سے مستثنیٰ ہے۔ اور اسی کی ایک فرع ہے طلبہ کو فراہمیٔ چندہ کے لیے سفر کرانا اور اس کے بھی وہی آثار ہیں جو کھانا لینے کے لیے گھروں پر جانے کے ہیں والاستثناء الاستثناء۔
۶۔ طلبہ کے اعمال اور وضع قطع پر روک ٹوک ضروری ہے:
بعض مدارس میں طلبہ کے اعمال و اوضاع پر اصلاً روک ٹوک نہیں ہے، اس سے جو برا اثر عوام پر اور خود ان طلبہ پر واقع ہوتا ہے محتاجِ بیان نہیں۔
۷۔ کمالِ علمی کے بغیر سندِ فراغ دینا نقصان دہ ہے:
بعض مدارس میں ایسے لوگوں کو سندِ فراغ دے دی جاتی ہے یا دستار بندی کردی جاتی
ہے جو باعتبار کمالِ علمی یا صلاحِ عملی کے اس کے اہل نہیں ہوتے۔ جب ان لوگوں کی علمی یا عملی کوتاہی دوسروں پر ظاہر ہوتی ہے تو دوسرے ۔ُعلما۔َ کو ان پر قیاس کرکے سب سے بدظنی پیدا ہوجاتی ہے، اور جب ۔ُعلما۔َ سے بدظنی ہوگئی تو دین کے باب میں کس سے رجوع کریں گے، کس کے قول پر عمل کریں گی، پھر دین کا کیا حشر ہوگا، تو سبب ان مفاسد کے یہ بے احتیاط لوگ ہوئے جو نااہلوں کو قوم کے سامنے مقتدا ظاہر کرتے ہیں۔
۸۔ مدارس میں تقریر و تحریر کا انتظام کرنا چاہیے:
اکثر مدارس میں طلبہ کی تقریر و تحریر کا کوئی انتظام نہیں۔ اس میں اہلِ علم کو عاجز ہو نا، ان کی منصبی خدمات کا ضعیف ہونا ہے ا س لیے اس کا خاص انتظام و اہتمام ضروری ہے۔
۹۔ طلبہ کی رائے کے مطابق تعلیم مناسب نہیں ہے:
اکثر مدارس میں طلبہ کی رائے پر تعلیم ہوتی ہے جس سے ان کی استعداد سرتاسر برباد ہوجاتی ہے۔ اسی حالت میں برائے