علم اور علماء کرام کی عظمت |
ہم نوٹ : |
|
جاؤ۔ بعضے حالات ایسے پیش آجاتے ہیں کہ اس وقت سوائے شوہر کے کوئی بیوی کے قریب نہیں جا سکتا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ بیوی دوسری عورتوں سے کہے گی کہ تم اپنے شوہروں کو تبلیغ میں ضرور بھیجو، ہم بیمار تھے، ہمارے بچے کی پیدایش ہونے والی تھی، ہمارے شوہر کو تبلیغ والوں نے روک دیا کہ بھئی تم ہسپتال میں اپنی بیوی کی خدمت کرو۔ اﷲ کی رحمت بہت وسیع ہے، تھوڑاکام ہو، حدود کے ساتھ ہو اور اﷲ راضی ہو، وہ بہتر ہے اس کام سے جس میں حدود پاش پاش ہوجائیں اور قرآنِ کریم کی آیت وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِاللہِ 37؎ پر عمل نہ ہو۔ اور اس میں برکت بھی زیادہ ہوتی ہے۔وہ عورت دوسروں سے کہتی ہے کہ اپنے شوہروں کو تبلیغ میں بھیجو، لیکن اگر وہ بیوی کو اس تکلیف میں چھوڑ کر چلا گیا، تو کہے گی کہ اپنے شوہروں کو تبلیغ میں مت جانے دینا،ہم مر رہے تھے، وہ بھاگ گیا۔ ایک مفتی اور عالم جنہیں دو مشایخ مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی رحمۃ اللہ علیہ سے خلافت بھی حاصل ہے، انہوں نے اپنے داماد سے کہا کہ آج کل میں میری بیٹی کے ہاں بچّہ ہو نے والا ہے، وِلادت ہونے دو پھر بے شک تبلیغ میں چلے جاؤ، لیکن داماد صاحب اُسی دن چلے گئے۔ مفتی صاحب نے یہ واقعہ خود بیان کیا ہے، میں سنی سنائی روایت کو اہمیت نہیں دیتا۔ مفتی صاحب نے مجھ سے کہا کہ بتایئے! یہ تبلیغ ہے؟ اب اس کی بیوی ہزاروں عورتوں کو بد ظن کرے گی کہ یہ ظالم کیساتبلیغی تھا؟ اس نے ذرا بھی میرا حق ادا نہیں کیا۔ دیکھو! میرے دوست قاضی صاحب یہاں بیٹھے ہیں، تبلیغ میں انہوں نے عمر لگائی ہے، لیکن مولانا ابرارالحق دامت برکاتہم سے انہوں نے پوچھا کہ میری بیوی کو فالج ہوگیا ہے،سری لنکا میں تبلیغی اجتماع ہے، تو میرے وہاں جانے سے اﷲ راضی ہوگا یا بیوی کی خد مت کرنے سے؟ حضرت نے فرمایا کہ بیوی کی خدمت میں رہنے سے اﷲ زیادہ راضی ہوگا۔ اس پر فالج گرا ہوا ہے، شوہر کے سواکوئی دوسرا اس کی خدمت نہیں کرسکتا، ہر جگہ ہاتھ نہیں لگا سکتا،لہٰذا سری لنکا سے جو کچھ ملے گا وہ سب تم کو یہیں مل جائے گا، بلکہ زیادہ ملے گا۔ حدود کی _____________________________________________ 37؎التوبۃ:112