تصوف ایک تعارف |
ªصوف پر چ |
|
’’تمام اذکار و اشغال و مراقبات وغیرہ کا خلاصہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی حضور ی ہر وقت میسر رہے ،بعض نے اس حضوری کے دو درجے کر دئیے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ اسم ذات مخیلہ ( قوت خیال ) میں قائم ہوجائے ۔ پھر اس سے مسمیٰ ( یعنی ذات حق ) کی طرف بآسانی راستہ مل جاتا ہے ، ( اور یہی دوسرا درجہ ہے ) یہ جو بزرگوں نے چلہ وغیرہ کا طریقہ ایجاد کیا ہے ۔ اس کا یہی مطلب تھا کہ کوئی دوسرا نقش وخیال مخیلہ پر نہ پڑے ، مثلاً باہر نکلو تو گھونگھٹ کرکے نکلو کہ کسی کو دیکھو گے تو اس کی صورت کا نقش مخیلہ کو مکدر کردے گا۔ جس طرح انسان کو اپنی ہستی کا ہمہ وقت علم ہے کہ ’’ میں ہوں ‘‘ بس ایسا ملکہ بلکہ یہی علم حق تعالیٰ کے ساتھ رہنا چاہئے فرق اتنا ہے کہ اپنے تئیں جسم ، صورت شکل، آنکھ، ناک ، کان کے ساتھ مشاہدہ کرتاہے ۔ حق تعالیٰ کو بدوں اس کے مشاہدہ کرے کہ وہ ہے ۔ ؎ دور بینا ن بارگاہ الست غیر ازیں پے نبردہ اند کہ ہست حق تعالیٰ کی بارگاہ کے جو دور بیں حضرات ہیں ، ان کی رسائی اسی قدر ہے کہ ’’وہ ہے ‘‘ ( اس سے زیادہ ان کی بھی رسائی نہیں ہے ) کے یہی معنی ہیں ،ا ور النہایۃ راجعۃ الی البدایۃ کا یہی مطلب ہے ، کہ جس طرح نوزائیدہ بچہ جانتا ہے کہ ’’ اللہ ہے ‘‘ بس یہی قائم ہوجانا سب کچھ ہے ۔ انسان کسی وقت اپنی ہستی کو بھی بعض مصروفیت میں فراموش کر دیتا ہے ، لیکن یہ فراموشی نہایت خفیف اور کالعدم ہوتی ہے ۔ پہلے بزرگ اخلاق سیئہ کو چھڑانے کی محنتیں کرایا کرتے تھے ، تاکہ یہ کام آسان ہوجائے ، مگر متاخرین نے خصوصاً ہمارے سلسلے کے بزرگوں نے یہ طریق پسند کیا ہے کہ ذکر اس قدر کثرت سے کرے کہ یہ اخلاق ذکر کے نیچے دب جائیں اور ذکر تمام باتوں پر غالب آجائے ۔ ( تذکرۃ الرشید ج: ۲، ص: ۱۲) اذکار واشغال پر مفصل گفتگو تو آگے آرہی ہے، لیکن اس تحریر سے معلوم ہوا کہ