Deobandi Books

تصوف ایک تعارف

ªصوف پر چ

55 - 145
’’تمام اذکار و اشغال و مراقبات وغیرہ کا خلاصہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی حضور ی ہر وقت میسر رہے ،بعض نے اس حضوری کے دو درجے کر دئیے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ اسم ذات مخیلہ ( قوت خیال ) میں قائم ہوجائے ۔ پھر اس سے مسمیٰ ( یعنی ذات حق ) کی طرف بآسانی راستہ مل  جاتا ہے ، ( اور یہی دوسرا درجہ ہے ) یہ جو بزرگوں نے چلہ وغیرہ کا طریقہ ایجاد کیا ہے ۔ اس کا یہی مطلب تھا کہ کوئی دوسرا نقش وخیال مخیلہ پر نہ پڑے ، مثلاً باہر نکلو تو گھونگھٹ کرکے نکلو کہ کسی کو دیکھو گے تو اس کی صورت کا نقش مخیلہ کو مکدر کردے گا۔ جس طرح انسان کو اپنی ہستی کا ہمہ وقت علم ہے کہ ’’ میں ہوں ‘‘ بس ایسا ملکہ بلکہ یہی علم حق تعالیٰ کے ساتھ رہنا چاہئے فرق اتنا ہے کہ اپنے تئیں جسم ، صورت شکل، آنکھ، ناک ، کان کے ساتھ مشاہدہ کرتاہے ۔ حق تعالیٰ کو بدوں اس کے مشاہدہ کرے کہ وہ ہے ۔	 ؎
دور بینا ن بارگاہ الست 
غیر ازیں پے نبردہ اند کہ ہست 
 حق تعالیٰ کی بارگاہ کے جو دور بیں حضرات ہیں ، ان کی رسائی اسی قدر ہے کہ ’’وہ ہے ‘‘ ( اس سے زیادہ ان کی بھی رسائی نہیں ہے ) 
کے یہی معنی ہیں ،ا ور النہایۃ راجعۃ الی البدایۃ کا یہی مطلب ہے ، کہ جس طرح نوزائیدہ بچہ جانتا ہے کہ ’’ اللہ ہے ‘‘ بس یہی قائم ہوجانا سب کچھ ہے ۔ انسان کسی وقت اپنی ہستی کو بھی بعض مصروفیت میں فراموش کر دیتا ہے ، لیکن یہ فراموشی نہایت خفیف اور کالعدم ہوتی ہے ۔ 
	پہلے بزرگ اخلاق سیئہ کو چھڑانے کی محنتیں کرایا کرتے تھے ، تاکہ یہ کام آسان ہوجائے ، مگر متاخرین نے خصوصاً ہمارے سلسلے کے بزرگوں نے یہ طریق پسند کیا ہے کہ ذکر اس قدر کثرت سے کرے کہ یہ اخلاق ذکر کے نیچے دب جائیں اور ذکر تمام باتوں پر غالب آجائے ۔		( تذکرۃ الرشید ج: ۲، ص: ۱۲)
	اذکار واشغال پر مفصل گفتگو تو آگے آرہی ہے، لیکن اس تحریر سے معلوم ہوا کہ


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
2 مولف 1 1
3 مرتب 1 1
4 ناشر 1 1
5 تفصیـــلات 3 1
6 عرض مرتب 4 1
7 تقریب 6 1
9 تصوف کی حقیقت اورتصوف و اصحاب تصوف کی اہمیت وضرورت 10 1
10 رات کے عبادت گزار اور دن کے شہ سوار: 13 1
11 متاع گم شدہ 17 1
12 تصوف کیا ہے ؟ 34 1
13 تمہید : 34 12
14 غلط فہمیاں :۔ 36 12
15 تصوف ایک اصطلاحی لفظ :۔ 40 12
16 تصوف کی حقیقت :۔ 41 12
17 اتباع سنت : 43 12
18 خلاصہ :۔ 45 12
19 دین میں تصوف کا مقام :۔ 46 12
20 اصلاح نفس کی اہمیت : 47 12
21 تصوف کے اجزاء :۔ 49 12
22 مقاصد تصوف :۔ 51 12
23 قوت یقین :۔ 53 12
24 مبادی تصوف :۔ 56 12
25 بیعت و صحبت : 57 12
26 صحبت کی تاثیر :۔ 58 12
27 صحبت کی برکت :۔ 59 12
28 ساعت کا مطلب :۔ 60 12
29 بیعت :۔ 61 12
30 بیعت کی ضرورت :۔ 63 12
31 شیخ کامل : 64 12
32 شیخ کامل کی پہچان :۔ 65 12
33 کچھ ضروری اور مفید ہدایات:۔ 66 12
34 شیخ کو سب سے افضل سمجھنا :۔ 66 12
35 ریاضات ومجاہدات :۔ 67 12
36 وسائل و مقاصد کا فرق :۔ 68 12
37 نفس و شیطان کی رخنہ اندازی :۔ 70 12
38 مجاہدے کی اقسام : 72 12
39 مجاہدہ ٔ جسمانی کے ارکان :۔ 73 12
40 اول قلت طعام : 73 39
41 دوسرے قلت منام : 73 39
42 تیسرے قلت کلام : 73 39
43 چوتھے قلت اختلاط مع الانام : 73 39
44 مجاہدہ نفس:۔ 74 12
45 مجاہدہ میں اعتدال :۔ 75 12
46 مرض کی شدت اور علاج کی سختی :۔ 76 12
47 اذکار… اشغال … مراقبات 78 1
48 اذکار :۔ 78 47
49 اشغال :۔ 81 47
50 اشغال کی ضرورت :۔ 83 47
51 مراقبات:۔ 83 47
52 مشارطہ اور محاسبہ :۔ 84 47
53 توابع وثمرات 86 47
54 احوال رفیعہ :۔ 87 47
55 ٍ چند احوال رفیعہ :۔ 89 47
56 الہام : 91 47
57 کشف : 92 47
58 کشف کی قسمیں : 92 47
59 علوم کشفیہ کا درجہ : 93 47
60 علماء مظاہر اور تصوف و سلوک 95 1
61 (۱)حضرت مولانا امیر باز خاں صاحب سہارنپور ی علیہ الرحمہ 130 60
62 (۲)حضرت مولانا محمد اشرف علی سلطان پوری جالندھری 131 60
63 (۳)حضرت مولانا حافظ سید تجمل حسین صاحب دیسنوی علیہ الرحمہ 131 60
64 (۴)حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری قدس سرہٗ 131 60
65 (۵) کرنال صوبۂ پنجاب کے قوی النسبت 132 60
66 ضمیمہ(۱) 134 1
67 ضمیمہ(۲) 136 1
68 اس مضمون کی تحریر میں حسب ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے۔ 137 1
69 تصوف ہمارا قیمتی سرمایہ 139 1
Flag Counter