52 26
38 مناظرہ کے شرائط 55 26
39 مناظرہ کے شرائط و مفاسد سے چشم پوشی کا نتیجہ 56 26
40 پہلے ۔ُعلما۔َ کے مناظرہ پر اپنے مناظرہ کو قیاس کرنا درست نہیں ہے 57 26
41 وعظ کو طلبِ جاہ کا ذریعہ بنانے کی خرابی 58 26
42 مدارس کی بعض اصلاحات میں 59 1
43 مدارس میں بھی بعض اصلاحات کی ضرورت ہے 59 42
44 زبردستی چندہ لینا درست نہیں 60 42
45 دوامی چندہ نہ دینے والوں کے نام شائع کرنا بری بات ہے 61 42
46 صحیح حیلۂ تملیک 61 42
47 چندہ کی رقم میں عدمِ احتیاط 62 42
48 کھانے کے لیے طلبہ کو کسی کے گھر بھیجنا مناسب نہیں ہے 62 42
49 طلبہ کے اعمال اور وضع قطع پر روک ٹوک ضروری ہے 63 42
50 کمالِ علمی کے بغیر سندِ فراغ دینا نقصان دہ ہے 63 42
51 مدارس میں تقریر و تحریر کا انتظام کرنا چاہیے 63 42
52 طلبہ کی رائے کے مطابق تعلیم مناسب نہیں ہے 63 42
53 مدارس میں تجوید اور اخلاق کی کتاب داخلِ درس ہونا ضروری ہے 64 42
54 مدارس کا باہم تصادم بہت نقصان دہ ہے 64 42
55 مسلمانوں کو تنبیہ 65 42
56 بعض مدرسین کی کوتاہی 65 42
57 واعظین و مصنّفین اور مفتیوں کی اصلاحات 66 1
58 اہلِ علم کا وعظ نہ کہنا غلط ہے 66 57
59 بعض واعظین کی کوتاہیاں 67 57
60 تصنیف میں کوتاہیاں،اصلاحات متعلقہ تصنیف 67 57
61 فتویٰ دینے میں کوتاہیاں 67 57
62 متفرق اصلاحات 69 1
63 اہلِ علم کا لباس وغیرہ میں تکلف کرنا نامناسب ہے 69 62
64 اہلِ دنیا کا سلوک ۔ُعلما۔َ کے ساتھ 70 62
65 ناصح الطلبہ 71 62
66 طلبہ میں انقلاب 72 62
67 طلبہ کی نااہلی کا غلط ثمرہ 73 62
68 عو ام کا غلط نظریہ 73 62
69 علما۔َ سے درخواست 74 62
70 طلبہ میں بداستعدادی کے اسباب 74 62
71 مدرسین کو چاہیے کہ طلبہ کی استعداد سے کام لیں 75 62
72 طلبہ کی فہم کی قوت کو کام میں لانے کی ضرورت ہے 75 62
73 ہر مضمون کی تقریر استاد نہ کیا کریں 77 62
74 طلبہ سے کتاب حل نہ کرانے کا عذر 78 62
75 مدرّسین سے گزارش 79 62
76 کم عمر طلبہ کی تربیت کا طریقہ 79 62
77 طلبہ کو بے تکلفی اور سادگی اپنانی چاہیے 80 62
Flag Counter