کرو، اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں سلف کے مختلف اقوال ہیں ، چند کا ذکر کیا جاتا ہے:
حضرت ابن عباس اس کا مطلب بیان کرتے ہیں کہ قرآن وسنت کی مخالفت نہ کرو اور ان کے خلاف نہ کہو۔ (جامع البیان طبری ۲۶؍۷۴)
ضحاک نے کہا کہ جہاد اور احکام شرعیہ کے باب میں خدا اور رسول کے حکم کے علاوہ کوئی فیصلہ از خود نہ کرو۔ (تفسیر بغوی ۴؍۲۰۹)
امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ: ’’اپنی جنگوں میں اور اپنے دینی معاملات میں اللہ ورسول کے فیصلے سے قبل جلد بازی میں کوئی فیصلہ مت کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ خدا اور رسول کے منشا اور حق کے خلاف کچھ کربیٹھو۔ {لا تقدموا} کی تعبیر عرب میں امر ونہی کے باب میں جلد بازی کرنے کے معنی میں آتی ہے‘‘۔ (جامع البیان ۲۶؍۷۴)
مفسر قرطبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ’’اللہ ورسول سے قولاً وفعلاً سبقت مت کرو، رسول سے سبقت اللہ سے سبقت ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں ‘‘۔ (الجامع لاحکام القرآن قرطبی ۱۶؍۳۰۰)
ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کے بقول ہر معاملہ میں اللہ ورسول کے تابع ہوجاؤ۔
(تفسیر ابن کثیر ۴؍۲۲۰)
ان مختلف اقوال میں کوئی تعارض نہیں ، آیت میں ہر نوع کی سبقت وپیش قدمی سے منع کردیا گیا ہے، اور ہر معاملہ میں اللہ ورسول کے فیصلے کو اپنی رائے پر مقدم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، آیت کو دیکھا جائے تو بظاہر اس چیز کی صراحت نہیں ملتی جس میں پیش قدمی سے روکا جارہا ہے، اس طرح یہ اشارہ کردیا گیا کہ ہر چیز میں پیش قدمی ممنوع ہے، حکم عام ہے۔ آپ سے آگے چلنا، آپ سے پہلے کھانا شروع کردینا سب اس میں داخل ہیں ، ہاں جب صراحت کے ساتھ آپ پیش قدمی کی اجازت دیں تب گنجائش ہے، گویا اس آیت کا پیغام کامل اتباع اور اپنے اجتہاد پر کتاب وسنت کو مقدم رکھنا اور سب سے پہلے ان کی طرف رجوع کرنا ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو