اور بکثرت ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ایسے کام اور ایسی باتیں کر بیٹھتے ہیں جن کی احرام کی حالت میں ممانعت ہے۔ اس لیے آج کل عوام کو ان دونوں صورتوں کا مشورہ نہیں دیا جاتا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ میقات سے صرف عمرہ کا احرام باندھا جائے اور مکہ معظمہ پہنچ کر عمرہ کر کے احرام ختم کر دیا جائے اور پھر آٹھویں ذی الحجہ کو مسجد حرام سے حج کا احرام باندھا جائے اس کو ’’ تمتع‘‘ کہتے ہیں۔ اکثر لوگوں کے لیے یہی تیسری صورت آسان اور بہتر ہوتی ہے اس لیے تفصیل سے اسی کا طریقہ لکھتا ہوں۔
۱؎ حج بدل کرنے والوں کے لئے افرادہی بہتر ہے۔ اگر چہ قران بھی وہ کر سکتے ہیں اور آمر کی اجازت سے تمتع بھی کر سکتے ہیں۔
حج تمتع کا طریقہ
بہرحال اگر آپ میرے مشورہ کے مطابق تمتع کا ارادہ کریں تو جب میقات قریب آئے تو جیسے کہ اوپر ابھی بتلایا پہلے غسل کریں اور اگر کسی وجہ سے غسل نہ کر سکیں تو صرف وضوہی کر لیں اور سلے کپڑے جسم سے اتار کر ایک لنگی پہن لیں اور ایک چادر اوپر اوڑھ لیں اور ان ہی دونوں کپڑوں میں دور کعت نماز نفل پڑھیں۔ اس نماز میں سر چادر سے ڈھانک لینا چاہیے۔ پھر جیسے ہی سلام پھیریں سر سے چادر اتار دیں اور دل سے عمرہ کے احرام کی نیت کریں اور زبان سے بھی کہیں کہ اے اللہ! میں صرف تیری رضا کے لیے عمرہ کا احرام باندھتا ہوں تواس کو میرے لیے آسان فرما اور صحیح طریقے پر ادا کرنے کی توفیق دے اور اپنے فضل وکرم سے قبول فرما۔
تلبیہ
پھر اس نیت کے ساتھ ہی کسی قدر بلند آواز سے تین دفعہ یہ تلبیہ پڑھیں:
((لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ))
’’ میں حاضر ہوں خداوندا تیرے حضور میں‘ میں حاضر ہوں‘ میں حاضر ہوں‘ تیرا کوئی شریک نہیں‘ میں حاضر ہوں‘ ساری تعریفیں اور سب نعمتیں تیری ہیں اور ملک اور بادشاہت تیری ہی ہے‘ تیرا کوئی شریک نہیں‘‘
اس کو تلبیہ کہتے ہیں‘ یہ حج وعمرہ کا خاص ذکر اور گویا حاجی کا خاص ترانہ ہے اور یہ حضرت ابراہیم u کی پکار کا جواب ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم سے بندوں کو پکارا تھا کہ آئو اللہ کے درپر حاضری دو۔ پس جو بندے حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھ کے اللہ کے گھر کی حاضری کے ارادہ سے جاتے ہیں وہ یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے گویا حضرت ابراہیمؑ کی اس پکار کے جواب میں عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنے مقبول بندے ابراہیمؑ سے ندا دلوا کے ہمیں بلوایا تھا‘ ہم حاضر ہیں‘ حاضر ہیں‘ تیرے حضور میں حاضر ہیں‘ بہر حال تلبیہ پڑھتے وقت اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر یقین کرتے ہوئے براہ راست اسی سے خطاب کریں اور ذوق وشوق اور خشیت وخوف کے ساتھ بار بار کہیں((لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لاَ شَرِیْکَ لَکَ))