جن کی اصلاح بہت ضروری ہے، اور اصلاح نہ ہونے سے اہلِ علم کی جماعت معترضین کا ہدفِ ملامت بھی بنتی ہے، اور خود روح مدارس کی کہ ان کی اقامت کی غایت ہے یعنی عمل بالدین وہ بھی ضعیف ہوجاتی ہے۔ اور نیز ان امور کو دیکھ کر دوسروں پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ لوگ علومِ دینیہ سے متو۔ّحش اور نفور ہوجاتے ہیں۔ اور سبب اس کا جماعت اہلِ علم کی ہوتی ہے تو گویا درجہ تسبب میں {یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ} کے مصداق میں داخل ہوتے ہیں، اس لیے ان امور کی اصلاح کے متعلق مختصراً عرض کرکے اہلِ علم کو ان کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔ اور اگر میری کوئی رائے خلافِ تحقیق ہو تو اس کے عرض کرنے سے معافی چاہتا ہوں۔ اس وقت جو امور ذہن میں ہیں وہ یہ ہیں۔
۱۔زبردستی چندہ لینا درست نہیں:
بعض جگہ چندہ فراہم کرنے میں قواعدِ شریعت و مروت کے خلاف کیا جاتاہے جس کا بیان بقدرِ ضرورت باب ہذا کی دوسری فصل میں ہوا ہے۔ اسی کے فروع میں سے ایک وہ رسم ہے جو بعض برادریوں میں التزام کے طور پر مقرر ہے کہ جب ان میں شادی ہو تو مدرسہ کے لیے کوئی خاص رقم ضرور نکالی جائے۔ واقعات کی تفتیش سے ثابت ہوا ہے کہ اس میں اکثر ثقل اور جبر ہوتا ہے۔ اگر کسی نے مانگ لیا تب تو ظاہر ہی ہے، اور اگر نہ بھی مانگا تب بھی احتمال غالب ہے کہ یہی سمجھ کر دیتے ہیں کہ نہ دینے سے تمام برادری کے خلاف ہوگا بات ہلکی ہوگی اس لیے گو دل نہ چاہے مگر ضرور دیتے ہیں۔ میں نے اس کا اچھی طرح تصریح کراکر تجربہ کیا ہے، لوگوں نے صریح اقرار کراہتاً کا کیا۔ برادری میں جن لوگوں کو فرد خرچ کا لکھنا سپرد ہوتا ہے وہ اس کا لحاظ رکھیں کہ مدرسہ کا اور اسی طرح مسجد کا مداس میں ہرگز نہ رکھیں ہر چند کہ تمام مدات اس فرد کے یہی حکم رکھتے ہیں، اور لڑکے والے سے ان رقوم کا وصول کرنا ہرگز جائز نہیں مگر مسجد و مدرسہ میں ایسی رقم کا لگانا اور بھی براہے کہ حدیث ہے: إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ إِلَّا الطِّیِّبَ۔1
پس دین کے کام میں ایسی رقم لگانا جو بطریقِ غیر مشروع وصول کی گئی ہو اور بھی زیادہ مذموم ہے۔
اسی طرح بعض دیہات میں ہل پیچھے کچھ غلہ مقرر ہوجاتا ہے۔ اس میں علاوہ بے احتیاطی مذکور کے بعض جگہ یہاں تک بے احتیاطی ہوتی ہے کہ اگر اس ہل کا کھیت کسی یتیم کا ہو اس سے بھی وہ حصہ لے لیتے ہیں جو کسی طرح جائز نہیں۔ اسی کے فروع میں سے ایک یہ ہے کہ دوامی چندہ میں بعد موت وعدہ کرنے والے کے اس کے ورثہ اس چندہ کو جاری رکھتے ہیں اور اہلِ مدارس اس کی تحقیق نہیں کرتے کہ ان لوگوں نے ملکِ مختص سے اس کو جاری رکھا ہے یا ترکہ مشترکہ سے اور اس ترکہ مشترکہ میں کوئی یتیم یا غائب یا غیرراضی تو نہیں ہے۔ اسی طرح میت کے کپڑوں کو مدرسہ میں دینے کے وقت اس