Deobandi Books

تصوف ایک تعارف

ªصوف پر چ

54 - 145
جسم کے ساتھ جو عناصر اربعہ سے مرکب ہے ۔ ایک غیر مادی چیز بھی جوڑ رکھی ہے ، جس کا تعلق بنیادی طور پر جسم کے ساتھ کم اور عالم غیب کے ساتھ زیادہ ہے ۔ وہ روح ہے ۔ اور جس طرح محسوس چیزوں کے ادراک و علم کیلئے اللہ تعالیٰ نے جسم انسانی میں مختلف اعضاء بنا کر ان میں احساس کی طاقت رکھ دی ہے ۔ مثلا ً آنکھ میں دیکھنے ، کان میں سننے ، زبان میں ذائقہ ، ناک میں سونگھنے ، اور کھال میں چھونے کی طاقت رکھ دی ہے ۔ اسی طرح عالم غیب کی چیزوں کے ادراک کیلئے اللہ تعالیٰ نے روح کو بھی جسم کاایک حصہ عطا فرمایا ہے ۔ اور اس میں امورغیبیہ کے ادراک کی قوت ودیعت فرمادی ہے ۔ اس کا نام ’’ قلب‘‘ ہے ۔ 
	پھر ہر شخص یہ بھی بخوبی جانتا ہے کہ جس حاسہ سے کام لیا جاتا رہے گا وہ اپنا فریضہ باقاعدہ انجام دیتا رہے گا اور جس حاسہ کو معطل کر دیا جائے،رفتہ رفتہ اس کی طاقت ضعیف ہوجاتی ہے ۔ مثلاً اگر نگاہ کو معطل کر دیا جائے ،ہمیشہ آنکھ پر پٹی بندھی رہے ، اور اس سے کام نہ لیا جائے تو زیادہ مدت نہیں گزرے گی ، کہ بصارت ضعیف ہوجائے گی ،۔ اور ایک عرصہ میں بالکل زائل ہوجائے گی ۔ 
	بعینہٖ یہی حال قلب کا بھی ہے ۔ اگر اسکو امور غیبیہ کے ساتھ جوڑے رکھا گیا اور اس کے موانع کے دورکرنے کا اہتمام کیا گیا تو اس کو غیبی امور کے ساتھ مناسبت قوی ہوتی جائے گی،یہاں تک کہ یہ اپنی قوت کی وجہ سے تمام حواس ظاہرہ پر غالب آجائے گا۔ اور غیبی امور کے ساتھ اس کے تعلق کی ترتیب یہ ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کیا جائے ، ذکر کا اصل محل قلب ہے ، مگر اس میں ذکر جاگزیں کرنے کیلئے زبان سے کام لینا پڑتا ہے ۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ ذکر کے دل میں راسخ ہونے سے جو چیزیں مانع ہیں ، ان سے علی حسب مراتب اور بقدر ضرورت اجتناب کیا جائے تاکہ اللہ کی یاد دل میں بیٹھ کر حضوری کی کیفیت پیدا کر دے ، اس مرتبہ میں پہونچ کر آدمی کو یقین کی قوت حاصل ہوتی ہے ۔ 
	حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی ؒ نے اس حقیقت کو سمجھانے کیلئے ایک بار ارشاد فرمایا کہ : 


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
2 مولف 1 1
3 مرتب 1 1
4 ناشر 1 1
5 تفصیـــلات 3 1
6 عرض مرتب 4 1
7 تقریب 6 1
9 تصوف کی حقیقت اورتصوف و اصحاب تصوف کی اہمیت وضرورت 10 1
10 رات کے عبادت گزار اور دن کے شہ سوار: 13 1
11 متاع گم شدہ 17 1
12 تصوف کیا ہے ؟ 34 1
13 تمہید : 34 12
14 غلط فہمیاں :۔ 36 12
15 تصوف ایک اصطلاحی لفظ :۔ 40 12
16 تصوف کی حقیقت :۔ 41 12
17 اتباع سنت : 43 12
18 خلاصہ :۔ 45 12
19 دین میں تصوف کا مقام :۔ 46 12
20 اصلاح نفس کی اہمیت : 47 12
21 تصوف کے اجزاء :۔ 49 12
22 مقاصد تصوف :۔ 51 12
23 قوت یقین :۔ 53 12
24 مبادی تصوف :۔ 56 12
25 بیعت و صحبت : 57 12
26 صحبت کی تاثیر :۔ 58 12
27 صحبت کی برکت :۔ 59 12
28 ساعت کا مطلب :۔ 60 12
29 بیعت :۔ 61 12
30 بیعت کی ضرورت :۔ 63 12
31 شیخ کامل : 64 12
32 شیخ کامل کی پہچان :۔ 65 12
33 کچھ ضروری اور مفید ہدایات:۔ 66 12
34 شیخ کو سب سے افضل سمجھنا :۔ 66 12
35 ریاضات ومجاہدات :۔ 67 12
36 وسائل و مقاصد کا فرق :۔ 68 12
37 نفس و شیطان کی رخنہ اندازی :۔ 70 12
38 مجاہدے کی اقسام : 72 12
39 مجاہدہ ٔ جسمانی کے ارکان :۔ 73 12
40 اول قلت طعام : 73 39
41 دوسرے قلت منام : 73 39
42 تیسرے قلت کلام : 73 39
43 چوتھے قلت اختلاط مع الانام : 73 39
44 مجاہدہ نفس:۔ 74 12
45 مجاہدہ میں اعتدال :۔ 75 12
46 مرض کی شدت اور علاج کی سختی :۔ 76 12
47 اذکار… اشغال … مراقبات 78 1
48 اذکار :۔ 78 47
49 اشغال :۔ 81 47
50 اشغال کی ضرورت :۔ 83 47
51 مراقبات:۔ 83 47
52 مشارطہ اور محاسبہ :۔ 84 47
53 توابع وثمرات 86 47
54 احوال رفیعہ :۔ 87 47
55 ٍ چند احوال رفیعہ :۔ 89 47
56 الہام : 91 47
57 کشف : 92 47
58 کشف کی قسمیں : 92 47
59 علوم کشفیہ کا درجہ : 93 47
60 علماء مظاہر اور تصوف و سلوک 95 1
61 (۱)حضرت مولانا امیر باز خاں صاحب سہارنپور ی علیہ الرحمہ 130 60
62 (۲)حضرت مولانا محمد اشرف علی سلطان پوری جالندھری 131 60
63 (۳)حضرت مولانا حافظ سید تجمل حسین صاحب دیسنوی علیہ الرحمہ 131 60
64 (۴)حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری قدس سرہٗ 131 60
65 (۵) کرنال صوبۂ پنجاب کے قوی النسبت 132 60
66 ضمیمہ(۱) 134 1
67 ضمیمہ(۲) 136 1
68 اس مضمون کی تحریر میں حسب ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے۔ 137 1
69 تصوف ہمارا قیمتی سرمایہ 139 1
Flag Counter