Deobandi Books

علم اور علماء کرام کی عظمت

ہم نوٹ :

37 - 82
رکھتے ہوں وہی بیان کریں،یہ نہیں کہ جو چاہے منبر پر کھڑا ہو کر اُوٹ پٹانگ مسئلے بیان کرے۔ اسی لیے مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تبلیغ والوں کو چھ نمبرمیں محدود کیا تھا لیکن اب بعض نیا رنگ روٹ جوش میں آکر چھ نمبر کو بھی توڑ دیتا ہے اور جو سامنے بیٹھا ہوتا ہے لاپروائی سے اُسے لات بھی مارتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا عالم ہو، اور معافی بھی نہیں مانگتا۔ بس جوش میں کبھی آگے بڑھتا ہے اورکبھی پیچھے ہٹتا ہے، پاگل کی طرح تقریر کرتا ہے، یہ لات میں بھی کھا چکا ہوں اس لیے بیان کر رہا ہوں۔ ایک شخص واحد کالونی ناظم آباد میں بیان کے لیے کھڑا تھا، میں محض اس لیے اس کے بیان میں بیٹھ گیا کہ بھئی دعوت کے کام سے جوڑ رہے، اب جناب وہ آگے بڑھتا ہے، تو مجھے ایک لات مارتا ہے پھر پیچھے ہٹتا ہے، پھر آگے بڑھتا ہے اور ایک لات مارتا ہے، جوش میں بس تقریر کیے جا رہا ہے۔اسی لیے نفس کو مٹانے اور مہذب کرنے کے لیے ایک زمانہ چاہیے۔
تو جو چیز میں بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس عقیدے کی اصلاح فرض ہے کہ نبیوں والا کام صرف تبلیغی جماعت کر رہی ہے،حالاں کہ خانقاہوں میں تزکیۂ نفس کا، مکاتبِ قرآن میں قرآن کے الفاظ کی حفاظت کا اور دارالعلوم و مدارسِ دینیہ میں قرآن و حدیث کی تفسیر و شرح کا جو کام ہورہا ہے یہ بھی نبیوں والا کام ہے، اس لیے علماء کو اس بنا پر حقیر سمجھنا کہ یہ بستر اٹھا کر چلّے پر نہیں جاتے بالکل حرام ہے۔ جب ایک ادنیٰ مسلمان کو حقیر سمجھنے سے جنت میں داخلہ نہیں ملے گا، تو علماء کو حقیر سمجھنا کیسے جائز ہوگا؟ حدیث شریف میں ہے:
لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ
 جس کے دل میں رائی کے برابر بڑائی ہوگی وہ جنت میں نہیں جائے گا۔
اور حدیث شریف میں کبر کے دو جز بتائے گئے ہیں:
بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ20؎
نمبر ۱)حق کو قبول نہ کرنا، نمبر ۲)انسانوں کو حقیر سمجھنا۔اَلنَّاسْ میں الف لام استغراق کاہے یعنی کسی بھی انسان کو حقیر سمجھنا۔ اس لیے مسئلہ یہ ہے کہ کسی کافر کو بھی حقیر سمجھنا جائز نہیں
_____________________________________________
20؎     صحیح مسلم:65/1، باب تحریم الکبروبیانہ،ایج ایم سعید
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عرضِ مرتب 8 1
3 شیخ بنانا کیوں ضروری ہے؟ 9 1
4 علماء کے سامنے دعوائےعلم بے ادبی ہے 11 1
5 عمامہ کے متعلق ایک غلط فہمی کا اِزالہ 12 1
6 لنگی پہننا سنّتِ مؤکدہ نہیں ہے 13 1
7 غیر ضروری کو ضروری سمجھنا گمراہی ہے 14 1
8 اصلی عشقِ رسول اتباعِ رسول ہے 15 1
9 حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جادوگروں کا واقعہ 16 1
10 حضرت آسیہ کا ایمان 17 1
11 نااہل سے مشورہ نہیں کرنا چاہیے 18 1
12 حضرت آسیہ کے لیے ایک عظیم الشان نعمت 19 1
13 اﷲ پر فدا ہونے کا انعام 19 1
14 اﷲ کے نام کی لذت 21 1
15 اہلِ علم کو اہلِ ذکر سے کیوں تعبیر کیا گیا؟ 23 1
16 حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ کو سات نصیحتیں 23 1
17 صحابہ کرام کی دین کی حرص 24 1
18 علماء پر تنقید نادانی و بدفہمی ہے 25 1
19 اسلام کا پیغام سارے عالَم میں پہنچ چکا ہے 26 1
20 کافروں کو مسلمان کرنا فرض نہیں ہے 27 1
21 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی تعداد 29 1
22 علماء کی تحقیر حرام ہے 30 1
23 اہانتِ علم و علماء کفر ہے 32 1
24 اﷲ تعالیٰ کا اعلانِ جنگ 33 1
25 اہلِ علم کا بلند درجہ 34 1
26 علماء فرض کام میں لگے ہوئے ہیں 34 1
27 ہر مسلمان پر دعوت الی اللہ فرض نہیں 36 1
28 حضرت یوسف علیہ السلام کی دعائے حسنِ خاتمہ 38 1
29 دعوت الی اللہ کے لیے صلاحیت بھی شرط ہے 39 1
30 اپنی نظر میں حقیر ہونا مطلوب ہے 40 1
31 قرآنِ پاک کی رُو سے نبیوں والے کام 41 1
32 قرآن کا ترجمہ محض لغت سے کرنا عظیم گمراہی ہے 41 1
33 نباتات کے سجدہ کرنے سے کیا مراد ہے؟ 43 1
34 حکمت کی تعریف 44 1
35 ممنونِ سزا ہوں میری ناکردہ خطائیں 45 1
36 تزکیۂ نفس کے مدرسے کہاں ہیں؟ 47 1
37 تزکیۂ نفس کی مثال 49 1
38 تزکیۂ نفس کی تعریف 50 1
39 شیخِ کامل کے بغیر اصلاح نہیں ہوتی 52 1
40 جعلی پیروں کی جہالت 53 1
41 جس کا کوئی پیر نہ ہو اسے پیر نہ بنائیں 53 1
42 حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا توکّل 55 1
43 اپنی اور اہل و عیال کے دین کی فکر مقدم ہے 55 1
44 دین کے کام میں حدودِ شریعت کا لحاظ ضروری ہے 57 1
45 تبلیغی جماعت نافع ہے، کافی نہیں 62 1
46 تزکیۂ نفس علماء پر بھی فرض ہے 62 1
47 اکابر کا فنائے نفس 64 1
48 دین کے شعبے آپس میں رفیق ہیں، فریق نہیں 66 1
49 تبلیغی جماعت کا عظیم الشان فائدہ 67 1
50 تبلیغ کے مسائل بتانا تبلیغ کا انکار نہیں ہے 67 1
51 تبلیغی جماعت بہترین جماعت ہے 68 1
52 مبارک اور بے مثال جماعت 69 1
53 علماء کا اِکرام نجات کا سرمایہ ہے 70 1
54 کثرتِ ضحک کی شرح 71 1
55 ہنسنے میں بھی دل اﷲ سے غافل نہ ہو 73 1
56 حق بات کہنے کا سلیقہ 74 1
57 راہِ حق میں طعن و ملامت سے نہ ڈریں 75 1
58 اپنے عیوب کا استحضار رکھیں 76 1
59 اﷲ والے کی نافرمانی کی سزا 76 1
60 اہلِ علم کی فضیلت 78 1
61 بزرگوں کی دعاؤں کا اثر 78 1
Flag Counter