علم اور علماء کرام کی عظمت |
ہم نوٹ : |
|
لعنت کے باعث پریشان ہیں، بے چین ہیں، وہ جب دیکھتے ہیں کہ اﷲ کی عبادت کرکےیہ لوگ چٹنی روٹی کھا کر سوگئے تو وہ اسی سے اسلام لے آتے ہیں۔ لہٰذاان لوگوں کی تعریف اس حیثیت سے تو کرو کہ انہوں نے ایک مستحب عمل کیا، لیکن ان کو علماء پر فضیلت مت دو، کیوں کہ علماء بخاری شریف پڑھا رہے ہیں،علومِ نبوت کی حفاظت اور نشرو اشاعت کررہے ہیں جو فرض ہے اور اب تبلیغ میں جانافرض نہیں ہے، البتہ ایک مستحب اور پیارا عمل ہے۔ پس جو لوگ علماء کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ کل کافر قیامت کے دن علماء کے گریبان پکڑیں گے کہ تم لوگ اپنے مدرسوں میں پڑے رہے، ہمیں کفر کی تاریکی سے نہیں نکالا،تم نے ہمیں دوزخ میں کیوں جانے دیا؟ تو ایسے لوگ سخت نادان اور بے عقل ہیں۔ اس طرح کی باتوں کا یہ اثر ہوتا ہے کہ عوام الناس کے دماغ میں علماء کی بے وقعتی آجاتی ہے۔ اسلام کا پیغام سارے عالَم میں پہنچ چکا ہے اب میں مسئلہ بتاتا ہوں کہ بقول ان لوگوں کے اگر ان کافروں کو اسلام پہنچانا مستحب نہیں، فرض ہے تو ہمارے جتنے بھی بزرگ گزرے ہیں، مثلاً شاہ عبدالعزیز صاحب، شاہ ولی اﷲ صاحب، امام ابوحنیفہ، امام بخاری رحمہم اﷲیہ امریکا اور جاپان نہیں گئے، تو یہ سب کے سب کیا ہیں؟یہ سب کے سب تارکِ فرض ہوئے یا نہیں؟اور تارکِ فرض ولی اﷲ نہیں ہوسکتا، تو گویا بارہ سو برس تک کوئی ولی اﷲ ہی نہیں ہوا، اسی لیے میں نے ایک بہت بڑے مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھا کہ علماء کے متعلق اس طرح بیان کرنا کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ بالکل غلط اور جہالت پر مبنی ہے، چوں کہ اس کام میں اکثر علمائے محققین نہیں ہیں۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ آج اسلام اور ایمان سارے عالم میں پھیل گیا ہے، آج کوئی کافر ایسا نہیں جس کو یہ نہ معلوم ہو کہ اسلام کیا ہے، کوئی کافر ایسا نہیں جس کو معلوم نہ ہو کہ اسلام کے علاوہ کوئی دین اللہ کے نزدیک مقبول نہیں اور اسلام کے علاوہ جو کسی اور دین کو اختیار کرے گا جہنم میں جائے گا۔ اس لیے میں نے چند باتیں عرض کر دیں،کیوں کہ تبلیغی جماعتوں میں دوست احباب کے ساتھ ہماری بھی کافی شرکتیں ہوئی ہیں تو میں نے یہ مرض محسوس کیا، لہٰذا میں نے