Deobandi Books

علم اور علماء کرام کی عظمت

ہم نوٹ :

58 - 82
جاؤ۔ بعضے حالات ایسے پیش آجاتے ہیں کہ اس وقت سوائے شوہر کے کوئی بیوی کے قریب نہیں جا سکتا۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ بیوی دوسری عورتوں سے کہے گی کہ تم اپنے شوہروں کو تبلیغ میں ضرور بھیجو، ہم بیمار تھے، ہمارے بچے کی پیدایش ہونے والی تھی، ہمارے شوہر کو تبلیغ والوں نے روک دیا کہ بھئی تم ہسپتال میں اپنی بیوی کی خدمت کرو۔ اﷲ کی رحمت بہت وسیع ہے، تھوڑاکام ہو، حدود کے ساتھ ہو اور اﷲ راضی ہو، وہ بہتر ہے اس کام سے جس میں حدود پاش پاش ہوجائیں اور قرآنِ کریم کی آیت وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِاللہِ37؎ پر عمل نہ ہو۔ اور اس میں برکت بھی زیادہ ہوتی ہے۔وہ عورت دوسروں سے کہتی ہے کہ اپنے شوہروں کو تبلیغ میں بھیجو، لیکن اگر وہ بیوی کو اس تکلیف میں چھوڑ کر چلا گیا، تو کہے گی کہ اپنے شوہروں کو تبلیغ میں مت جانے دینا،ہم مر رہے تھے، وہ بھاگ گیا۔
ایک مفتی اور عالم جنہیں دو مشایخ مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی رحمۃ اللہ علیہ سے خلافت بھی حاصل ہے، انہوں نے اپنے داماد سے کہا کہ آج کل میں میری بیٹی کے ہاں بچّہ ہو نے والا ہے، وِلادت ہونے دو پھر بے شک تبلیغ میں چلے جاؤ، لیکن داماد صاحب اُسی دن چلے گئے۔ مفتی صاحب نے یہ واقعہ خود بیان کیا ہے، میں سنی سنائی روایت کو اہمیت نہیں دیتا۔ مفتی صاحب نے مجھ سے کہا کہ بتایئے! یہ تبلیغ ہے؟ اب اس کی بیوی ہزاروں عورتوں کو بد ظن کرے گی کہ یہ ظالم کیساتبلیغی تھا؟ اس نے ذرا بھی میرا حق ادا نہیں کیا۔
دیکھو! میرے دوست قاضی صاحب یہاں بیٹھے ہیں، تبلیغ میں انہوں نے عمر لگائی ہے، لیکن مولانا ابرارالحق دامت برکاتہم سے انہوں نے پوچھا کہ میری بیوی کو فالج ہوگیا ہے،سری لنکا میں تبلیغی اجتماع ہے، تو میرے وہاں جانے سے اﷲ راضی ہوگا یا بیوی کی خد مت کرنے سے؟ حضرت نے فرمایا کہ بیوی کی خدمت میں رہنے سے اﷲ زیادہ راضی ہوگا۔ اس پر فالج گرا ہوا ہے، شوہر کے سواکوئی دوسرا اس کی خدمت نہیں کرسکتا، ہر جگہ ہاتھ نہیں لگا سکتا،لہٰذا سری لنکا سے جو کچھ ملے گا وہ سب تم کو یہیں مل جائے گا، بلکہ زیادہ ملے گا۔ حدود کی
_____________________________________________
37؎   التوبۃ:112
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عرضِ مرتب 8 1
3 شیخ بنانا کیوں ضروری ہے؟ 9 1
4 علماء کے سامنے دعوائےعلم بے ادبی ہے 11 1
5 عمامہ کے متعلق ایک غلط فہمی کا اِزالہ 12 1
6 لنگی پہننا سنّتِ مؤکدہ نہیں ہے 13 1
7 غیر ضروری کو ضروری سمجھنا گمراہی ہے 14 1
8 اصلی عشقِ رسول اتباعِ رسول ہے 15 1
9 حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کا واقعہ 16 1
10 حضرت آسیہ کا ایمان 17 1
11 نااہل سے مشورہ نہیں کرنا چاہیے 18 1
12 حضرت آسیہ کے لیے ایک عظیم الشان نعمت 19 1
13 اﷲ پر فدا ہونے کا انعام 19 1
14 اﷲ کے نام کی لذت 21 1
15 اہلِ علم کو اہلِ ذکر سے کیوں تعبیر کیا گیا؟ 23 1
16 حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کو سات نصیحتیں 23 1
17 صحابہ کرام کی دین کی حرص 24 1
18 علماء پر تنقید نادانی و بدفہمی ہے 25 1
19 اسلام کا پیغام سارے عالَم میں پہنچ چکا ہے 26 1
20 کافروں کو مسلمان کرنا فرض نہیں ہے 27 1
21 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی تعداد 29 1
22 علماء کی تحقیر حرام ہے 30 1
23 اہانتِ علم و علماء کفر ہے 32 1
24 اﷲ تعالیٰ کا اعلانِ جنگ 33 1
25 اہلِ علم کا بلند درجہ 34 1
26 علماء فرض کام میں لگے ہوئے ہیں 34 1
27 ہر مسلمان پر دعوت الی اللہ فرض نہیں 36 1
28 حضرت یوسف علیہ السلام کی دعائے حسنِ خاتمہ 38 1
29 دعوت الی اللہ کے لیے صلاحیت بھی شرط ہے 39 1
30 اپنی نظر میں حقیر ہونا مطلوب ہے 40 1
31 قرآنِ پاک کی رُو سے نبیوں والے کام 41 1
32 قرآن کا ترجمہ محض لغت سے کرنا عظیم گمراہی ہے 41 1
33 نباتات کے سجدہ کرنے سے کیا مراد ہے؟ 43 1
34 حکمت کی تعریف 44 1
35 ممنونِ سزا ہوں میری ناکردہ خطائیں 45 1
36 تزکیۂ نفس کے مدرسے کہاں ہیں؟ 47 1
37 تزکیۂ نفس کی مثال 49 1
38 تزکیۂ نفس کی تعریف 50 1
39 شیخِ کامل کے بغیر اصلاح نہیں ہوتی 52 1
40 جعلی پیروں کی جہالت 53 1
41 جس کا کوئی پیر نہ ہو اسے پیر نہ بنائیں 53 1
42 حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا توکّل 55 1
43 اپنی اور اہل و عیال کے دین کی فکر مقدم ہے 55 1
44 دین کے کام میں حدودِ شریعت کا لحاظ ضروری ہے 57 1
45 تبلیغی جماعت نافع ہے، کافی نہیں 62 1
46 تزکیۂ نفس علماء پر بھی فرض ہے 62 1
47 اکابر کا فنائے نفس 64 1
48 دین کے شعبے آپس میں رفیق ہیں، فریق نہیں 66 1
49 تبلیغی جماعت کا عظیم الشان فائدہ 67 1
50 تبلیغ کے مسائل بتانا تبلیغ کا انکار نہیں ہے 67 1
51 تبلیغی جماعت بہترین جماعت ہے 68 1
52 مبارک اور بے مثال جماعت 69 1
53 علماء کا اِکرام نجات کا سرمایہ ہے 70 1
54 کثرتِ ضحک کی شرح 71 1
55 ہنسنے میں بھی دل اﷲ سے غافل نہ ہو 73 1
56 حق بات کہنے کا سلیقہ 74 1
57 راہِ حق میں طعن و ملامت سے نہ ڈریں 75 1
58 اپنے عیوب کا استحضار رکھیں 76 1
59 اﷲ والے کی نافرمانی کی سزا 76 1
60 اہلِ علم کی فضیلت 78 1
61 بزرگوں کی دعاؤں کا اثر 78 1
Flag Counter