أحیانه یعنی رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم ہر وقت اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے تھے۔اور اس شب میں مزدلفہ کو مزدلفہ میں رہنا سنت موکدہ ہے، اور صبح صادق کے بعد وقوف کرنا واجب ہے اور واجب کے چھوٹ جانے پر دم واجب ہو جاتاہے۔
مزدلفہ میں رات گذارنا سنت ِ مؤکدہ ہے، اور صبح صادق کے بعد غسل کرنا مندوب ہے اور تھوڑی دیر مزدلفہ میں وقوف کرنا واجب ہے،جیسا کہ پہلے گزر چکا اور سنت یہ ہے کہ دیر تک وقوف کرے، یہاں تک کہ سورج نکلنے میں تھوڑی دیر رہ جائے تو منٰی کیلئے روانہ ہوجائے، مزدلفہ ساری جگہ وقوف کی ہے، البتہ المشعر الحرام کے قریب وقوف کرنا افضل ہے،(جیساکہ پہلے گزر چکا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے واپس ہوکر مزدلفہ میں مغرب وعشاء کی نماز اکٹھی پڑھی، پھر آرام فرمایا، اس کے بعد صبح صادق ہوتے ہی نمازِ فجر اندھیرے میں پڑھ کر المشعر الحرام کے پاس تشریف لے گئے، اور قبلہ رخ ہوکر خوب زیادہ روشنی پھیل جانے تک دعا اور تکبیر وتہلیل میں اور توحید باری تعالیٰ ذکر کرنے میں مشغول رہے پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ کیلئے روانہ ہوگئے۔ (صحیح مسلم:ج۱/ص۳۹۹) (ازتفسیر أنوار البیان)
تنبیہ: بعض لوگ وقت سے پہلے ہی فجر کی اذان دے کر نمازِفجر مزدلفہ میں پڑھ کر منیٰ کو چلے جاتے ہیں۔ اول تو فرض نماز ترک کر کے گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں، کیونکہ وقت سے پہلے نماز نہیں ہوتی، دوسرے وقوفِ مزدلفہ چھوڑنے کا گناہ ہوتا ہے جو واجب ہے اور دم بھی واجب ہوتا ہے۔ حج کرنے نکلے ہیں قاعدہ کے مطابق عمل کریں۔ایک فرض (یعنی حج) ادا کیا اور دوسرافرض