Deobandi Books

آپ حج کیسے کریں - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

39 - 139
ہے۔ لیکن اصل یہی ہے کہ روانگی کے دن بلکہ اچھا ہے کہ خاص روانگی کے وقت وداع اور رخصت کی نیت سے یہ آخری طواف کیا جائے‘ اس کا طریقہ بھی وہی ہے جو پہلے لکھا جاچکا ہے البتہ اس کی خصوصیت کا تقاضا ہے کہ بیت اللہ شریف جو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص تجلی گاہ ہے اور عمر بھر کی تمنائوں کے بعد جس تک پہنچنا نصیب ہوا تھا اس کے فراق اور جدائی کا خیال کرکے اور یہ سوچ کے کہ نہ معلوم یہ سعادت اور دولت پھر کبھی میسر آئے گی یا نہیں اس طواف کے وقت زیادہ سے زیادہ حزن وملال کی کیفیت اپنے دل میں پیدا کی جائے اور اللہ نصیب فرماوے تو روتے ہوئے دل اور بہتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ طواف کیا جائے۔ طواف ختم کرکے حسب معمول مقام ابراہیم پر دوگانہ طواف پڑھا جائے‘ دعا کی جائے اور دعا کے وقت بھی دل میں یہ فکر ہو کہ معلوم نہیں کہ اس کے بعد بھی اس مقدس اور محترم مقام میں سجدہ کرنے اور اللہ کے حضور میں ہاتھ پھیلانے کی سعادت کبھی میسر آئے گی یا نہیں‘ پھر زمزم شریف پر جاکر: 
((بِسْمِ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ))
پڑھ کر تین سانس میں خوب سیر ہو کر پانی پیجئے اور دعا کیجئے: 
((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًا وَّاسِعًا وَّشِفَائً مِّنْ کُلِّ دَائٍ))
اس کے بعد اور جوجی چاہے دعائیں کیجیے۔ 
پھر ملتزم پر آئیے اور آج وداع ورخصت ہی کی نیت سے اس سے لپٹ لپٹ کر خوب روئیے اور پورے الحاح وابتہال سے دعا کیجیے‘ حج کی مقبولیت مانگئے مغفرت مانگئے‘ دنیا اور آخرت کی عافیت مانگئے۔ عذاب سے نجات اور جنت مانگئے‘ اللہ کی رضا مانگئے! اور اپنے علاوہ ان سب کے لئے بھی مانگئے جن کے لیے آپ کو مانگنا چاہیے‘ اور ہاں اس موقع پر خوب رو رو کے اور بلک بلک کے یہ دعا بھی مانگئے کہ خداوندا! میری یہ حاضری آخری حاضری نہ ہو‘ اس کے بعد بھی بار بار مجھے اس در کی حاضری کی توفیق بخشی جائے۔ 
ملتزم سے ہٹ کر اب حجر اسود پر آئیے اور آخری دفعہ وداع کی نیت سے بوسہ دیجیے اگر اس موقع پر آپ کی آنکھیں چند قطرے گرا دیں تو بڑی مبارک ہیں۔ رسول اللہ e نے حجراسود کابوسہ لیتے ہوئے حضرت عمر t سے فرمایا تھا: ھٰھُنَا تُشْکَبُ الْعَبْرَاتُ ’’یہ ہے آنسوئوں کے بہنے کی جگہ اور موقع۔‘‘ پس حجراسود کو یہ آخری بوسہ دے کر حسرت سے بیت اللہ کو دیکھتے ہوئے‘ آنکھوں سے روتے‘ اور دل وزبان سے رب کعبہ کویاد کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اور مسجد حرام اور بیت اللہ کے آداب اور حقوق کے بارے میں جو کوتاہیاں اس عرصہ میں ہوئیں ان کی معافی مانگتے ہوئے مسجد حرام سے نکلئے۔ حسب قاعدہ بایاں پائوں پہلے نکالیے اور دعا کیجیے: 
((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ))
اب آپ کو بیت اللہ کی جدائی پر دلی رنج ہونا چاہیے‘ اور آپ کے قلب محزون کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ:  
حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد 
روئے گل سیر ندیدم و بہار آخر شد 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عازم حج کے نام 6 1
3 عرض ناشر 4 2
4 مرتب کی طرف سے 5 2
5 اچھے رفیق کی تلاش 6 2
6 اخلاص اور تصحیح نیت 7 2
7 گناہوں سے توبہ واستغفار 7 2
8 امیر قافلہ اور قافلہ کا تعلیمی نظام 8 2
9 بمبئی اور کراچی میں تبلیغی جماعتیں 9 2
10 بمبئی اور کراچی کی مدت قیام میں آپ کے مشاغل 9 2
11 جہاز پر سوار ہوتے وقت 9 2
12 سمندری سفر کا زمانہ 9 2
13 حج کی تین صورتیں 10 2
14 حج تمتع کا طریقہ 11 2
15 احرام کی پابندیاں 12 1
16 معلم کو پہلے سے سوچ رکھیے 12 1
17 جدہ 13 15
18 جدہ سے مکہ معظمہ 13 15
19 حد حرم 13 15
20 مکہ معظمہ میں داخلہ 14 15
21 مسجد حرام کی حاضری اور طواف 14 15
22 طواف کی دعائیں 15 15
23 رکعتین طواف 19 15
24 ملتزم پر دعا 20 15
25 زم زم شریف پر 21 1
26 صفا ومروہ کے درمیان سعی 21 25
27 حج سے پہلے مکہ معظمہ کے زمانۂ قیام کے مشاغل 23 25
28 آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام اور منیٰ کو روانگی 23 25
29 نصیب فرما اور میری ساری خطائیں معاف فرما۔‘‘ 24 25
30 ایک کار آمد نکتہ 24 25
31 ۸ ذی الحجہ کو منیٰ میں آپ کے مشاغل 25 25
32 نویں کی صبح کو عرفات روانگی 25 25
33 عرفات کا پروگرام 25 25
34 عرفات میں اپنا ایک مشاہدہ 26 25
35 جبل رحمت کے قریب دعا 27 25
36 اپنی مغفرت کا یقین 27 25
37 عرفات سے مزدلفہ 28 25
38 شب مزدلفہ کی فضیلت 28 25
39 رسول اللہﷺ کی ایک خاص دعا 29 25
40 مزدلفہ سے منیٰ کو روانگی 30 25
41 منیٰ میں جمرات کی رمی 30 25
42 دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرئہ عقبہ کی رمی 31 25
43 تلبیہ ختم 31 25
44 قربانی 31 25
45 حلق یاقصر 32 25
46 پھر منیٰ کو روانگی 33 25
47 ۱۱‘ ۱۲‘ ۱۳ ذی الحجہ کو منیٰ میں قیام اور رمی جمار 33 1
48 رمی جمار کے بعد دعا کی اہمیت 33 47
49 منیٰ کے ان دنوں میں آپ کے مشاغل 33 47
50 منیٰ میں دینی دعوت کی سنت کا احیاء 34 47
51 حج قران اور افراد 34 47
52 منیٰ سے مکہ معظمہ واپسی اور چند روز قیام 35 47
53 بیت اللہ کا داخلہ 37 47
54 خاص مقامات میں دعا کے متعلق ایک آخری مشورہ 38 47
55 مکہ معظمہ سے روانگی اور طواف رخصت 38 47
56 مدینہ طیبہ کو روانگی 40 47
57 گنبد خضرا پر پہلی نظر 40 47
58 اس سیاہ کار کی التجا 43 1
59 مواجہہ شریف میں اطمینانی حاضری کے اوقات 44 1
60 جنت البقیع 45 58
61 جبل احد 46 58
62 مدینہ طیبہ کے فقراء ومساکین 46 58
63 اللہ اللہ کر کے روانگی کی تاریخ آئی 48 58
64 تمنا ہے درختوں پہ ترے روضہ کے جا بیٹھے 57 58
65 کہ نصیب جاگے‘ حاضری دیجئے اور عرض کیجئے 58 58
66 جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہد کو ہم وفا کر چلے 60 58
67 یہ بلبلوں کا صبا مشہد مقدس ہے قدم سنبھال کے رکھیو یہ تیرا باغ نہیں 61 58
68 یارب البیت‘ یارب البیت کی صدا بلند ہے۔ 68 58
69 وداع کعبہ 78 1
70 حرم نبوی میں داخلہ کے وقت 83 69
71 از حضرت مولانا مفتی محمد شفیعa 84 69
72 نعت سرکار مدینہ 84 69
73 کیف حضوری 85 69
74 بے تابیٔ شوق 87 69
75 عرض احسن 89 69
76 ہم غریبوں کا بھی سلطان غریباں کو سلام 99 69
77 حجاج کرام کے لیے حرمین شریفین میں روز مرہ کے لیے عربی بول چال کے چند ضروری الفاظ 101 69
Flag Counter