( باب صدقة الفطر)
(٨٨٦) قال صدقة الفطر واجبة علی الحر المسلم اذا کان مالکا لمقدار النصاب فاضلا عن مسکنہ وثیابہ واثاثہ وفرسہ وسلاحہ وعبیدہ)
( باب صدقة الفطر )
ضروری نوٹ: عید کے دن جو صدقہ دیاجاتا ہے اس کو صدقة الفطر کہتے ہیں۔ چونکہ پورے رمضان روزے رکھ کروہ افطار کا دن ہوتا ہے اس لئے اس کو صدقة الفطر کہتے ہیں۔اس کی دلیل یہ آیت ہے۔ عن کثیر بن عبد اللہ المزنی عن ابیہ عن جدہ أن رسول اللہ ۖ سئل عن قولہ( قد افلح من تزکی و ذکر اسم ربہ فصلی )]آیت ١٤۔١٥، سورةالاعلی ٨٧[قال : ھی زکوة الفطر ۔( سنن بیہقی ، باب جماع ابواب زکاة الفطر ، ج رابع ، ص ٢٦٨، نمبر ٧٦٦٨) اس حدیث میں ہے کہ اس آیت میں صدقة الفطر کا تذکرہ ہے
شرائط وجوب : ۔ صدقة الفطر واجب ہو نے کے لئے تین شرطیں ہیں ]١[ آزاد ہو ]٢[ مسلمان ہو ]٣[ مقدار نصاب کا مالک ہو ۔
ترجمہ :(٨٨٦)صدقة الفطر واجب ہے ہر آزاد ،مسلمان پر جب کہ نصاب کی مقدار کا مالک ہو اور اپنے رہنے کے مکان اور اپنے کپڑے اور اپنے سامان اور اپنے گھوڑے ،اور اپنے ہتھیار اور خدمت کے غلام سے زیادہ ہو۔
تشریح: حاجت اصلیہ سے زیادہ ہو تب ہی صدقة الفطر واجب ہوتا ہے۔ اور اوپر کی ساری چیزیں حاجت اصلیہ کی ہیں۔ مثلا ]١[رہنے کے لئے ایک مکان،]٢[روزانہ پہننے کے کپڑے، ]٣[گھر کا فرنیچر، ]٤[اگر جہاد کر نے والا ہے تو جہاد کے لئے گھوڑے،]٥[ہتھیار]٦[ اور خدمت کے غلام یہ چیزیں انسان کے لئے ضروریات زندگی میں سے ہیں۔ اس لئے ان چیزوں سے فارغ ہو کر اور سال بھر تک کھانے پینے سے فارغ ہوکر مقدار نصاب کے برابر مال کا مالک ہو تب صدقةالفطر واجب ہوتا ہے۔
وجہ: (١)غنی کی دلیل پہلے گزر چکی ہے ۔تؤخذ من اغنیائھم وترد علی فقرائھم (بخاری شریف ، باب اخذ الصدقة من الاغنیاء وترد فی الفقراء حیث ما کانوا ص ٢٠٣ نمبر ١٤٩٦) حدیث سے معلوم ہوا کہ زکوة یا صدقہ مالداروں سے لیا جائے گا۔ اور مالدار اس کو کہتے ہیں کہ حاجت اصلیہ سے مقدار نصاب مال زیادہ ہو ۔(٢)حدیث میں ہے۔ وقال النبی ۖ لا صدقة الا عن ظھر غنی (بخاری شریف ، باب تاویل قولہ من بعد وصیة یوصی بھا او دین ،کتاب الوصایا ص ٣٨٤ نمبر ٢٧٥٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاجت اصلیہ سے فارغ ہونے کے بعد زکوة یا صدقہ الفطر ادا کرے(٣) حاجت اصلیہ کی تفصیل کا پتہ اس اثر سے ہوتا ہے ۔عن سعید بن جبیر قال یعطی من الزکوة من لہ االدار والخادم والفرس ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ٧٥ من لہ دار و خادم یعطی من الزکوة ج ثانی ص ٤٠٢،نمبر١٠٤١٥)اس اثر سے معلوم ہوا کہ جس کے پاس رہنے کا گھر ہو اور خدمت کا غلام ہو اور