دوسرا حکم : تحنیک کرنا
بچے کے کان میں اذان دینے کے بعددوسرا مسنون عمل تحنیک کا ہے،تحنیک کا مطلب یہ ہوتا ہے:’’کسی نیک ،صالح ،متبع سنت بزرگ کے منہ میں چبائی ہوئی کھجوریا اس کے لعاب میں ملی ہوئی کوئی بھی میٹھی چیز بچے کے منہ میں ڈال کے اس کے تالو کے ساتھ چپکانا، تاکہ یہ لعاب اس بچے کے پیٹ میں چلا جائے اور اس طرح اس نیک بزرگ کی نیکی کے اثرات اس بچے کے اندرمنتقل ہوں ‘‘۔
قال أھل اللغۃ :’’التحنیک أن یمْضُغ التمر أو نحوہ ثم یُدَلَّکُ بہ حَنَک الصغیرِ‘‘ وفیہ لغتان مشھورتان :حَنَکْتُہ وحَنَّکْتُہ بالتخفیف والتشدید۔
(شرح النووي علی مسلم، کتاب الطھارۃ، باب حکم بول الطفل الرضیع و کیفیۃ غسلہ:1؍462،رقم الحدیث:688،دار الکتب العلمیہ)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ کے پاس نومولود بچوں کو لایا جاتا تو آپ ﷺ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کی تحنیک فرماتے تھے۔
عن عائشۃ رضي اللہ عنہا أن رسول اللہ ﷺ :کان یؤتی بالصبیان، فیبرِّک علیہم ویُحنِّکُہم۔
(صحیح مسلم، کتاب الآداب، باب استحباب تحنیک المولود عند ولادتہ و حملہ إلی صالح یحنکہ، رقم الحدیث:2147،بیت الافکار)