Deobandi Books

آپ حج کیسے کریں - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

52 - 139
مسافر خانہ کی مسجد میں فلاں وقت حج کے متعلق روزانہ کچھ عرض کیا جاتا رہے گا آپ ضرور تشریف لائیں۔ یہ تیاری ہر تیاری پر مقدم ہے ہمارے امیر صاحب نے اور دو ایک اور عالموں نے صبح اور عشاء کے بعد کچھ بیان کرنا بھی شروع کیا‘ اور معلوم ہوا کہ حجاج میں احساس وتوجہ کی ایک لہر پیدا ہوئی اور بہت سے لوگ گویا سوتے سوتے چونک پڑے۔ ’’الفرقان‘‘ میں کام کا جو نقشہ دیا گیا ہے ۱؎ اس کے مطابق تعلیم و تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا گیا‘ اور الحمد للہ بہت موثر و مفید ثابت ہوا۔ لیجئے جہاز کی روانگی کا دن آپہنچا‘ آج بڑے ہنگامے کا دن ہے‘ میدان حشر کا ایک نمونہ ہے۔ نفسا نفسی کا عالم ہے‘ ہر ایک کو اس کی فکر ہے کہ اس کو اچھی سے اچھی جگہ مل جائے اور سامان محفوظ رہے۔ قانونی مراحل سب طے ہوئے سامان جہاز پر پہنچا‘ اب سوائے اللہ پر بھروسہ کے کوئی چارہ نہیں‘ جہاز پر داخلہ شروع ہو گیا اللہ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے یہ دن دکھایا‘ خدا وہ دن بھی دکھائے کہ سرزمین مقدس پر اترنا ہو‘ سفر عشق میں سامان راحت کا کیا سوال‘ پھر بھی اللہ کے احسان کے صدقے کہ ہم ضعیفوں کو امتحان میں نہیں ڈالا اور راحت وعافیت کی جگہ عطا فرمائی‘ لیجئے وہ سیٹی ہوئی‘ وہ لنگراٹھا‘ وہ ہاتھ سلام کے لیے اٹھے‘ وہ رومال وداع کے لیے ہلے‘ ان سب کو سب نے دیکھا مگر بہتے ہوئے آنسوئوں کو کس نے دیکھا اور گلوگیر آواز کو کس نے سنا‘ جانے والو! حج وزیارت تم کو مبارک ہو‘ مومن کی معراج تم کو مبارک ہو‘ مہجوروں کو نہ بھولنا۔ 

۱؎ 	جس سال مضمون لکھا گیا تھا اسی سال ایک دو مہینے پہلے حجاج میں تعلیمی وتبلیغی کام کا ایک نقشہ اور پروگرام ماہنامہ الفرقان میں لکھا گیا تھا اس کی طرف اشارہ ہے۔ 
ع ’’ہمیں بھی یاد رکھناذکر جب دربار میں آئے‘‘ 
جہاز روانہ ہوا سامان قاعدے سے لگایا نئی جگہ کا جائزہ لیا اب بڑی فکر اس کی ہے کہ نمازوں کا انتظام کیا ہوگا۔ یہ بارہ چودہ دن جن سے زیادہ فرصت کے اوقات برسوں میں نہ نصیب ہوئے ہوں گے کس طرح گزریں گے‘ تیاری کی ایک مہلت اور عمر بھر کی غفلتوں کی تلافی کا ایک موقع ملا ہے شامت اعمال سے یہ بھی کہیں ضائع نہ ہو جائے‘ مشورہ کیا‘ چل پھر کر دیکھا‘ معلوم ہوا کہ جہاز کی بالائی منزل پر نماز کے لیے ایک وسیع جگہ ہے‘ سمت قبلہ بتلانے کے لیے (جو جہاز پر ایک مشکل مسئلہ ہے) جہاز کی طرف سے انتظام ہے‘ چنانچہ لائوڈاسپیکر پر اعلان کیا گیا کہ اذانیں انشاء اللہ وقت پر ہوں گی حاجی صاحبان نماز کے لیے اذان کا انتظار کریں ورنہ اسکا خطرہ ہے کہ بے وقت نماز پڑھ لی جائے بالائی منزل پر نماز باجماعت ہوگی‘ قبلہ بتلانے کے لیے جہاز کی طرف سے انتظام ہوگا‘ بغیر تحقیق کے نماز نہ پڑھی جائے‘ الحمدللہ جماعت شروع ہو گئی‘ امام ومؤذن کا تعین ہوگیا۔ 
خیال ہوا کہ لائوڈ اسپیکر سے فائدہ اٹھایا جائے اور حجاج کو ان کی قیام گاہوں پر مفید اور ضرو ی باتیں پہنچائی جائیں۔ چنانچہ ایسے اوقات میں جو کھانے اور ناشتہ اور سونے سے فراغت کے ہیں تقاریر کا انتظام کیا گیا کوشش یہ کی گئی کہ دین کے عام احساس اور حج کی عظمت اور اس کے لئے تیاری کا خصوصی خیال پیدا کرنے والی اور دینی جذبات اور احساس ذمہ داری کو بیدار کرنے والی تقریریں کی جائیں۔ چنانچہ 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عازم حج کے نام 6 1
3 عرض ناشر 4 2
4 مرتب کی طرف سے 5 2
5 اچھے رفیق کی تلاش 6 2
6 اخلاص اور تصحیح نیت 7 2
7 گناہوں سے توبہ واستغفار 7 2
8 امیر قافلہ اور قافلہ کا تعلیمی نظام 8 2
9 بمبئی اور کراچی میں تبلیغی جماعتیں 9 2
10 بمبئی اور کراچی کی مدت قیام میں آپ کے مشاغل 9 2
11 جہاز پر سوار ہوتے وقت 9 2
12 سمندری سفر کا زمانہ 9 2
13 حج کی تین صورتیں 10 2
14 حج تمتع کا طریقہ 11 2
15 احرام کی پابندیاں 12 1
16 معلم کو پہلے سے سوچ رکھیے 12 1
17 جدہ 13 15
18 جدہ سے مکہ معظمہ 13 15
19 حد حرم 13 15
20 مکہ معظمہ میں داخلہ 14 15
21 مسجد حرام کی حاضری اور طواف 14 15
22 طواف کی دعائیں 15 15
23 رکعتین طواف 19 15
24 ملتزم پر دعا 20 15
25 زم زم شریف پر 21 1
26 صفا ومروہ کے درمیان سعی 21 25
27 حج سے پہلے مکہ معظمہ کے زمانۂ قیام کے مشاغل 23 25
28 آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام اور منیٰ کو روانگی 23 25
29 نصیب فرما اور میری ساری خطائیں معاف فرما۔‘‘ 24 25
30 ایک کار آمد نکتہ 24 25
31 ۸ ذی الحجہ کو منیٰ میں آپ کے مشاغل 25 25
32 نویں کی صبح کو عرفات روانگی 25 25
33 عرفات کا پروگرام 25 25
34 عرفات میں اپنا ایک مشاہدہ 26 25
35 جبل رحمت کے قریب دعا 27 25
36 اپنی مغفرت کا یقین 27 25
37 عرفات سے مزدلفہ 28 25
38 شب مزدلفہ کی فضیلت 28 25
39 رسول اللہﷺ کی ایک خاص دعا 29 25
40 مزدلفہ سے منیٰ کو روانگی 30 25
41 منیٰ میں جمرات کی رمی 30 25
42 دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرئہ عقبہ کی رمی 31 25
43 تلبیہ ختم 31 25
44 قربانی 31 25
45 حلق یاقصر 32 25
46 پھر منیٰ کو روانگی 33 25
47 ۱۱‘ ۱۲‘ ۱۳ ذی الحجہ کو منیٰ میں قیام اور رمی جمار 33 1
48 رمی جمار کے بعد دعا کی اہمیت 33 47
49 منیٰ کے ان دنوں میں آپ کے مشاغل 33 47
50 منیٰ میں دینی دعوت کی سنت کا احیاء 34 47
51 حج قران اور افراد 34 47
52 منیٰ سے مکہ معظمہ واپسی اور چند روز قیام 35 47
53 بیت اللہ کا داخلہ 37 47
54 خاص مقامات میں دعا کے متعلق ایک آخری مشورہ 38 47
55 مکہ معظمہ سے روانگی اور طواف رخصت 38 47
56 مدینہ طیبہ کو روانگی 40 47
57 گنبد خضرا پر پہلی نظر 40 47
58 اس سیاہ کار کی التجا 43 1
59 مواجہہ شریف میں اطمینانی حاضری کے اوقات 44 1
60 جنت البقیع 45 58
61 جبل احد 46 58
62 مدینہ طیبہ کے فقراء ومساکین 46 58
63 اللہ اللہ کر کے روانگی کی تاریخ آئی 48 58
64 تمنا ہے درختوں پہ ترے روضہ کے جا بیٹھے 57 58
65 کہ نصیب جاگے‘ حاضری دیجئے اور عرض کیجئے 58 58
66 جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو ہم وفا کر چلے 60 58
67 یہ بلبلوں کا صبا مشہد مقدس ہے قدم سنبھال کے رکھیو یہ تیرا باغ نہیں 61 58
68 یارب البیت‘ یارب البیت کی صدا بلند ہے۔ 68 58
69 وداع کعبہ 78 1
70 حرم نبوی میں داخلہ کے وقت 83 69
71 از حضرت مولانا مفتی محمد شفیعa 84 69
72 نعت سرکار مدینہ 84 69
73 کیف حضوری 85 69
74 بے تابیٔ شوق 87 69
75 عرض احسن 89 69
76 ہم غریبوں کا بھی سلطان غریباں کو سلام 99 69
77 حجاج کرام کے لیے حرمین شریفین میں روز مرہ کے لیے عربی بول چال کے چند ضروری الفاظ 101 69
Flag Counter