علم اور علماء کرام کی عظمت |
ہم نوٹ : |
|
رکھتے ہوں وہی بیان کریں،یہ نہیں کہ جو چاہے منبر پر کھڑا ہو کر اُوٹ پٹانگ مسئلے بیان کرے۔ اسی لیے مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تبلیغ والوں کو چھ نمبرمیں محدود کیا تھا لیکن اب بعض نیا رنگ روٹ جوش میں آکر چھ نمبر کو بھی توڑ دیتا ہے اور جو سامنے بیٹھا ہوتا ہے لاپروائی سے اُسے لات بھی مارتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا عالم ہو، اور معافی بھی نہیں مانگتا۔ بس جوش میں کبھی آگے بڑھتا ہے اورکبھی پیچھے ہٹتا ہے، پاگل کی طرح تقریر کرتا ہے، یہ لات میں بھی کھا چکا ہوں اس لیے بیان کر رہا ہوں۔ ایک شخص واحد کالونی ناظم آباد میں بیان کے لیے کھڑا تھا، میں محض اس لیے اس کے بیان میں بیٹھ گیا کہ بھئی دعوت کے کام سے جوڑ رہے، اب جناب وہ آگے بڑھتا ہے، تو مجھے ایک لات مارتا ہے پھر پیچھے ہٹتا ہے، پھر آگے بڑھتا ہے اور ایک لات مارتا ہے، جوش میں بس تقریر کیے جا رہا ہے۔اسی لیے نفس کو مٹانے اور مہذب کرنے کے لیے ایک زمانہ چاہیے۔ تو جو چیز میں بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس عقیدے کی اصلاح فرض ہے کہ نبیوں والا کام صرف تبلیغی جماعت کر رہی ہے،حالاں کہ خانقاہوں میں تزکیۂ نفس کا، مکاتبِ قرآن میں قرآن کے الفاظ کی حفاظت کا اور دارالعلوم و مدارسِ دینیہ میں قرآن و حدیث کی تفسیر و شرح کا جو کام ہورہا ہے یہ بھی نبیوں والا کام ہے، اس لیے علماء کو اس بنا پر حقیر سمجھنا کہ یہ بستر اٹھا کر چلّے پر نہیں جاتے بالکل حرام ہے۔ جب ایک ادنیٰ مسلمان کو حقیر سمجھنے سے جنت میں داخلہ نہیں ملے گا، تو علماء کو حقیر سمجھنا کیسے جائز ہوگا؟ حدیث شریف میں ہے: لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ جس کے دل میں رائی کے برابر بڑائی ہوگی وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ اور حدیث شریف میں کبر کے دو جز بتائے گئے ہیں: بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ 20؎نمبر ۱)حق کو قبول نہ کرنا، نمبر ۲)انسانوں کو حقیر سمجھنا۔ اَلنَّاسْ میں الف لام استغراق کاہے یعنی کسی بھی انسان کو حقیر سمجھنا۔ اس لیے مسئلہ یہ ہے کہ کسی کافر کو بھی حقیر سمجھنا جائز نہیں _____________________________________________ 20؎صحیح مسلم:65/1، باب تحریم الکبروبیانہ،ایج ایم سعید