تصوف ایک تعارف |
ªصوف پر چ |
|
اذا راوا ذکر اﷲ …… جب ان پر نظر پڑے تو اللہ یاد آجائے ۔ لیکن ذکر کا یہ رنگ آدمی پر چڑھے کیونکر ؟ اس کیلئے بطور وسیلہ کے ذکر کو ہی استعمال کیا گیا ۔ اور اس طرح کے ذکر کے مختلف طریقے تجربے کی رو سے تجویز کئے گئے ہیں ، ان کی خاص خاص تعداد متعین کی گئی ، ان کی وضع اور ہیئت مقرر کی گئی ،جہر اورسِر کی حدیں بنائی گئیں ۔ اور ان سب کا ماحصل یہ ہے کہ ذکر بعجلت اور بسہولت دل میں راسخ ہوجائے ۔ اور ظاہر ہے کہ قرآن و حدیث میں ذکر کاحکم مطلق ہے ۔ اس مطلق حکم کی تعمیل کیلئے اگر کوئی خاص طریقہ بشرطیکہ وہ جائز ہو۔ وضع کیا جائے اور اسے بطور وسیلہ کے عمل لایا جائے ۔ اس طریقۂ خاص کو مقصود اور عبادت نہ قرار دیا جائے ۔ تو اس میں اسی کو کلام ہوسکتاہے ۔ جو اصول شرع بلکہ اصول عقل سے بھی نابلد ہو۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ حضرات صوفیہ کبھی ذکر کا جہراً حکم دیتے ہیں ، کبھی اس کیلئے بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت بتاتے ہیں ، اور حکم دیتے ہیں کہ مثلاً لا الٰہ پر سر اور گردن کو پیچھے لے جاؤ اور یہ خیال کرو کہ غیر اللہ کی محبت اور اس کا اثر دل سے خارج ہو رہا ہے ۔ اور پھر الا اﷲ کی ضرب دل پر لگاؤ کہ اللہ کا نور یا اللہ کی محبت دل میں پیوست ہو رہی ہے ۔ یہ ضربیں متواتر اور مسلسل لگائی جاتی ہیں ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دل سے غیر اللہ کی مقصودیت فنا ہوکر اللہ کی معبودیت مستحکم ہوجائے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے یہ طریق زیادہ موثر ثابت ہوا ہے ۔ کبھی مشائخ ذکر قلبی تلقین کرتے ہیں ۔ اور اس کے بھی مختلف طریقے ہیں ، مثلا یہ کہ خیال کرو کہ دل کی دھڑکنیں ناطق ہیں ۔ اور اللہ اللہ کر رہی ہیں ۔ یہ طریقے اس لئے ا ختیار کئے جاتے ہیں کہ ذکر کا رسوخ ہوجائے ۔ کبھی پورے کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی مشق کراتے ہیں ۔ کبھی الا اللہ کی ضرب لگاتے ہیں ۔ کبھی صرف اللہ اللہ رٹاتے ہیں ۔ یہ سب تمرینات ہیں ۔ اور تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ ان کے مختلف اثرات قلب پر مرتب ہوتے ہیں ۔ یہ سب قلب میں ذکر کے رسوخ کے اسباب و ذرائع ہیں ۔ انہیں بدعت قرار دینا دینی اعتبار سے اپنی ذہنی افلاس کی خبر دینا ہے ۔ ایک بچہ قرآن حفظ کرتاہے ۔ ظاہر ہے کہ جب تک وہ قرآن کے الفاظ اپنی زبان