Deobandi Books

حقوق العلم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

60 - 82
جن کی اصلاح بہت ضروری ہے، اور اصلاح نہ ہونے سے اہلِ علم کی جماعت معترضین کا ہدفِ ملامت بھی بنتی ہے، اور خود روح مدارس کی کہ ان کی اقامت کی غایت ہے یعنی عمل بالدین وہ بھی ضعیف ہوجاتی ہے۔ اور نیز ان امور کو دیکھ کر دوسروں پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ لوگ علومِ دینیہ سے متو۔ّحش اور نفور ہوجاتے ہیں۔ اور سبب اس کا جماعت اہلِ علم کی ہوتی ہے تو گویا درجہ تسبب میں {یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ} کے مصداق میں داخل ہوتے ہیں، اس لیے ان امور کی اصلاح کے متعلق مختصراً عرض کرکے اہلِ علم کو ان کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔ اور اگر میری کوئی رائے خلافِ تحقیق ہو تو اس کے عرض کرنے سے معافی چاہتا ہوں۔ اس وقت جو امور ذہن میں ہیں وہ یہ ہیں۔


۱۔زبردستی چندہ لینا درست نہیں:
بعض جگہ چندہ فراہم کرنے میں قواعدِ شریعت و مروت کے خلاف کیا جاتاہے جس کا بیان بقدرِ ضرورت باب ہذا کی دوسری فصل میں ہوا ہے۔ اسی کے فروع میں سے ایک وہ رسم ہے جو بعض برادریوں میں التزام کے طور پر مقرر ہے کہ جب ان میں شادی ہو تو مدرسہ کے لیے کوئی خاص رقم ضرور نکالی جائے۔ واقعات کی تفتیش سے ثابت ہوا ہے کہ اس میں اکثر ثقل اور جبر ہوتا ہے۔ اگر کسی نے مانگ لیا تب تو ظاہر ہی ہے، اور اگر نہ بھی مانگا تب بھی احتمال غالب ہے کہ یہی سمجھ کر دیتے ہیں کہ نہ دینے سے تمام برادری کے خلاف ہوگا بات ہلکی ہوگی اس لیے گو دل نہ چاہے مگر ضرور دیتے ہیں۔ میں نے اس کا اچھی طرح تصریح کراکر تجربہ کیا ہے، لوگوں نے صریح اقرار کراہتاً کا کیا۔ برادری میں جن لوگوں کو فرد خرچ کا لکھنا سپرد ہوتا ہے وہ اس کا لحاظ رکھیں کہ مدرسہ کا اور اسی طرح مسجد کا مداس میں ہرگز نہ رکھیں ہر چند کہ تمام مدات اس فرد کے یہی حکم رکھتے ہیں، اور لڑکے والے سے ان رقوم کا وصول کرنا ہرگز جائز نہیں مگر مسجد و مدرسہ میں ایسی رقم کا لگانا اور بھی براہے کہ حدیث ہے: إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَا یَقْبَلُ إِلَّا الطِّیِّبَ۔1
 پس دین کے کام میں ایسی رقم لگانا جو بطریقِ غیر مشروع وصول کی گئی ہو اور بھی زیادہ مذموم ہے۔
اسی طرح بعض دیہات میں ہل پیچھے کچھ غلہ مقرر ہوجاتا ہے۔ اس میں علاوہ بے احتیاطی مذکور کے بعض جگہ یہاں تک بے احتیاطی ہوتی ہے کہ اگر اس ہل کا کھیت کسی یتیم کا ہو اس سے بھی وہ حصہ لے لیتے ہیں جو کسی طرح جائز نہیں۔ اسی کے فروع میں سے ایک یہ ہے کہ دوامی چندہ میں بعد موت وعدہ کرنے والے کے اس کے ورثہ اس چندہ کو جاری رکھتے ہیں اور اہلِ مدارس اس کی تحقیق نہیں کرتے کہ ان لوگوں نے ملکِ مختص سے اس کو جاری رکھا ہے یا ترکہ مشترکہ سے اور اس ترکہ مشترکہ میں کوئی یتیم یا غائب یا غیرراضی تو نہیں ہے۔ اسی طرح میت کے کپڑوں کو مدرسہ میں دینے کے وقت اس 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 علومِ دینیہ سے بے رغبتی کے اسباب 9 1
3 اَلْبَابُ الْأَوَّلُ 10 1
4 دین کے اجزا 11 3
5 علمِ دین کے دو مرتبے 11 3
6 علم کے ہر مرتبہ کو سیکھنے کا شرعی حکم 13 3
7 ۔ُعلما۔َ سے علم حاصل کرنے کا طریقہ 13 3
8 دو شبہات کے جواب 14 3
9 کیا مولوی بننے سے پست خیالی او رکم ہمتی پیدا ہوتی ہے 17 3
10 باب اول کی تیسری فضل کے بعض اجزا کی ضروری توضیح اور تفریع 21 3
11 مال خرچ کرنے میں احتیاط بخل نہیں ہے 22 3
12 صرف عربی زبان جاننے کا نام مولوی نہیں ہے 23 3
13 باریک لکھنے پر اعتراض کا جواب 24 3
14 تواضع کو تذلل سمجھنا غلط ہے 24 3
15 کمروں کی صفائی نہ کرنے پر اعتراض اور اس کا جواب 25 3
16 طلبہ کے کپڑوں پر شبہ کا جواب 26 3
17 طلبہ کا بے ڈھنگا پن 26 3
18 کیا مولوی بدتہذیب ہوتے ہیں 27 3
19 متفرق شبہات کے جوابات 33 3
20 ۔ُعلما۔َ کے درمیان عناد و حسد ہونے کا شبہ 33 3
21 ۔ُعلما۔َ کا آپس میں اختلاف کرنا 34 3
22 زمانہ کی مصلحت کا لحاظ نہ کرنے کا شبہ 36 3
23 ۔ُعلما۔َ کا لوگوں کے حال پر رحم نہ کرنے کا 37 3
24 تقریر و تحریر سے واقف نہ ہونے کا شبہ 38 3
25 دنیا کے قصوں سے بے خبر ہونے کا شبہ 39 3
26 اَلْبَابُ الثَّانِيْ 40 1
27 عمل کی ضرورت نہ ہونے کا غلط خیال 40 26
28 علومِ دینیہ کی طرف نسبت رکھنے والے بعض لوگوں کی غلطی 41 26
29 احتمال، وسوسہ، طمع اور اشراف میں فرق 42 26
30 مدرسہ یا انجمن کے لیے سوال کرنے کا حکم 43 26
31 علما۔َ کو نصیحت 45 26
32 بعض مولویوں کی غلطی اور اس کا نقصان 47 26
33 بعض ۔ُعلما۔َ کا خیال غلط اور اس کا نقصان 48 26
34 اُ۔َمرا سے اجتناب کے وقت کیا نیت ہونی چاہیے 50 26
35 دنیاداروں کو دھتکارنا مناسب نہیں ہے 50 26
36 شہرت حاصل کرنے کی ایک حرکت 51 26
37 مناظرہ کرنا کب ضروری ہے 52 26
38 مناظرہ کے شرائط 55 26
39 مناظرہ کے شرائط و مفاسد سے چشم پوشی کا نتیجہ 56 26
40 پہلے ۔ُعلما۔َ کے مناظرہ پر اپنے مناظرہ کو قیاس کرنا درست نہیں ہے 57 26
41 وعظ کو طلبِ جاہ کا ذریعہ بنانے کی خرابی 58 26
42 مدارس کی بعض اصلاحات میں 59 1
43 مدارس میں بھی بعض اصلاحات کی ضرورت ہے 59 42
44 زبردستی چندہ لینا درست نہیں 60 42
45 دوامی چندہ نہ دینے والوں کے نام شائع کرنا بری بات ہے 61 42
46 صحیح حیلۂ تملیک 61 42
47 چندہ کی رقم میں عدمِ احتیاط 62 42
48 کھانے کے لیے طلبہ کو کسی کے گھر بھیجنا مناسب نہیں ہے 62 42
49 طلبہ کے اعمال اور وضع قطع پر روک ٹوک ضروری ہے 63 42
50 کمالِ علمی کے بغیر سندِ فراغ دینا نقصان دہ ہے 63 42
51 مدارس میں تقریر و تحریر کا انتظام کرنا چاہیے 63 42
52 طلبہ کی رائے کے مطابق تعلیم مناسب نہیں ہے 63 42
53 مدارس میں تجوید اور اخلاق کی کتاب داخلِ درس ہونا ضروری ہے 64 42
54 مدارس کا باہم تصادم بہت نقصان دہ ہے 64 42
55 مسلمانوں کو تنبیہ 65 42
56 بعض مدرسین کی کوتاہی 65 42
57 واعظین و مصنّفین اور مفتیوں کی اصلاحات 66 1
58 اہلِ علم کا وعظ نہ کہنا غلط ہے 66 57
59 بعض واعظین کی کوتاہیاں 67 57
60 تصنیف میں کوتاہیاں،اصلاحات متعلقہ تصنیف 67 57
61 فتویٰ دینے میں کوتاہیاں 67 57
62 متفرق اصلاحات 69 1
63 اہلِ علم کا لباس وغیرہ میں تکلف کرنا نامناسب ہے 69 62
64 اہلِ دنیا کا سلوک ۔ُعلما۔َ کے ساتھ 70 62
65 ناصح الطلبہ 71 62
66 طلبہ میں انقلاب 72 62
67 طلبہ کی نااہلی کا غلط ثمرہ 73 62
68 عو ام کا غلط نظریہ 73 62
69 علما۔َ سے درخواست 74 62
70 طلبہ میں بداستعدادی کے اسباب 74 62
71 مدرسین کو چاہیے کہ طلبہ کی استعداد سے کام لیں 75 62
72 طلبہ کی فہم کی قوت کو کام میں لانے کی ضرورت ہے 75 62
73 ہر مضمون کی تقریر استاد نہ کیا کریں 77 62
74 طلبہ سے کتاب حل نہ کرانے کا عذر 78 62
75 مدرّسین سے گزارش 79 62
76 کم عمر طلبہ کی تربیت کا طریقہ 79 62
77 طلبہ کو بے تکلفی اور سادگی اپنانی چاہیے 80 62
Flag Counter