Deobandi Books

تصوف ایک تعارف

ªصوف پر چ

93 - 145
کشف کونی کا مطلب یہ ہے کہ زمان ومکان کی دوری صاحب کشف کے لئے حجاب نہ رہے اور کسی چیز کا حال معلوم ہوجائے ، اور کشف الٰہی یہ ہے کہ علوم واسرار اور حقائق ومعارف خواہ سلوک کے متعلق ہوں یا حق تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق  اس کے قلب پروارد ہوں ، یا عالم مثال میں یہ چیزیں متمثل ہوکر مکشوف ہوں ، اور وارداتِ غریبہ ومواجید مثل ذوق وشوق ، محبت واُنس وہیبت وانکشاف اسرار احکام وحسن معاملہ فیما بینہ وبین اﷲ تعالیٰ وغیرہ فائز ہوں ، جن کی لذت کے سامنے ہفت اقلیم کی سلطنت گرد ہے ۔
	علوم کشفیہ کا درجہ :
 کشف والہام سے علم ظنی حاصل ہوتا ہے ، اگر شرعی قواعد کے مطابق ہے تو قابل عمل ہے ورنہ واجب الترک ہوگا ، حقائق ومعارف بھی وہی مقبول ہیں جن کو شریعت رد نہ کرے ، رسالہ قشیریہ میں ابوسلیمان دارانی کا قول منقول ہے کہ اکثر میرے دل میں کوئی نکتہ اسرارِ صوفیہ میں سے آتا ہے مگر میں اس کو بلا دو عادل گواہوں کے کہ وہ کتاب اﷲ اور سنت رسول اﷲ اہے قبول نہیں کرتا ، اور ابو سعیدخراز کا قول ہے : کل باطن یخالفہ الظاہر فھو باطل جو باطن کہ ظاہر کے خلاف ہو وہ باطل اور مردود ہے ۔( عنوان ’’ الہام ‘‘ سے اس جگہ تک ’’ شریعت وطریقت ‘‘ سے ماخوذ ہے جو حضرت تھانویؒ کے افادات وتالیفات سے مرتب کی گئی ہے )
	لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرات صوفیہ کے بیان کردہ حقائق ومعارف جہاں بظاہر کسی نص سے ہٹے ہوئے نظر آئیں فوراً ان کا انکار کردیا جائے ، اس میں بہت تامل اور احتیاط سے کام لینا چاہئے ، بعض اوقات آدمی کسی آیت یا حدیث کا صحیح مطلب نہیں سمجھ پاتا اور اپنے ذہن ودماغ سے اس کا کوئی مطلب اخذ کرلیتا ہے ، اور پھر اسی کو معیار بناکر علماء وفقہاء کے اقوال کو رد کرتا ہے ، اور بزعم خویش یہ سمجھتا ہے کہ میرا استدلال قرآن وسنت سے ہے ، حالانکہ اس کا مستدل اس کی اپنی فہم ہے ، یہ مصیبت ہمارے اس زمانہ میں بہت عام ہے ، عموماً لوگ سنجیدگی اور عقلی توازن کے ساتھ قرآن وحدیث پر غور نہیں کرتے ، یہ لوگ دوڑتے بھاگتے مختلف مشاغل اور گوناگوں افکارو خیالات میں گرفتار سرسری نظر سے کسی آیت یا حدیث کا کوئی 


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
2 مولف 1 1
3 مرتب 1 1
4 ناشر 1 1
5 تفصیـــلات 3 1
6 عرض مرتب 4 1
7 تقریب 6 1
9 تصوف کی حقیقت اورتصوف و اصحاب تصوف کی اہمیت وضرورت 10 1
10 رات کے عبادت گزار اور دن کے شہ سوار: 13 1
11 متاع گم شدہ 17 1
12 تصوف کیا ہے ؟ 34 1
13 تمہید : 34 12
14 غلط فہمیاں :۔ 36 12
15 تصوف ایک اصطلاحی لفظ :۔ 40 12
16 تصوف کی حقیقت :۔ 41 12
17 اتباع سنت : 43 12
18 خلاصہ :۔ 45 12
19 دین میں تصوف کا مقام :۔ 46 12
20 اصلاح نفس کی اہمیت : 47 12
21 تصوف کے اجزاء :۔ 49 12
22 مقاصد تصوف :۔ 51 12
23 قوت یقین :۔ 53 12
24 مبادی تصوف :۔ 56 12
25 بیعت و صحبت : 57 12
26 صحبت کی تاثیر :۔ 58 12
27 صحبت کی برکت :۔ 59 12
28 ساعت کا مطلب :۔ 60 12
29 بیعت :۔ 61 12
30 بیعت کی ضرورت :۔ 63 12
31 شیخ کامل : 64 12
32 شیخ کامل کی پہچان :۔ 65 12
33 کچھ ضروری اور مفید ہدایات:۔ 66 12
34 شیخ کو سب سے افضل سمجھنا :۔ 66 12
35 ریاضات ومجاہدات :۔ 67 12
36 وسائل و مقاصد کا فرق :۔ 68 12
37 نفس و شیطان کی رخنہ اندازی :۔ 70 12
38 مجاہدے کی اقسام : 72 12
39 مجاہدہ ٔ جسمانی کے ارکان :۔ 73 12
40 اول قلت طعام : 73 39
41 دوسرے قلت منام : 73 39
42 تیسرے قلت کلام : 73 39
43 چوتھے قلت اختلاط مع الانام : 73 39
44 مجاہدہ نفس:۔ 74 12
45 مجاہدہ میں اعتدال :۔ 75 12
46 مرض کی شدت اور علاج کی سختی :۔ 76 12
47 اذکار… اشغال … مراقبات 78 1
48 اذکار :۔ 78 47
49 اشغال :۔ 81 47
50 اشغال کی ضرورت :۔ 83 47
51 مراقبات:۔ 83 47
52 مشارطہ اور محاسبہ :۔ 84 47
53 توابع وثمرات 86 47
54 احوال رفیعہ :۔ 87 47
55 ٍ چند احوال رفیعہ :۔ 89 47
56 الہام : 91 47
57 کشف : 92 47
58 کشف کی قسمیں : 92 47
59 علوم کشفیہ کا درجہ : 93 47
60 علماء مظاہر اور تصوف و سلوک 95 1
61 (۱)حضرت مولانا امیر باز خاں صاحب سہارنپور ی علیہ الرحمہ 130 60
62 (۲)حضرت مولانا محمد اشرف علی سلطان پوری جالندھری 131 60
63 (۳)حضرت مولانا حافظ سید تجمل حسین صاحب دیسنوی علیہ الرحمہ 131 60
64 (۴)حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری قدس سرہٗ 131 60
65 (۵) کرنال صوبۂ پنجاب کے قوی النسبت 132 60
66 ضمیمہ(۱) 134 1
67 ضمیمہ(۲) 136 1
68 اس مضمون کی تحریر میں حسب ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے۔ 137 1
69 تصوف ہمارا قیمتی سرمایہ 139 1
Flag Counter