Deobandi Books

تصوف ایک تعارف

ªصوف پر چ

52 - 145
قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ  الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُوْنَ۔  
کامیاب ہوئے وہ مومن جو اپنی نماز میں صاحب خشوع ہیں ۔ 
	ہم اس جگہ چاہتے ہیں کہ مقاصد تصوف کی تفصیل بقدر ضرورت کردیں ، تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جس تصوف کی مخالفت آج کل ایک فیشن بن گئی ہے، وہ انسان کو کن بلندیوں تک پہونچانا چاہتا ہے اور اس سے محروم ہوکر لوگ کن پستیوں میں جاپڑے ہیں ۔
	حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی جماعت علماء ومشائخ دیوبند کے سرخیل ہیں ، جو ایک طرف باکمال محدث اور زبردست فقیہ ہیں تو دوسری طرف اعلیٰ درجہ کے صوفی اور شیخ طریقت بھی ہیں ، جن کے فیض صحبت سے علماء ربانیین کی ایک بڑی تعداد وجود میں آئی ۔ اور جن کے انفاس قدسیہ کی برکت سے برسوں کی نہیں ، بلکہ صدیوں کی جمی جمائی بدعات کا خیمہ اکھڑ گیا۔ ان کی ایک مختصر تحریر اس موضوع پر عربی زبان میں تذکرۃ الرشید میں مولانا عاشق الٰہی صاحب میرٹھی مرحوم نے نقل کی ہے ۔ اصل عبارت نقل کرنے میں ذرا طوالت ہے ۔ تذکرۃ الرشید میں ملاحظہ فرمالیں ۔ یہاں ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ 
(۱) علم صوفیہ : نام ہے علم دین کا خواہ ظاہری ہو یا باطنی اور قوت یقین کا، اور یہی علم اعلیٰ ہے ۔ 
(۲) حال صوفیہ : اخلاق کاسنوارنا اور ہمیشہ خدا کی طرف لولگائے رکھنا ۔
(۳) حقیقت تصوف: اللہ تعالیٰ کے اخلاق کے ساتھ مزین ہونا، اپنے ارادہ کو ترک کرنا اور بندے کا اللہ تعالیٰ کی رضا میں بالکلیہ محو ہوجانا۔ 
(۴) اخلاق صوفیہ :۔ وہی ہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  کے اخلاق ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم ۔ بیشک تم بڑے خلق پر فائز ہو نیز جو کچھ حدیث میں آیاہے اس پر عمل کرنا۔ 
	صوفیہ کے اخلاق کی تفصیل یہ ہے :
(۱)  اپنے آپ کو کمتر سمجھنا ، اس کی ضد تکبر ہے ۔ (۲) مخلوق کے ساتھ لطف و مہربانی کے


x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 2 0
2 مولف 1 1
3 مرتب 1 1
4 ناشر 1 1
5 تفصیـــلات 3 1
6 عرض مرتب 4 1
7 تقریب 6 1
9 تصوف کی حقیقت اورتصوف و اصحاب تصوف کی اہمیت وضرورت 10 1
10 رات کے عبادت گزار اور دن کے شہ سوار: 13 1
11 متاع گم شدہ 17 1
12 تصوف کیا ہے ؟ 34 1
13 تمہید : 34 12
14 غلط فہمیاں :۔ 36 12
15 تصوف ایک اصطلاحی لفظ :۔ 40 12
16 تصوف کی حقیقت :۔ 41 12
17 اتباع سنت : 43 12
18 خلاصہ :۔ 45 12
19 دین میں تصوف کا مقام :۔ 46 12
20 اصلاح نفس کی اہمیت : 47 12
21 تصوف کے اجزاء :۔ 49 12
22 مقاصد تصوف :۔ 51 12
23 قوت یقین :۔ 53 12
24 مبادی تصوف :۔ 56 12
25 بیعت و صحبت : 57 12
26 صحبت کی تاثیر :۔ 58 12
27 صحبت کی برکت :۔ 59 12
28 ساعت کا مطلب :۔ 60 12
29 بیعت :۔ 61 12
30 بیعت کی ضرورت :۔ 63 12
31 شیخ کامل : 64 12
32 شیخ کامل کی پہچان :۔ 65 12
33 کچھ ضروری اور مفید ہدایات:۔ 66 12
34 شیخ کو سب سے افضل سمجھنا :۔ 66 12
35 ریاضات ومجاہدات :۔ 67 12
36 وسائل و مقاصد کا فرق :۔ 68 12
37 نفس و شیطان کی رخنہ اندازی :۔ 70 12
38 مجاہدے کی اقسام : 72 12
39 مجاہدہ ٔ جسمانی کے ارکان :۔ 73 12
40 اول قلت طعام : 73 39
41 دوسرے قلت منام : 73 39
42 تیسرے قلت کلام : 73 39
43 چوتھے قلت اختلاط مع الانام : 73 39
44 مجاہدہ نفس:۔ 74 12
45 مجاہدہ میں اعتدال :۔ 75 12
46 مرض کی شدت اور علاج کی سختی :۔ 76 12
47 اذکار… اشغال … مراقبات 78 1
48 اذکار :۔ 78 47
49 اشغال :۔ 81 47
50 اشغال کی ضرورت :۔ 83 47
51 مراقبات:۔ 83 47
52 مشارطہ اور محاسبہ :۔ 84 47
53 توابع وثمرات 86 47
54 احوال رفیعہ :۔ 87 47
55 ٍ چند احوال رفیعہ :۔ 89 47
56 الہام : 91 47
57 کشف : 92 47
58 کشف کی قسمیں : 92 47
59 علوم کشفیہ کا درجہ : 93 47
60 علماء مظاہر اور تصوف و سلوک 95 1
61 (۱)حضرت مولانا امیر باز خاں صاحب سہارنپور ی علیہ الرحمہ 130 60
62 (۲)حضرت مولانا محمد اشرف علی سلطان پوری جالندھری 131 60
63 (۳)حضرت مولانا حافظ سید تجمل حسین صاحب دیسنوی علیہ الرحمہ 131 60
64 (۴)حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری قدس سرہٗ 131 60
65 (۵) کرنال صوبۂ پنجاب کے قوی النسبت 132 60
66 ضمیمہ(۱) 134 1
67 ضمیمہ(۲) 136 1
68 اس مضمون کی تحریر میں حسب ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے۔ 137 1
69 تصوف ہمارا قیمتی سرمایہ 139 1
Flag Counter