Deobandi Books

حقوق العلم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

56 - 82
میں باہم مار پٹائی ہوکر نوبت بعدالت پہنچتی ہے اور ہزاروں روپیوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ بعض اوقات ان جھگڑوں کی بدولت عدالت میں ۔ُعلما۔َ  بلائے جاتے ہیں اور وہاں دینی کتابیں لائی جاتی ہیں جن کا وہاں کوئی ادب نہیں ہوسکتا۔ پھر بعض اوقات وہ مسائل ایسے فیصل کرنے والے کے سامنے پیش ہوتے ہیں جن کو دینیات سے ۔َمس بھی نہیں، پھر وہ جاہل عالموں کا فیصلہ اوٹ پٹانگ کرتا ہے اور اس مجموعہ کے سبب یہی متنازعین ہوتے ہیں۔ پھر اکثر ایسے مقدمات کا سلسلہ سالہا سال جاری رہتا ہے اور اس مدت میں فریقین ضروری کاموں سے معطل ہوجاتے ہیں اور پھر دورانِ معاملہ میں جو جو اُمورِ منکرہ اختیار کرنے پڑتے ہیں جھوٹ اور فریب اور چالاکی جھوٹے گواہ بنانا جھوٹے حلف اٹھانا اور پھر اس کا اثر ۔ُعلما۔َ  پر پڑتا ہے اور پھر اس سب کو دیکھ کر مخالفینِ اسلام کی نظر میں جو ذلت او رخندیدگی اور شماتت ہوتی ہے وہ مخفی نہیں۔
پھر ایک بہت بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اگر متخاصمین میں سے ایک منصف مزاج ہو اور اس نے دوسرے کی تقریر کے کسی جز کو مان لیا یا جوابِ صحیح سوچتا ہوا رہ گیا یا حق پرستی کے سبب کہہ دیا کہ مجھ کو اس کا جواب معلوم نہیں کسی سے دریافت کرلوں گا یا پھر سوچ کر یا دیکھ کر بتلائوں گا، تو عوام ۔ُجہلا کے نزدیک گویا وہ ہار گیا اور زیادہ تماشا دیکھنے والے عوام ہی ہوتے ہیں اور اس کے ہارنے کے ساتھ اس کا دعویٰ کیا ہوا مسئلہ بھی غلط ہوگیا۔ ان مفاسد کے ہوتے ہوئے تو مستحب بھی منہی عنہ ہوجاتا ہے چہ جائے کہ جب وہ فی نفسہٖ بھی بوجہ فقدانِ شرائط مذموم ہو۔ البتہ اگر کوئی فرد مناظرہ کی بوجہ وجدانِ شرائط شرعاً مطلوب ہو گو اس میں اس قسم کے مفاسد بھی ہوں تو اس کا ارتکاب کیا جائے گا، اور مفاسد کا حتی الامکان انسداد کریں گے جس کا انسداد خارج از اختیار ہو کچھ پروا نہ کریں گے۔


مناظرہ کے شرائط و مفاسد سے چشم پوشی کا نتیجہ:
بعض لوگ ان شرائط و مفاسد سے ۔ِغض۔ّ بصر کرنے آج کل کے مناظروں کی مصلحتیں بیان کیا کرتے ہیں۔ اس تقریر میں غور کرنے سے ان سب کا جواب بھی نکل آئے گا، نمونہ کے طور پر بعض جزئیات کو ذکر بھی کیے دیتا ہوں۔ مثلاً بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مناظرہ نہ کرنے سے عوام الناس کے اعتقاد میں خلل پڑجاتاہے، جواب یہ ہے کہ اگر خاص اس مناظرہ کرنے والے سے بداعتقاد ہوجاتے ہیں تو یہ کوئی دینی مضرت نہیں۔ انبیا میں سے ہر نبی کا ماننا فرض ہے، ۔ُعلما۔َ  میں سے ہر عالم کا ماننا فرض نہیں، اور اگر اس خاص مسئلہ میں ان کا اعتقاد بدل جاتا ہے 
یا تذبذب میں پڑتے ہیں تو اگر وہ مسئلہ محلِ اجتہاد ہے تو اعتقاد کا بدل جانا کچھ مضر نہیں، اور اگر وہ محض اجتہاد نہیں تو تصحیح ان کے اعتقاد کی مناظرہ ہی میں منحصر نہیں مستقل و ابتدائی تقریر یا تحریر سے سمجھانا ممکن ہے، یا خود ان عوام کے ذمہ بھی 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 علومِ دینیہ سے بے رغبتی کے اسباب 9 1
3 اَلْبَابُ الْأَوَّلُ 10 1
4 دین کے اجزا 11 3
5 علمِ دین کے دو مرتبے 11 3
6 علم کے ہر مرتبہ کو سیکھنے کا شرعی حکم 13 3
7 ۔ُعلما۔َ سے علم حاصل کرنے کا طریقہ 13 3
8 دو شبہات کے جواب 14 3
9 کیا مولوی بننے سے پست خیالی او رکم ہمتی پیدا ہوتی ہے 17 3
10 باب اول کی تیسری فضل کے بعض اجزا کی ضروری توضیح اور تفریع 21 3
11 مال خرچ کرنے میں احتیاط بخل نہیں ہے 22 3
12 صرف عربی زبان جاننے کا نام مولوی نہیں ہے 23 3
13 باریک لکھنے پر اعتراض کا جواب 24 3
14 تواضع کو تذلل سمجھنا غلط ہے 24 3
15 کمروں کی صفائی نہ کرنے پر اعتراض اور اس کا جواب 25 3
16 طلبہ کے کپڑوں پر شبہ کا جواب 26 3
17 طلبہ کا بے ڈھنگا پن 26 3
18 کیا مولوی بدتہذیب ہوتے ہیں 27 3
19 متفرق شبہات کے جوابات 33 3
20 ۔ُعلما۔َ کے درمیان عناد و حسد ہونے کا شبہ 33 3
21 ۔ُعلما۔َ کا آپس میں اختلاف کرنا 34 3
22 زمانہ کی مصلحت کا لحاظ نہ کرنے کا شبہ 36 3
23 ۔ُعلما۔َ کا لوگوں کے حال پر رحم نہ کرنے کا 37 3
24 تقریر و تحریر سے واقف نہ ہونے کا شبہ 38 3
25 دنیا کے قصوں سے بے خبر ہونے کا شبہ 39 3
26 اَلْبَابُ الثَّانِيْ 40 1
27 عمل کی ضرورت نہ ہونے کا غلط خیال 40 26
28 علومِ دینیہ کی طرف نسبت رکھنے والے بعض لوگوں کی غلطی 41 26
29 احتمال، وسوسہ، طمع اور اشراف میں فرق 42 26
30 مدرسہ یا انجمن کے لیے سوال کرنے کا حکم 43 26
31 علما۔َ کو نصیحت 45 26
32 بعض مولویوں کی غلطی اور اس کا نقصان 47 26
33 بعض ۔ُعلما۔َ کا خیال غلط اور اس کا نقصان 48 26
34 اُ۔َمرا سے اجتناب کے وقت کیا نیت ہونی چاہیے 50 26
35 دنیاداروں کو دھتکارنا مناسب نہیں ہے 50 26
36 شہرت حاصل کرنے کی ایک حرکت 51 26
37 مناظرہ کرنا کب ضروری ہے 52 26
38 مناظرہ کے شرائط 55 26
39 مناظرہ کے شرائط و مفاسد سے چشم پوشی کا نتیجہ 56 26
40 پہلے ۔ُعلما۔َ کے مناظرہ پر اپنے مناظرہ کو قیاس کرنا درست نہیں ہے 57 26
41 وعظ کو طلبِ جاہ کا ذریعہ بنانے کی خرابی 58 26
42 مدارس کی بعض اصلاحات میں 59 1
43 مدارس میں بھی بعض اصلاحات کی ضرورت ہے 59 42
44 زبردستی چندہ لینا درست نہیں 60 42
45 دوامی چندہ نہ دینے والوں کے نام شائع کرنا بری بات ہے 61 42
46 صحیح حیلۂ تملیک 61 42
47 چندہ کی رقم میں عدمِ احتیاط 62 42
48 کھانے کے لیے طلبہ کو کسی کے گھر بھیجنا مناسب نہیں ہے 62 42
49 طلبہ کے اعمال اور وضع قطع پر روک ٹوک ضروری ہے 63 42
50 کمالِ علمی کے بغیر سندِ فراغ دینا نقصان دہ ہے 63 42
51 مدارس میں تقریر و تحریر کا انتظام کرنا چاہیے 63 42
52 طلبہ کی رائے کے مطابق تعلیم مناسب نہیں ہے 63 42
53 مدارس میں تجوید اور اخلاق کی کتاب داخلِ درس ہونا ضروری ہے 64 42
54 مدارس کا باہم تصادم بہت نقصان دہ ہے 64 42
55 مسلمانوں کو تنبیہ 65 42
56 بعض مدرسین کی کوتاہی 65 42
57 واعظین و مصنّفین اور مفتیوں کی اصلاحات 66 1
58 اہلِ علم کا وعظ نہ کہنا غلط ہے 66 57
59 بعض واعظین کی کوتاہیاں 67 57
60 تصنیف میں کوتاہیاں،اصلاحات متعلقہ تصنیف 67 57
61 فتویٰ دینے میں کوتاہیاں 67 57
62 متفرق اصلاحات 69 1
63 اہلِ علم کا لباس وغیرہ میں تکلف کرنا نامناسب ہے 69 62
64 اہلِ دنیا کا سلوک ۔ُعلما۔َ کے ساتھ 70 62
65 ناصح الطلبہ 71 62
66 طلبہ میں انقلاب 72 62
67 طلبہ کی نااہلی کا غلط ثمرہ 73 62
68 عو ام کا غلط نظریہ 73 62
69 علما۔َ سے درخواست 74 62
70 طلبہ میں بداستعدادی کے اسباب 74 62
71 مدرسین کو چاہیے کہ طلبہ کی استعداد سے کام لیں 75 62
72 طلبہ کی فہم کی قوت کو کام میں لانے کی ضرورت ہے 75 62
73 ہر مضمون کی تقریر استاد نہ کیا کریں 77 62
74 طلبہ سے کتاب حل نہ کرانے کا عذر 78 62
75 مدرّسین سے گزارش 79 62
76 کم عمر طلبہ کی تربیت کا طریقہ 79 62
77 طلبہ کو بے تکلفی اور سادگی اپنانی چاہیے 80 62
Flag Counter