تصوف ایک تعارف |
ªصوف پر چ |
|
قَدْ اَفْلَحَ الْمُوْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُوْنَ۔ کامیاب ہوئے وہ مومن جو اپنی نماز میں صاحب خشوع ہیں ۔ ہم اس جگہ چاہتے ہیں کہ مقاصد تصوف کی تفصیل بقدر ضرورت کردیں ، تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جس تصوف کی مخالفت آج کل ایک فیشن بن گئی ہے، وہ انسان کو کن بلندیوں تک پہونچانا چاہتا ہے اور اس سے محروم ہوکر لوگ کن پستیوں میں جاپڑے ہیں ۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی جماعت علماء ومشائخ دیوبند کے سرخیل ہیں ، جو ایک طرف باکمال محدث اور زبردست فقیہ ہیں تو دوسری طرف اعلیٰ درجہ کے صوفی اور شیخ طریقت بھی ہیں ، جن کے فیض صحبت سے علماء ربانیین کی ایک بڑی تعداد وجود میں آئی ۔ اور جن کے انفاس قدسیہ کی برکت سے برسوں کی نہیں ، بلکہ صدیوں کی جمی جمائی بدعات کا خیمہ اکھڑ گیا۔ ان کی ایک مختصر تحریر اس موضوع پر عربی زبان میں تذکرۃ الرشید میں مولانا عاشق الٰہی صاحب میرٹھی مرحوم نے نقل کی ہے ۔ اصل عبارت نقل کرنے میں ذرا طوالت ہے ۔ تذکرۃ الرشید میں ملاحظہ فرمالیں ۔ یہاں ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ (۱) علم صوفیہ : نام ہے علم دین کا خواہ ظاہری ہو یا باطنی اور قوت یقین کا، اور یہی علم اعلیٰ ہے ۔ (۲) حال صوفیہ : اخلاق کاسنوارنا اور ہمیشہ خدا کی طرف لولگائے رکھنا ۔ (۳) حقیقت تصوف: اللہ تعالیٰ کے اخلاق کے ساتھ مزین ہونا، اپنے ارادہ کو ترک کرنا اور بندے کا اللہ تعالیٰ کی رضا میں بالکلیہ محو ہوجانا۔ (۴) اخلاق صوفیہ :۔ وہی ہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم ۔ بیشک تم بڑے خلق پر فائز ہو نیز جو کچھ حدیث میں آیاہے اس پر عمل کرنا۔ صوفیہ کے اخلاق کی تفصیل یہ ہے : (۱) اپنے آپ کو کمتر سمجھنا ، اس کی ضد تکبر ہے ۔ (۲) مخلوق کے ساتھ لطف و مہربانی کے