حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کسی منزل پر پڑاؤ نہیں فرماتے تھے مگر اسے دورکعتوں سے رخصت فرماتے تھے۔ (مستدرک حاکم : ۱/۳۱۵)
امام نووی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ سفرکی دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد ‘‘ آیۃ الکرسی’’ اور ‘‘سورۃالقریش’’ پڑھے (حوالہ بالا)پھر مکمل توجہ اور حضور قلب کے ساتھ اپنے لئے اور تمام مسلمانوں کے لئے دنیا و آخر کی بھلائی کی دعاء مانگے، جب چلنے کے لئے اٹھے تو یہ دعاء پڑھے (اللَّھُمَّ اِلَیکَ تَوجھّتُ وَ بِکَ اِعْتَصَمْتُ اَللَّھُمَّ اکْفِنِیْ مَا ٲھَّمَّنِیْ وَ مَاَلا اَھْتَمَّ بِه اَللَّھُمَّ زَوِّدنِيْ التَّقْوَی)سنن الکبری للبیھقي ۵/۲۵۰)
ترجمہ: اے اللہ میں آپ ہی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور آپ ہی کی پناہ چاہتا ہوں اے اللہ میری کفایت کرو ان کاموں سے جنھوں نے مجھے تشوش میں دٓلا ہے اوران کاموں سے جن میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں، اور مجھے تقویٰ کا توشہ عنایت فرمائیں۔
(۱۳) گھرسے رخصت ہوتے وقت گھر والوں کو دعادینا اور گھروالے مسافرکو یہ دعا دیں
«أسْتَوْدِعُکُمُ اللہَ الْذِیْ لَا تَضِیعُ وَدَائِعُه» (مسنداحمد)
رخصت کرنے والوں کے لیے دعاء کرنا اوران سے عاء کی درخواست کرنا مستحب ہے ، جیسا کہ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ بنی کریم