ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2003 |
اكستان |
|
یزید کے مقابلہ میں اپنی خوشی سے نہیں گئے تھے مگر آج تک کون ایسا شخص ہوگا جس کو اس حادثہ سے رنج نہ ہوا ہو۔''(بروایت حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی زیدمجدہم واقعات ص٢٣٠وص٢٣١) مزید فرماتے ہیں : ''ہمارے اکابر دیوبند میں بفضلہ تعالیٰ کچھ خصوصیات رہی ہیں چنانچہ شیخ مدنی میں دو خداداد خصوصی کمال ہیں ایک تو مجاہدہ جو کسی دوسرے میں اس قدر نہیں اور دوسرے تواضع کہ سب کچھ ہونے کے باوجود اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے''(حکیم الامت حضرت مولانا تھانوی رحمة اللہ علیہ بروایت مولانا خیر محمد صاحب جالندھری خلیفۂ حضرت تھانوی (واقعات ص٢١٢) ایک دوسرے موقع پر ارشاد فرمایا : ''میں ان (مولانامدنی) جیسی ہمت مردانہ کہاں سے لائوں''۔(واقعات ص٢١٠) ..............حضرت مولانا مفتی جمیل احمد صاحب تھانوی مدظلہم سے ملاقات ہوئی ساتھ میں مولانا محمد مالک صاحب بھی تھے اور ہمارے مدرسین بھی موجود تھے انہوں نے عبدالماجد دریا بادی کا واقعہ سنایا کہ انہوں نے یہ کہا کہ جس شخص نے علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی وہ مسلمان نہیں رہا۔ پھر اپنا ازسر نو گویا اسلام میں داخل ہونے کا ذکر کیا۔ مفتی جمیل احمد صاحب نے ایک دن حضرت اقدس تھانوی رحمہ اللہ سے ذکر کیا کہ دریابادی صاحب یہ کہتے ہیں اور جب ان کا نکاح بقول ان کے مسلمان ہونے سے پہلے ہوا تھا اور بیوی مسلمان تھی تو وہ درست نہیں ہوا اب دوبارہ ہونا چاہیے ۔حضرت نے فرمایا بالکل ٹھیک کہتے ہو اور مجبور کیا کہ مولانا جمیل صاحب ہی دریا بادی صاحب سے یہ بات کہیں ۔ حضرت علامہ سیّد سلیمان ندوی رحمة اللہ علیہ کا ارشاد : حضرت مولانا مدنی دام فیوضہم کے مقابلہ میں میرا نام لینا صرف آپ کی چشمِ محبت کا کرشمہ ہے۔ورنہ میں تو ان کے جوتے کا تسمہ کھولنے کے بھی قابل نہیں چہ نسبت خاک راباعالم پاک۔ بزرگوں کا مشورہ ہے'' خاک از تو دۂ کلاں بردار'' میرے پاس حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کی نسبت کے سوا کچھ نہیں۔ (اقتباس مکتوب بنام مولانا ظفیر الدین صاحب ) (مفتاحی مورخہ ١٢نومبر ١٩٤٦ء از بھوپال)