اور مثلاً کسی کے فیصلہ میں پڑنا گو فی نفسہٖ طاعت ہے، لیکن حسبِ ارشادِ نبوی کہ حضرت ابوذر ؓ کو فرمایا تھا: لَا تَقْضِیَنَّ بَیْنَ اثْنَیْنِ۔1 ان ۔ُعلما۔َ کو جو حکاّم نہیں ہیں اس میں پڑنا مناسب نہیں کہ اس میں بدنامی اور شبہ طرف داری کا ہوتا ہے، پھر جو نفعِ دین مسلمانوں کے ساتھ یکساں تعلق رکھنے سے ہوتا ہے وہ فوت ہوجاتا ہے۔ البتہ ایک صورت فیصلہ کی بہت اسلم یہ ہے کہ فریقین اگر درخواست کریں تو ان سے کہے کہ تم دونوں مل کر سوال لکھ کر اپنے اپنے دستخط کردو۔ پھر اس پر حکم شرعی بطور جواب لکھ کر حوالہ کرے کہ اس پر دونوں عمل کرلو یا کسی ثالث کو ۔َحکم۔َ مقرر کرکے اس سے نافذ کرالو۔ اور اسی مصلحت سے مناسب ہے کہ کسی شخص کے دنیوی معاملے میں دخل نہ دے، اور اسی مصلحت سے مناسب ہے کہ مالی معاملات سے علیحدہ رہے۔ مثلاً چندہ وصول کرنا یا اس کا تحویل دار بننا یا اس کے صرف کا اہتمام لینا یہ سب صورتیں بدگمانی اور تہمت کی ہیں۔ ایسے کام متد۔ّین رؤسا کے متعلق ہونا چاہیے، البتہ ان رؤسا کو چاہیے کہ جو کام کریں ۔ُعلما۔َ سے حکمِ شرعی دریافت کرکے کریں۔
خاتمہ
اہلِ دنیا کا سلوک ۔ُعلما۔َ کے ساتھ:
ان باہمی تعلقات کے بیان میں جو اہلِ دنیا اور اہلِ علم میں ہونے چاہئیں۔ مختصر ان کا یہ ہے کہ :
۱۔ دنیادار ۔ُعلما۔َ کو اپنا مخدوم سمجھیں۔
۲۔ ان کا ادب اور تعظیم کریں۔
۳۔ وہ جو کام دین کا کررہے ہیں جس میں مال کی ضرورت ہو بدون ان کی استدعا کے اس میں اعانت کریں۔
۴۔ جو بات ان سے پوچھیں ادب سے پوچھیں۔
۵۔ دلائل دریافت نہ کریں۔
۶۔ اگر کوئی شبہ رہے معاندانہ سوال نہ کرے مستفیدانہ پوچھیں۔
۷۔ اگر ان سے کوئی لغزش ہوجائے تو ان کی مذمت نہ کریں آخر وہ بشر ہیں ان سے بھی خطا ہوتی ہے، وہ اس حال میں بھی تمہارے نفع اور ہدایت کے لیے کافی ہیں تم ان کے اقوال پر عمل کرو افعال کو مت دیکھو۔
۸۔ تمہارا شبہ ایک عالم سے حل نہ ہو دوسرے سے حل کرو اور ایک کا قول دوسرے سے رو برو مت نقل کرو۔