Deobandi Books

آپ حج کیسے کریں - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

11 - 139
اور بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ایسے کام اور ایسی باتیں کر بیٹھتے ہیں جن کی احرام کی حالت میں ممانعت ہے۔ اس لیے آج کل عوام کو ان دونوں صورتوں کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھا جائے اور مکہ معظمہ پہنچ کر عمرہ کر کے احرام ختم کر دیا جائے اور پھر آٹھویں ذی الحجہ کو مسجد حرام سے حج کا احرام باندھا جائے اس کو ’’ تمتع‘‘ کہتے ہیں۔ اکثر لوگوں کے لیے یہی تیسری صورت آسان اور بہتر ہوتی ہے اس لیے تفصیل سے اسی کا طریقہ لکھتا ہوں۔ 

۱؎ 	حج بدل کرنے والوں کے لئے افرادہی بہتر ہے۔ اگر چہ قران بھی وہ کر سکتے ہیں اور آمر کی اجازت سے تمتع بھی کر سکتے ہیں۔ 
حج تمتع کا طریقہ 
بہرحال اگر آپ میرے مشورہ کے مطابق تمتع کا ارادہ کریں تو جب میقات قریب آئے تو جیسے کہ اوپر ابھی بتلایا پہلے غسل کریں اور اگر کسی وجہ سے غسل نہ کر سکیں تو صرف وضوہی کر لیں اور سلے کپڑے جسم سے اتار کر ایک لنگی پہن لیں اور ایک چادر اوپر اوڑھ لیں اور ان ہی دونوں کپڑوں میں دور کعت نماز نفل پڑھیں۔ اس نماز میں سر چادر سے ڈھانک لینا چاہیے۔ پھر جیسے ہی سلام پھیریں سر سے چادر اتار دیں اور دل سے عمرہ کے احرام کی نیت کریں اور زبان سے بھی کہیں کہ اے اللہ! میں صرف تیری رضا کے لیے عمرہ کا احرام باندھتا ہوں تواس کو میرے لیے آسان فرما اور صحیح طریقے پر ادا کرنے کی توفیق دے اور اپنے فضل وکرم سے قبول فرما۔ 
تلبیہ 
پھر اس نیت کے ساتھ ہی کسی قدر بلند آواز سے تین دفعہ یہ تلبیہ پڑھیں: 
((لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ))
’’ میں حاضر ہوں خداوندا تیرے حضور میں‘ میں حاضر ہوں‘ میں حاضر ہوں‘ تیرا کوئی شریک نہیں‘ میں حاضر ہوں‘ ساری تعریفیں اور سب نعمتیں تیری ہیں اور ملک اور بادشاہت تیری ہی ہے‘ تیرا کوئی شریک نہیں‘‘ 
اس کو تلبیہ کہتے ہیں‘ یہ حج وعمرہ کا خاص ذکر اور گویا حاجی کا خاص ترانہ ہے اور یہ حضرت ابراہیم u کی پکار کا جواب ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم سے بندوں کو پکارا تھا کہ آئو اللہ کے درپر حاضری دو۔ پس جو بندے حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھ کے اللہ کے گھر کی حاضری کے ارادہ سے جاتے ہیں وہ یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے گویا حضرت ابراہیمؑ کی اس پکار کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنے مقبول بندے ابراہیمؑ سے ندا دلوا کے ہمیں بلوایا تھا‘ ہم حاضر ہیں‘ حاضر ہیں‘ تیرے حضور میں حاضر ہیں‘ بہر حال تلبیہ پڑھتے وقت اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر یقین کرتے ہوئے براہ راست اسی سے خطاب کریں اور ذوق وشوق اور خشیت وخوف کے ساتھ بار بار کہیں((لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ))
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عازم حج کے نام 6 1
3 عرض ناشر 4 2
4 مرتب کی طرف سے 5 2
5 اچھے رفیق کی تلاش 6 2
6 اخلاص اور تصحیح نیت 7 2
7 گناہوں سے توبہ واستغفار 7 2
8 امیر قافلہ اور قافلہ کا تعلیمی نظام 8 2
9 بمبئی اور کراچی میں تبلیغی جماعتیں 9 2
10 بمبئی اور کراچی کی مدت قیام میں آپ کے مشاغل 9 2
11 جہاز پر سوار ہوتے وقت 9 2
12 سمندری سفر کا زمانہ 9 2
13 حج کی تین صورتیں 10 2
14 حج تمتع کا طریقہ 11 2
15 احرام کی پابندیاں 12 1
16 معلم کو پہلے سے سوچ رکھیے 12 1
17 جدہ 13 15
18 جدہ سے مکہ معظمہ 13 15
19 حد حرم 13 15
20 مکہ معظمہ میں داخلہ 14 15
21 مسجد حرام کی حاضری اور طواف 14 15
22 طواف کی دعائیں 15 15
23 رکعتین طواف 19 15
24 ملتزم پر دعا 20 15
25 زم زم شریف پر 21 1
26 صفا ومروہ کے درمیان سعی 21 25
27 حج سے پہلے مکہ معظمہ کے زمانۂ قیام کے مشاغل 23 25
28 آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام اور منیٰ کو روانگی 23 25
29 نصیب فرما اور میری ساری خطائیں معاف فرما۔‘‘ 24 25
30 ایک کار آمد نکتہ 24 25
31 ۸ ذی الحجہ کو منیٰ میں آپ کے مشاغل 25 25
32 نویں کی صبح کو عرفات روانگی 25 25
33 عرفات کا پروگرام 25 25
34 عرفات میں اپنا ایک مشاہدہ 26 25
35 جبل رحمت کے قریب دعا 27 25
36 اپنی مغفرت کا یقین 27 25
37 عرفات سے مزدلفہ 28 25
38 شب مزدلفہ کی فضیلت 28 25
39 رسول اللہﷺ کی ایک خاص دعا 29 25
40 مزدلفہ سے منیٰ کو روانگی 30 25
41 منیٰ میں جمرات کی رمی 30 25
42 دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرئہ عقبہ کی رمی 31 25
43 تلبیہ ختم 31 25
44 قربانی 31 25
45 حلق یاقصر 32 25
46 پھر منیٰ کو روانگی 33 25
47 ۱۱‘ ۱۲‘ ۱۳ ذی الحجہ کو منیٰ میں قیام اور رمی جمار 33 1
48 رمی جمار کے بعد دعا کی اہمیت 33 47
49 منیٰ کے ان دنوں میں آپ کے مشاغل 33 47
50 منیٰ میں دینی دعوت کی سنت کا احیاء 34 47
51 حج قران اور افراد 34 47
52 منیٰ سے مکہ معظمہ واپسی اور چند روز قیام 35 47
53 بیت اللہ کا داخلہ 37 47
54 خاص مقامات میں دعا کے متعلق ایک آخری مشورہ 38 47
55 مکہ معظمہ سے روانگی اور طواف رخصت 38 47
56 مدینہ طیبہ کو روانگی 40 47
57 گنبد خضرا پر پہلی نظر 40 47
58 اس سیاہ کار کی التجا 43 1
59 مواجہہ شریف میں اطمینانی حاضری کے اوقات 44 1
60 جنت البقیع 45 58
61 جبل احد 46 58
62 مدینہ طیبہ کے فقراء ومساکین 46 58
63 اللہ اللہ کر کے روانگی کی تاریخ آئی 48 58
64 تمنا ہے درختوں پہ ترے روضہ کے جا بیٹھے 57 58
65 کہ نصیب جاگے‘ حاضری دیجئے اور عرض کیجئے 58 58
66 جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو ہم وفا کر چلے 60 58
67 یہ بلبلوں کا صبا مشہد مقدس ہے قدم سنبھال کے رکھیو یہ تیرا باغ نہیں 61 58
68 یارب البیت‘ یارب البیت کی صدا بلند ہے۔ 68 58
69 وداع کعبہ 78 1
70 حرم نبوی میں داخلہ کے وقت 83 69
71 از حضرت مولانا مفتی محمد شفیعa 84 69
72 نعت سرکار مدینہ 84 69
73 کیف حضوری 85 69
74 بے تابیٔ شوق 87 69
75 عرض احسن 89 69
76 ہم غریبوں کا بھی سلطان غریباں کو سلام 99 69
77 حجاج کرام کے لیے حرمین شریفین میں روز مرہ کے لیے عربی بول چال کے چند ضروری الفاظ 101 69
Flag Counter