(۳) اپنے مصاحبین پر اعتماد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تینوں قسموں سے مالا مال تھے، اور یہی وصف ہر مسلمان میں مطلوب ہے۔
اللہ پر اعتماد کو اصطلاح میں ’’توکل‘‘ کہا جاتا ہے، قرآن میں توکل کا حکم بھی ہے اور اس کے فوائد ونتائج کا بیان بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے کہا گیا:
لا الٰہ الا ہو فاتخذہ وکیلاً۔ (المزمل: ۹)
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی بندگی کے قابل نہیں ، تو آپ اسی کو اپنا وکیل بنالیجئے۔
جگہ جگہ اللہ کو ’’نعم الوکیل‘‘ (بہترین کارساز) کہا گیا ہے، فرمایا گیا:
ومن یتوکل علی اللّٰہ فہو حسبہ۔ (الطلاق: ۳)
ترجمہ: جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لئے اللہ کافی ہے۔
قرآن اپنے پیروؤں کو زیور توکل سے آراستہ ہونے کی جابجا تلقین کرتا اور دہراتا ہے کہ:
وعلی اللّٰہ فلیتوکل المؤمنون۔ (اٰل عمران: ۱۶۰، تغابن: ۱۳)
ترجمہ: اہل ایمان کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔
ایک جگہ ارشاد ہے:
وتوکل علی الحی الذی لا یموت۔ (الفرقان: ۵۸)
ترجمہ: تم اس اللہ پر بھروسہ کرو جو زندۂ جاوید اور فنا ناآشنا ہے۔
یہاں یہ ملحوظ رہے کہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا اور اختیار ی اسباب ووسائل کو استعمال میں نہ لانا نہیں ہے؛ بلکہ تمام ممکنہ ظاہری اسباب وتدابیر کو اختیار کرکے نتائج اللہ کے سپرد کرنا اور بے فکر ہوجانا توکل ہے، مگر دل کا اعتماد اللہ کی ذات پر ہو، یہ یقین ہو کہ قدرتِ خداوندی ان اسباب کی پابند نہیں ہے، اللہ چاہے تو ان اسباب کے بغیر بھی سب کچھ کرسکتا ہے، اور ظاہری اسباب کی حیثیت بس صرف اتنی ہی ہے کہ وہ اللہ کے مقرر کردہ ذرائع اورراستے ہیں جن سے ہم تک اشیاء کی رسائی ہوتی ہے، جیسے ہم تک پانی کی رسائی نلوں کے راستے سے تو ہوتی ہے،