Deobandi Books

تصوف ایک تعارف

ªصوف پر چ

79 - 145
	اذا راوا ذکر اﷲ …… جب ان پر نظر پڑے تو اللہ یاد آجائے ۔
	لیکن ذکر کا یہ رنگ آدمی پر چڑھے کیونکر ؟ اس کیلئے بطور وسیلہ کے ذکر کو ہی استعمال کیا گیا ۔ اور اس طرح کے ذکر کے مختلف طریقے تجربے کی رو سے تجویز کئے گئے ہیں ، ان کی خاص خاص تعداد متعین کی گئی ، ان کی وضع اور ہیئت مقرر کی گئی ،جہر اورسِر کی حدیں بنائی گئیں ۔ اور ان سب کا ماحصل یہ ہے کہ ذکر بعجلت اور بسہولت دل میں راسخ ہوجائے ۔ اور ظاہر ہے کہ قرآن و حدیث  میں ذکر کاحکم مطلق ہے ۔ اس مطلق حکم کی تعمیل کیلئے اگر کوئی خاص طریقہ بشرطیکہ وہ جائز ہو۔ وضع کیا جائے اور اسے بطور وسیلہ کے عمل لایا جائے ۔ اس طریقۂ خاص کو مقصود اور عبادت نہ قرار دیا جائے ۔ تو اس میں اسی کو کلام ہوسکتاہے ۔ جو اصول شرع  بلکہ اصول عقل سے بھی نابلد ہو۔
	آپ نے دیکھا ہوگا کہ حضرات صوفیہ کبھی ذکر کا جہراً حکم دیتے ہیں ، کبھی اس کیلئے بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت بتاتے ہیں ، اور حکم دیتے ہیں کہ مثلاً لا الٰہ پر سر اور گردن کو پیچھے لے جاؤ اور یہ خیال کرو کہ غیر اللہ کی محبت اور اس کا اثر دل سے خارج ہو رہا ہے ۔ اور پھر الا اﷲ کی ضرب دل پر لگاؤ کہ اللہ کا نور یا اللہ کی محبت دل میں پیوست ہو رہی ہے ۔ یہ ضربیں متواتر اور مسلسل لگائی جاتی ہیں ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دل سے غیر اللہ کی مقصودیت فنا ہوکر اللہ کی معبودیت مستحکم ہوجائے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے یہ طریق زیادہ موثر ثابت ہوا ہے ۔ کبھی مشائخ ذکر قلبی تلقین کرتے ہیں ۔ اور اس کے بھی مختلف طریقے ہیں ، مثلا یہ کہ خیال کرو کہ دل کی دھڑکنیں ناطق ہیں ۔ اور اللہ اللہ کر رہی ہیں ۔ یہ طریقے اس لئے ا ختیار کئے جاتے ہیں کہ ذکر کا رسوخ ہوجائے ۔ کبھی پورے کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی مشق کراتے ہیں ۔ کبھی الا اللہ کی ضرب لگاتے ہیں ۔ کبھی صرف اللہ اللہ رٹاتے ہیں ۔ یہ سب تمرینات ہیں ۔ اور تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ ان کے مختلف اثرات قلب پر مرتب ہوتے ہیں ۔ یہ سب قلب میں ذکر کے رسوخ کے اسباب و ذرائع ہیں ۔ انہیں بدعت قرار دینا دینی اعتبار سے اپنی ذہنی افلاس کی خبر دینا ہے ۔ ایک بچہ قرآن حفظ کرتاہے ۔ ظاہر ہے کہ جب تک وہ قرآن کے الفاظ اپنی زبان


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
2 مولف 1 1
3 مرتب 1 1
4 ناشر 1 1
5 تفصیـــلات 3 1
6 عرض مرتب 4 1
7 تقریب 6 1
9 تصوف کی حقیقت اورتصوف و اصحاب تصوف کی اہمیت وضرورت 10 1
10 رات کے عبادت گزار اور دن کے شہ سوار: 13 1
11 متاع گم شدہ 17 1
12 تصوف کیا ہے ؟ 34 1
13 تمہید : 34 12
14 غلط فہمیاں :۔ 36 12
15 تصوف ایک اصطلاحی لفظ :۔ 40 12
16 تصوف کی حقیقت :۔ 41 12
17 اتباع سنت : 43 12
18 خلاصہ :۔ 45 12
19 دین میں تصوف کا مقام :۔ 46 12
20 اصلاح نفس کی اہمیت : 47 12
21 تصوف کے اجزاء :۔ 49 12
22 مقاصد تصوف :۔ 51 12
23 قوت یقین :۔ 53 12
24 مبادی تصوف :۔ 56 12
25 بیعت و صحبت : 57 12
26 صحبت کی تاثیر :۔ 58 12
27 صحبت کی برکت :۔ 59 12
28 ساعت کا مطلب :۔ 60 12
29 بیعت :۔ 61 12
30 بیعت کی ضرورت :۔ 63 12
31 شیخ کامل : 64 12
32 شیخ کامل کی پہچان :۔ 65 12
33 کچھ ضروری اور مفید ہدایات:۔ 66 12
34 شیخ کو سب سے افضل سمجھنا :۔ 66 12
35 ریاضات ومجاہدات :۔ 67 12
36 وسائل و مقاصد کا فرق :۔ 68 12
37 نفس و شیطان کی رخنہ اندازی :۔ 70 12
38 مجاہدے کی اقسام : 72 12
39 مجاہدہ ٔ جسمانی کے ارکان :۔ 73 12
40 اول قلت طعام : 73 39
41 دوسرے قلت منام : 73 39
42 تیسرے قلت کلام : 73 39
43 چوتھے قلت اختلاط مع الانام : 73 39
44 مجاہدہ نفس:۔ 74 12
45 مجاہدہ میں اعتدال :۔ 75 12
46 مرض کی شدت اور علاج کی سختی :۔ 76 12
47 اذکار… اشغال … مراقبات 78 1
48 اذکار :۔ 78 47
49 اشغال :۔ 81 47
50 اشغال کی ضرورت :۔ 83 47
51 مراقبات:۔ 83 47
52 مشارطہ اور محاسبہ :۔ 84 47
53 توابع وثمرات 86 47
54 احوال رفیعہ :۔ 87 47
55 ٍ چند احوال رفیعہ :۔ 89 47
56 الہام : 91 47
57 کشف : 92 47
58 کشف کی قسمیں : 92 47
59 علوم کشفیہ کا درجہ : 93 47
60 علماء مظاہر اور تصوف و سلوک 95 1
61 (۱)حضرت مولانا امیر باز خاں صاحب سہارنپور ی علیہ الرحمہ 130 60
62 (۲)حضرت مولانا محمد اشرف علی سلطان پوری جالندھری 131 60
63 (۳)حضرت مولانا حافظ سید تجمل حسین صاحب دیسنوی علیہ الرحمہ 131 60
64 (۴)حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری قدس سرہٗ 131 60
65 (۵) کرنال صوبۂ پنجاب کے قوی النسبت 132 60
66 ضمیمہ(۱) 134 1
67 ضمیمہ(۲) 136 1
68 اس مضمون کی تحریر میں حسب ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے۔ 137 1
69 تصوف ہمارا قیمتی سرمایہ 139 1
Flag Counter