کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہونا چاہیے تھا کہ اپنے اوپر سے بار ہلکا ہوتا ہے برخلاف اس کے جب دنیا مقصود ہوگی تو دوسرے کا وجود اس میں مخل ہوگا اوراس لیے تنافس و تحاسد اس کے لیے لازم ہے۔
پھر یہ تزاحم یہاں تک ترقی کرتا ہے کہ اہلِ چندہ سے متجاوز ہوکر طالبِ علموں تک کو ہر مدرسہ اپنی اپنی طرف کھینچتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کشاکشی میں بعض اوقات طالبِ علموں کی اطاعت کی جاتی ہے۔ اس تزاحم کا یہ بھی اثر ہوتا ہے کہ دوسرے مدرسہ میں چندہ کا زیادہ آنا، اس طرف اہلِ اعانت کا زیادہ راغب ہونا، وہاں کا جاہ و قبول وہاں کام زیادہ ہونا یہ سب ناگوار ہوتا ہے۔ اور اس امر کے اظہار کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے مدرسہ میں وہ سب خوبیاں ظاہر اور ثابت کریں گو واقع میں نہ ہوں اور گو ثابت بھی نہ ہوسکے۔ سو یہ سب دلیل ہے عدمِ خلوص اور عدمِ للہیت کی۔ ان سب مفاسد کی اصلاح ضروری ہے۔ چناں چہ کانپور میں کئی سال رہ کر مجھ کو اس کا خوب تجربہ ہوا۔
مسلمانوں کو تنبیہ:
بعض مدارس میں جتنے مفاسد اوپر لکھے گئے ہیں ان میں سے ان مدارس کو بے کار نہ سمجھا جائے۔ اس حالت میں بھی ان سے جو کچھ نفعِ دین ہے اس کے اعتبار سے ان کا وجود نہایت غنیمت و ضروری ہے۔ اس حال میں سب مسلمانوں پر ان کی خدمت واجب ہے، البتہ اصلاح میں حتی الوسع سعی بھی کریں۔
۱۲۔ بعض مدرسین کی کوتاہی:
ایک عادت بعض مدرسین کی یہ ہے کہ کوئی مقام کتاب کا شرح صدر کے ساتھ حل نہ ہو مگر ہرگز طالبِ علم کے سامنے اس کو ظاہر نہ کریں گے۔ الٹی سیدھی توجیہ گھڑ کر کچھ نہ کچھ ہانکتے رہیں گے۔ اسی طرح اگر بعض اوقات غلط تقریر ہوجاتی ہے اور اتفاق سے کسی طالبِ علم کا ذہن صحیح مدلول تک پہنچ جاتا ہے تو اس کی تقریر کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ اپنی ہی سخن پروری کرتے رہیں گے۔ یا کسی مقام پر مصنف سے کچھ تسامح ہوجائے تب بھی اس کو خواہ مخواہ بناتے رہیں گے، اس میں علاوہ گناہ کے ایک خرابی یہ ہے کہ طالبِ علم کے اندر قبولِ حق اور انصاف کا مادہ کبھی پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی مثل اپنے استاد کے ۔ُمصر علی الباطل و سخن پرور ہوتا ہے۔ اور اس سخن پروری کی اثر سے شدہ شدہ فہم میں بھی کجی پیدا ہوجاتی ہے اور سبب اس کا محض کبر ہے کہ آدمی یوں سمجھتا ہے کہ میری سبکی ہوگی حالاں کہ اول تو یہی غلط ہے قبولِ حق سے ہمیشہ