Deobandi Books

حقوق العلم - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

65 - 82
کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہونا چاہیے تھا کہ اپنے اوپر سے بار ہلکا ہوتا ہے برخلاف اس کے جب دنیا مقصود ہوگی تو دوسرے کا وجود اس میں مخل ہوگا اوراس لیے تنافس و تحاسد اس کے لیے لازم ہے۔
پھر یہ تزاحم یہاں تک ترقی کرتا ہے کہ اہلِ چندہ سے متجاوز ہوکر طالبِ علموں تک کو ہر مدرسہ اپنی اپنی طرف کھینچتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کشاکشی میں بعض اوقات طالبِ علموں کی اطاعت کی جاتی ہے۔ اس تزاحم کا یہ بھی اثر ہوتا ہے کہ دوسرے مدرسہ میں چندہ کا زیادہ آنا، اس طرف اہلِ اعانت کا زیادہ راغب ہونا، وہاں کا جاہ و قبول وہاں کام زیادہ ہونا یہ سب ناگوار ہوتا ہے۔ اور اس امر کے اظہار کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے مدرسہ میں وہ سب خوبیاں ظاہر اور ثابت کریں گو واقع میں نہ ہوں اور گو ثابت بھی نہ ہوسکے۔ سو یہ سب دلیل ہے عدمِ خلوص اور عدمِ للہیت کی۔ ان سب مفاسد کی اصلاح ضروری ہے۔ چناں چہ کانپور میں کئی سال رہ کر مجھ کو اس کا خوب تجربہ ہوا۔


مسلمانوں کو تنبیہ:
بعض مدارس میں جتنے مفاسد اوپر لکھے گئے ہیں ان میں سے ان مدارس کو بے کار نہ سمجھا جائے۔ اس حالت میں بھی ان سے جو کچھ نفعِ دین ہے اس کے اعتبار سے ان کا وجود نہایت غنیمت و ضروری ہے۔ اس حال میں سب مسلمانوں پر ان کی خدمت واجب ہے، البتہ اصلاح میں حتی الوسع سعی بھی کریں۔


۱۲۔ بعض مدرسین کی کوتاہی:
ایک عادت بعض مدرسین کی یہ ہے کہ کوئی مقام کتاب کا شرح صدر کے ساتھ حل نہ ہو مگر ہرگز طالبِ علم کے سامنے اس کو ظاہر نہ کریں گے۔ الٹی سیدھی توجیہ گھڑ کر کچھ نہ کچھ ہانکتے رہیں گے۔ اسی طرح اگر بعض اوقات غلط تقریر ہوجاتی ہے اور اتفاق سے کسی طالبِ علم کا ذہن صحیح مدلول تک پہنچ جاتا ہے تو اس کی تقریر کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ اپنی ہی سخن پروری کرتے رہیں گے۔ یا کسی مقام پر مصنف سے کچھ تسامح ہوجائے تب بھی اس کو خواہ مخواہ بناتے رہیں گے، اس میں علاوہ گناہ کے ایک خرابی یہ ہے کہ طالبِ علم کے اندر قبولِ حق اور انصاف کا مادہ کبھی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی مثل اپنے استاد کے ۔ُمصر علی الباطل و سخن پرور ہوتا ہے۔ اور اس سخن پروری کی اثر سے شدہ شدہ فہم میں بھی کجی پیدا ہوجاتی ہے اور سبب اس کا محض کبر ہے کہ آدمی یوں سمجھتا ہے کہ میری سبکی ہوگی حالاں کہ اول تو یہی غلط ہے قبولِ حق سے ہمیشہ 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 علومِ دینیہ سے بے رغبتی کے اسباب 9 1
3 اَلْبَابُ الْأَوَّلُ 10 1
4 دین کے اجزا 11 3
5 علمِ دین کے دو مرتبے 11 3
6 علم کے ہر مرتبہ کو سیکھنے کا شرعی حکم 13 3
7 ۔ُعلما۔َ سے علم حاصل کرنے کا طریقہ 13 3
8 دو شبہات کے جواب 14 3
9 کیا مولوی بننے سے پست خیالی او رکم ہمتی پیدا ہوتی ہے 17 3
10 باب اول کی تیسری فضل کے بعض اجزا کی ضروری توضیح اور تفریع 21 3
11 مال خرچ کرنے میں احتیاط بخل نہیں ہے 22 3
12 صرف عربی زبان جاننے کا نام مولوی نہیں ہے 23 3
13 باریک لکھنے پر اعتراض کا جواب 24 3
14 تواضع کو تذلل سمجھنا غلط ہے 24 3
15 کمروں کی صفائی نہ کرنے پر اعتراض اور اس کا جواب 25 3
16 طلبہ کے کپڑوں پر شبہ کا جواب 26 3
17 طلبہ کا بے ڈھنگا پن 26 3
18 کیا مولوی بدتہذیب ہوتے ہیں 27 3
19 متفرق شبہات کے جوابات 33 3
20 ۔ُعلما۔َ کے درمیان عناد و حسد ہونے کا شبہ 33 3
21 ۔ُعلما۔َ کا آپس میں اختلاف کرنا 34 3
22 زمانہ کی مصلحت کا لحاظ نہ کرنے کا شبہ 36 3
23 ۔ُعلما۔َ کا لوگوں کے حال پر رحم نہ کرنے کا 37 3
24 تقریر و تحریر سے واقف نہ ہونے کا شبہ 38 3
25 دنیا کے قصوں سے بے خبر ہونے کا شبہ 39 3
26 اَلْبَابُ الثَّانِيْ 40 1
27 عمل کی ضرورت نہ ہونے کا غلط خیال 40 26
28 علومِ دینیہ کی طرف نسبت رکھنے والے بعض لوگوں کی غلطی 41 26
29 احتمال، وسوسہ، طمع اور اشراف میں فرق 42 26
30 مدرسہ یا انجمن کے لیے سوال کرنے کا حکم 43 26
31 علما۔َ کو نصیحت 45 26
32 بعض مولویوں کی غلطی اور اس کا نقصان 47 26
33 بعض ۔ُعلما۔َ کا خیال غلط اور اس کا نقصان 48 26
34 اُ۔َمرا سے اجتناب کے وقت کیا نیت ہونی چاہیے 50 26
35 دنیاداروں کو دھتکارنا مناسب نہیں ہے 50 26
36 شہرت حاصل کرنے کی ایک حرکت 51 26
37 مناظرہ کرنا کب ضروری ہے 52 26
38 مناظرہ کے شرائط 55 26
39 مناظرہ کے شرائط و مفاسد سے چشم پوشی کا نتیجہ 56 26
40 پہلے ۔ُعلما۔َ کے مناظرہ پر اپنے مناظرہ کو قیاس کرنا درست نہیں ہے 57 26
41 وعظ کو طلبِ جاہ کا ذریعہ بنانے کی خرابی 58 26
42 مدارس کی بعض اصلاحات میں 59 1
43 مدارس میں بھی بعض اصلاحات کی ضرورت ہے 59 42
44 زبردستی چندہ لینا درست نہیں 60 42
45 دوامی چندہ نہ دینے والوں کے نام شائع کرنا بری بات ہے 61 42
46 صحیح حیلۂ تملیک 61 42
47 چندہ کی رقم میں عدمِ احتیاط 62 42
48 کھانے کے لیے طلبہ کو کسی کے گھر بھیجنا مناسب نہیں ہے 62 42
49 طلبہ کے اعمال اور وضع قطع پر روک ٹوک ضروری ہے 63 42
50 کمالِ علمی کے بغیر سندِ فراغ دینا نقصان دہ ہے 63 42
51 مدارس میں تقریر و تحریر کا انتظام کرنا چاہیے 63 42
52 طلبہ کی رائے کے مطابق تعلیم مناسب نہیں ہے 63 42
53 مدارس میں تجوید اور اخلاق کی کتاب داخلِ درس ہونا ضروری ہے 64 42
54 مدارس کا باہم تصادم بہت نقصان دہ ہے 64 42
55 مسلمانوں کو تنبیہ 65 42
56 بعض مدرسین کی کوتاہی 65 42
57 واعظین و مصنّفین اور مفتیوں کی اصلاحات 66 1
58 اہلِ علم کا وعظ نہ کہنا غلط ہے 66 57
59 بعض واعظین کی کوتاہیاں 67 57
60 تصنیف میں کوتاہیاں،اصلاحات متعلقہ تصنیف 67 57
61 فتویٰ دینے میں کوتاہیاں 67 57
62 متفرق اصلاحات 69 1
63 اہلِ علم کا لباس وغیرہ میں تکلف کرنا نامناسب ہے 69 62
64 اہلِ دنیا کا سلوک ۔ُعلما۔َ کے ساتھ 70 62
65 ناصح الطلبہ 71 62
66 طلبہ میں انقلاب 72 62
67 طلبہ کی نااہلی کا غلط ثمرہ 73 62
68 عو ام کا غلط نظریہ 73 62
69 علما۔َ سے درخواست 74 62
70 طلبہ میں بداستعدادی کے اسباب 74 62
71 مدرسین کو چاہیے کہ طلبہ کی استعداد سے کام لیں 75 62
72 طلبہ کی فہم کی قوت کو کام میں لانے کی ضرورت ہے 75 62
73 ہر مضمون کی تقریر استاد نہ کیا کریں 77 62
74 طلبہ سے کتاب حل نہ کرانے کا عذر 78 62
75 مدرّسین سے گزارش 79 62
76 کم عمر طلبہ کی تربیت کا طریقہ 79 62
77 طلبہ کو بے تکلفی اور سادگی اپنانی چاہیے 80 62
Flag Counter