ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2003 |
¾اكستان Ù |
|
الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی رحمة اللہ علیہ اپنے جملہ اوصاف کے لحاظ سے بدیع الزماں نادرة العصراور یکتا ئے روزگار تھے وہ اپنے متنوع علمی کمالات و باطنی مقامات ،بے شمار محاسن اعمال اور بے انتہا بلند اخلاق و کردار کے لحاظ سے بالکل منفرد وبے مثال تھے ۔(واقعات ص٢٢٨) مزید فرماتے ہیں : حضرت کے باطنی مراتب کا سمجھنا اہلِ باطن کا کام ہے میں اس کو چہ سے نابلد ہوں مجھے اس کا ادراک کیونکر نصیب ہو سکتا ہے اتنا ضرور ہے احب الصالحین ولست منھم لعل اللّٰہ یرزقنی صلاحا خدا تو فیق دے کہ ہم میں اس کے سمجھنے کی طاقت بھی پیدا ہو جائے۔ آج نمازفجر کے بعد تلاوت کر رہا تھا جب فاما الذین اٰمنوا وعملوا الصالحات فھم فی روضةٍ یحبرون پر پہنچا تو یک بیک دل میں خیال آیا کہ شاید ''فی روضةٍ یحبرون'' سے سال وفات کے اعداد برآمد ہوں اس خیال کے آتے ہی رکا اور رک کر حروف کے اعداد پر غور کیا تو ٹھیک ١٣٧٧ھ برآمد ہوئے۔ حضرت اقدس مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرہ نے ارشاد فرمایا : ''مجھے اپنی موت پر اس بات کا فکر تھا کہ میرے بعد باطنی دنیا کی خدمت کرنے والا کون ہوگا؟ مگر حضرت مدنی کو دیکھ کر تسلی ہوئی یہ دنیا ان سے زندہ رہے گی''۔ (بروایت مولانا عبدالمجید صاحب بچھر ایونی خلیفہ حضرت تھانوی) (واقعات ص٢١٣) آپ نے ایک دفعہ فرمایا : ''مولانا حسین احمد کی مخالفت کرنے والوں کے سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے''(بروایت حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب رحمة اللہ علیہ ۔(واقعات ص٢١٢) مولانا مدنی کی اسارت کی خبر پر حکیم الامت مولانا تھانوی قدس سرہما نے کسی قدر رنج و حزن کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ''مجھے خیال نہیں تھا کہ مولانا مدنی سے مجھے اتنی محبت ہے''۔ اور جب حُضّارِ مجلس میں سے کسی خادم نے یہ عرض کیا کہ مولانا مدنی تو اپنی خوشی سے گرفتار ہوئے ہیں تو حضرت نے فرمایا ''آپ مجھے اس جملہ سے تسلی دینا چاہتے ہیں کیا حضرت حسین