تصوف ایک تعارف |
ªصوف پر چ |
|
جسم کے ساتھ جو عناصر اربعہ سے مرکب ہے ۔ ایک غیر مادی چیز بھی جوڑ رکھی ہے ، جس کا تعلق بنیادی طور پر جسم کے ساتھ کم اور عالم غیب کے ساتھ زیادہ ہے ۔ وہ روح ہے ۔ اور جس طرح محسوس چیزوں کے ادراک و علم کیلئے اللہ تعالیٰ نے جسم انسانی میں مختلف اعضاء بنا کر ان میں احساس کی طاقت رکھ دی ہے ۔ مثلا ً آنکھ میں دیکھنے ، کان میں سننے ، زبان میں ذائقہ ، ناک میں سونگھنے ، اور کھال میں چھونے کی طاقت رکھ دی ہے ۔ اسی طرح عالم غیب کی چیزوں کے ادراک کیلئے اللہ تعالیٰ نے روح کو بھی جسم کاایک حصہ عطا فرمایا ہے ۔ اور اس میں امورغیبیہ کے ادراک کی قوت ودیعت فرمادی ہے ۔ اس کا نام ’’ قلب‘‘ ہے ۔ پھر ہر شخص یہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ جس حاسہ سے کام لیا جاتا رہے گا وہ اپنا فریضہ باقاعدہ انجام دیتا رہے گا اور جس حاسہ کو معطل کر دیا جائے،رفتہ رفتہ اس کی طاقت ضعیف ہوجاتی ہے ۔ مثلاً اگر نگاہ کو معطل کر دیا جائے ،ہمیشہ آنکھ پر پٹی بندھی رہے ، اور اس سے کام نہ لیا جائے تو زیادہ مدت نہیں گزرے گی ، کہ بصارت ضعیف ہوجائے گی ،۔ اور ایک عرصہ میں بالکل زائل ہوجائے گی ۔ بعینہٖ یہی حال قلب کا بھی ہے ۔ اگر اسکو امور غیبیہ کے ساتھ جوڑے رکھا گیا اور اس کے موانع کے دورکرنے کا اہتمام کیا گیا تو اس کو غیبی امور کے ساتھ مناسبت قوی ہوتی جائے گی،یہاں تک کہ یہ اپنی قوت کی وجہ سے تمام حواس ظاہرہ پر غالب آجائے گا۔ اور غیبی امور کے ساتھ اس کے تعلق کی ترتیب یہ ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کیا جائے ، ذکر کا اصل محل قلب ہے ، مگر اس میں ذکر جاگزیں کرنے کیلئے زبان سے کام لینا پڑتا ہے ۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ذکر کے دل میں راسخ ہونے سے جو چیزیں مانع ہیں ، ان سے علی حسب مراتب اور بقدر ضرورت اجتناب کیا جائے تاکہ اللہ کی یاد دل میں بیٹھ کر حضوری کی کیفیت پیدا کر دے ، اس مرتبہ میں پہونچ کر آدمی کو یقین کی قوت حاصل ہوتی ہے ۔ حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی ؒ نے اس حقیقت کو سمجھانے کیلئے ایک بار ارشاد فرمایا کہ :