ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مئی 2003 |
اكستان |
|
سے گفتگو میں یہ معلوم ہوا کیونکہ انہوں نے حضرت مدنی رحمہ اللہ کا ذکر آنے پر کہا کہ وہ ہندؤوںکے ایجنٹ ہیں اور ان کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں ۔ ١ حضرت شاہ صاحب کو اس کا بڑا صدمہ ہوا کہ میرا ساتھی اور حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ کے بارے میں اس کا یہ خیال ! مولانا عبیداللہ صاحب نے فرمایا کہ یہ واقعہ ہمارا دیکھا ہوا ہے کہ حضرت شاہ الیاس صاحب بے چین ہوا کرتے تھے کہ قریشی صاحب ایسا خیال ان حضرت مدنی کے بارے میںرکھتے ہیں جو میرے کیا اس وقت کے سب کے امام ہیںتو انہوں نے اصولِ تبلیغ میں ایک اصول میں ترمیم فرما دی پہلے اصول تھا ''اکرام علماء '' پھر انہوں نے اسے بدل کر''اکرام مسلم''کر دیا۔اور اسے قریشی صاحب کے ذہن میں بٹھا تے رہے۔ حتی کہ ایک بار میوات کے علاقہ کے قصبہ نوح میں تبلیغی اجتماع ہوا جس میں حضر ت مدنی رحمة اللہ علیہ نے شمولیت فرمائی تو حضرت شاہ الیاس صاحب رحمة اللہ علیہ نے قریشی صاحب کے ذمہ کیا کہ وہ اپنی کار میں حضر ت مدنی رحمة اللہ علیہ کو اسٹیشن سے لیں اور دورانِ اجتماع مہمان نوازی کریں اور واپس دہلی لائیں ۔اس طرح ان کو حضرت مدنی رحمة اللہ علیہ کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا ۔اس کے بعد قریشی صاحب اتنے متاثر ہوئے کہ وہ اپنی پچھلی گستاخ کلامی اورسوء ظن پر رویا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے اے اللہ میری توبہ ہے میں ان کے بارے میں ایسے برے خیالات میں مبتلا رہا۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کاندھلوی دامت برکاتہم کا ارشاد : میرے نزدیک ابو حنیفہ زمانہ ....مولانا مدنی کی مدح میں کچھ لکھنے والا'' مادح خورشید مداح خوداست'' کا مصدا ق ہے میرا خیال ہے کہ حضرت کے فضل وکمال ،تبحر فی العلم والسلوک سے شاید ہی کسی اہلِ بصیرت کو اختلاف ہو ۔اس ناکارہ کے نزدیک حضرت مدنی ہی رشد و ہدایت اورعلم وفضل کے درخشاں آفتاب ہیں ۔ محدث عصرحضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی مدظلہم فرماتے ہیں : مشاہیر اسلام میں کسی کو ''بدیع الزماں '' کے لقب سے پکارا گیا ہے اور کسی کو مورخین ''نادرة العصر''لکھتے ہیں جن مشاہیر کو ان الفاظ سے یاد کیا گیا ہے ان کے کسی ایک کمال کے لحاظ سے یہ الفاظ حقیقت پر مبنی ہوں تو ہوں مگر ان کے تمام اوصاف کے لحاظ سے خالی از مبالغہ نہیں لیکن شیخ ١ انگریزوں کے کارندے سچے رہنمائوں سے بدظن کرنے کے لیے طرح طرح کے مناسب وقت الزامات گھڑ لیا کرتے تھے ۔یہ بھی ان ہی کا مختلق(گھڑا ہوا) الزام تھا جو قریشی صاحب جیسے سادہ لوح نے سنا اور اس سے پوری طرح متاثر ہوگئے ۔حامد میاں غفرلہ