(شُعب الإیمان للبیہقي،الستون من شعب الإیمان في حقوق الأولاد والأھلین،11؍126 127،مکتبۃ الرّشد)
شیطان کے اثر سے حفاظت
شیطان سے حفاظت کے لیے ارشاد ِ نبوی ﷺ کی روشنی میں اذان کا عمل ہے، اسی کا اہتمام نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے،حضرت عبید اللہ بن ابی رافع اپنے والد یعنی’’ابورافع‘‘ سے روایت کرتے ہیں کہ’’ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے دونوں کانوں میں اذان دی‘‘۔
عن أبي عبید بن أبي رافع عن أبیہ، قال:’’ رأیت رسول اللہ ﷺ أذن في أذني الحسن حین ولدتہ فاطمۃ بالصلاۃ‘‘۔
(مسند أحمد بن حنبل،حدیث ضمیرہ بن سعد، رقم الحدیث:23869،29؍297،مؤسسۃ الرسالۃ)
مذکورہ روایت میں دونوں کانوں میں اذان دینے سے مراد دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت ہے،یعنی: لفظِ اذان بول کر مجازاً اقامت مراد لی گئی ہے۔
شیطان سے بچنے کے لیے دوسراعمل یہ بتایا کہ پیدائش کے وقت بچے کا سرپرست یہ دعا پڑھے:’’إني أعیذھا بک و ذریتھا من الشیطان الرجیم‘‘۔ ایسا کرنا مستحب ہے۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الایمان،باب الوسوسۃ،رقم الحدیث:۶۹، ۱؍۲۳۱،
دارالکتب العلمیہ)