میں باہم مار پٹائی ہوکر نوبت بعدالت پہنچتی ہے اور ہزاروں روپیوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ بعض اوقات ان جھگڑوں کی بدولت عدالت میں ۔ُعلما۔َ بلائے جاتے ہیں اور وہاں دینی کتابیں لائی جاتی ہیں جن کا وہاں کوئی ادب نہیں ہوسکتا۔ پھر بعض اوقات وہ مسائل ایسے فیصل کرنے والے کے سامنے پیش ہوتے ہیں جن کو دینیات سے ۔َمس بھی نہیں، پھر وہ جاہل عالموں کا فیصلہ اوٹ پٹانگ کرتا ہے اور اس مجموعہ کے سبب یہی متنازعین ہوتے ہیں۔ پھر اکثر ایسے مقدمات کا سلسلہ سالہا سال جاری رہتا ہے اور اس مدت میں فریقین ضروری کاموں سے معطل ہوجاتے ہیں اور پھر دورانِ معاملہ میں جو جو اُمورِ منکرہ اختیار کرنے پڑتے ہیں جھوٹ اور فریب اور چالاکی جھوٹے گواہ بنانا جھوٹے حلف اٹھانا اور پھر اس کا اثر ۔ُعلما۔َ پر پڑتا ہے اور پھر اس سب کو دیکھ کر مخالفینِ اسلام کی نظر میں جو ذلت او رخندیدگی اور شماتت ہوتی ہے وہ مخفی نہیں۔
پھر ایک بہت بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اگر متخاصمین میں سے ایک منصف مزاج ہو اور اس نے دوسرے کی تقریر کے کسی جز کو مان لیا یا جوابِ صحیح سوچتا ہوا رہ گیا یا حق پرستی کے سبب کہہ دیا کہ مجھ کو اس کا جواب معلوم نہیں کسی سے دریافت کرلوں گا یا پھر سوچ کر یا دیکھ کر بتلائوں گا، تو عوام ۔ُجہلا کے نزدیک گویا وہ ہار گیا اور زیادہ تماشا دیکھنے والے عوام ہی ہوتے ہیں اور اس کے ہارنے کے ساتھ اس کا دعویٰ کیا ہوا مسئلہ بھی غلط ہوگیا۔ ان مفاسد کے ہوتے ہوئے تو مستحب بھی منہی عنہ ہوجاتا ہے چہ جائے کہ جب وہ فی نفسہٖ بھی بوجہ فقدانِ شرائط مذموم ہو۔ البتہ اگر کوئی فرد مناظرہ کی بوجہ وجدانِ شرائط شرعاً مطلوب ہو گو اس میں اس قسم کے مفاسد بھی ہوں تو اس کا ارتکاب کیا جائے گا، اور مفاسد کا حتی الامکان انسداد کریں گے جس کا انسداد خارج از اختیار ہو کچھ پروا نہ کریں گے۔
مناظرہ کے شرائط و مفاسد سے چشم پوشی کا نتیجہ:
بعض لوگ ان شرائط و مفاسد سے ۔ِغض۔ّ بصر کرنے آج کل کے مناظروں کی مصلحتیں بیان کیا کرتے ہیں۔ اس تقریر میں غور کرنے سے ان سب کا جواب بھی نکل آئے گا، نمونہ کے طور پر بعض جزئیات کو ذکر بھی کیے دیتا ہوں۔ مثلاً بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مناظرہ نہ کرنے سے عوام الناس کے اعتقاد میں خلل پڑجاتاہے، جواب یہ ہے کہ اگر خاص اس مناظرہ کرنے والے سے بداعتقاد ہوجاتے ہیں تو یہ کوئی دینی مضرت نہیں۔ انبیا میں سے ہر نبی کا ماننا فرض ہے، ۔ُعلما۔َ میں سے ہر عالم کا ماننا فرض نہیں، اور اگر اس خاص مسئلہ میں ان کا اعتقاد بدل جاتا ہے
یا تذبذب میں پڑتے ہیں تو اگر وہ مسئلہ محلِ اجتہاد ہے تو اعتقاد کا بدل جانا کچھ مضر نہیں، اور اگر وہ محض اجتہاد نہیں تو تصحیح ان کے اعتقاد کی مناظرہ ہی میں منحصر نہیں مستقل و ابتدائی تقریر یا تحریر سے سمجھانا ممکن ہے، یا خود ان عوام کے ذمہ بھی