تصوف ایک تعارف |
ªصوف پر چ |
|
کشف کونی کا مطلب یہ ہے کہ زمان ومکان کی دوری صاحب کشف کے لئے حجاب نہ رہے اور کسی چیز کا حال معلوم ہوجائے ، اور کشف الٰہی یہ ہے کہ علوم واسرار اور حقائق ومعارف خواہ سلوک کے متعلق ہوں یا حق تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق اس کے قلب پروارد ہوں ، یا عالم مثال میں یہ چیزیں متمثل ہوکر مکشوف ہوں ، اور وارداتِ غریبہ ومواجید مثل ذوق وشوق ، محبت واُنس وہیبت وانکشاف اسرار احکام وحسن معاملہ فیما بینہ وبین اﷲ تعالیٰ وغیرہ فائز ہوں ، جن کی لذت کے سامنے ہفت اقلیم کی سلطنت گرد ہے ۔علوم کشفیہ کا درجہ : کشف والہام سے علم ظنی حاصل ہوتا ہے ، اگر شرعی قواعد کے مطابق ہے تو قابل عمل ہے ورنہ واجب الترک ہوگا ، حقائق ومعارف بھی وہی مقبول ہیں جن کو شریعت رد نہ کرے ، رسالہ قشیریہ میں ابوسلیمان دارانی کا قول منقول ہے کہ اکثر میرے دل میں کوئی نکتہ اسرارِ صوفیہ میں سے آتا ہے مگر میں اس کو بلا دو عادل گواہوں کے کہ وہ کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ اہے قبول نہیں کرتا ، اور ابو سعیدخراز کا قول ہے : کل باطن یخالفہ الظاہر فھو باطل جو باطن کہ ظاہر کے خلاف ہو وہ باطل اور مردود ہے ۔( عنوان ’’ الہام ‘‘ سے اس جگہ تک ’’ شریعت وطریقت ‘‘ سے ماخوذ ہے جو حضرت تھانویؒ کے افادات وتالیفات سے مرتب کی گئی ہے ) لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرات صوفیہ کے بیان کردہ حقائق ومعارف جہاں بظاہر کسی نص سے ہٹے ہوئے نظر آئیں فوراً ان کا انکار کردیا جائے ، اس میں بہت تامل اور احتیاط سے کام لینا چاہئے ، بعض اوقات آدمی کسی آیت یا حدیث کا صحیح مطلب نہیں سمجھ پاتا اور اپنے ذہن ودماغ سے اس کا کوئی مطلب اخذ کرلیتا ہے ، اور پھر اسی کو معیار بناکر علماء وفقہاء کے اقوال کو رد کرتا ہے ، اور بزعم خویش یہ سمجھتا ہے کہ میرا استدلال قرآن وسنت سے ہے ، حالانکہ اس کا مستدل اس کی اپنی فہم ہے ، یہ مصیبت ہمارے اس زمانہ میں بہت عام ہے ، عموماً لوگ سنجیدگی اور عقلی توازن کے ساتھ قرآن وحدیث پر غور نہیں کرتے ، یہ لوگ دوڑتے بھاگتے مختلف مشاغل اور گوناگوں افکارو خیالات میں گرفتار سرسری نظر سے کسی آیت یا حدیث کا کوئی