Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 2

618 - 645
( باب صدقة الفطر)
(٨٨٦) قال صدقة الفطر واجبة علی الحر المسلم اذا کان مالکا لمقدار النصاب فاضلا عن مسکنہ وثیابہ واثاثہ وفرسہ وسلاحہ وعبیدہ)
 
       (  باب صدقة الفطر  )
ضروری نوٹ:  عید کے دن جو صدقہ دیاجاتا ہے اس کو صدقة الفطر کہتے ہیں۔ چونکہ پورے رمضان روزے رکھ کروہ افطار کا دن ہوتا ہے اس لئے اس کو صدقة الفطر کہتے ہیں۔اس کی دلیل یہ آیت ہے۔ عن کثیر بن عبد اللہ المزنی عن ابیہ عن جدہ أن رسول اللہ  ۖ سئل عن قولہ( قد افلح من تزکی و ذکر اسم ربہ فصلی )]آیت ١٤۔١٥، سورةالاعلی ٨٧[قال : ھی زکوة الفطر ۔( سنن بیہقی ، باب جماع ابواب زکاة الفطر ، ج رابع ، ص ٢٦٨، نمبر ٧٦٦٨) اس حدیث میں ہے کہ اس آیت میں صدقة الفطر کا تذکرہ ہے 
شرائط وجوب : ۔ صدقة الفطر واجب ہو نے کے لئے تین شرطیں ہیں ]١[ آزاد ہو ]٢[ مسلمان ہو ]٣[ مقدار نصاب کا مالک ہو ۔ 
ترجمہ :(٨٨٦)صدقة الفطر واجب ہے ہر آزاد ،مسلمان پر جب کہ نصاب کی مقدار کا مالک ہو اور اپنے رہنے کے مکان اور اپنے کپڑے اور اپنے سامان اور اپنے گھوڑے ،اور اپنے ہتھیار اور خدمت کے غلام سے زیادہ ہو۔  
تشریح:   حاجت اصلیہ سے زیادہ ہو تب ہی صدقة الفطر واجب ہوتا ہے۔ اور اوپر کی ساری چیزیں حاجت اصلیہ کی ہیں۔ مثلا ]١[رہنے کے لئے ایک مکان،]٢[روزانہ پہننے کے کپڑے، ]٣[گھر کا فرنیچر، ]٤[اگر جہاد کر نے والا ہے تو جہاد کے لئے گھوڑے،]٥[ہتھیار]٦[ اور خدمت کے غلام یہ چیزیں انسان کے لئے ضروریات زندگی میں سے ہیں۔ اس لئے ان چیزوں سے فارغ ہو کر اور سال بھر تک کھانے پینے سے فارغ ہوکر مقدار نصاب کے برابر مال کا مالک ہو تب صدقةالفطر واجب ہوتا ہے۔  
وجہ:  (١)غنی کی دلیل پہلے گزر چکی ہے ۔تؤخذ من اغنیائھم وترد علی فقرائھم (بخاری شریف ، باب اخذ الصدقة من الاغنیاء وترد فی الفقراء حیث ما کانوا ص ٢٠٣ نمبر ١٤٩٦) حدیث سے معلوم ہوا کہ زکوة یا صدقہ مالداروں سے لیا جائے گا۔ اور مالدار اس کو کہتے ہیں کہ حاجت اصلیہ سے مقدار نصاب مال زیادہ ہو ۔(٢)حدیث میں ہے۔ وقال النبی ۖ لا صدقة الا عن ظھر غنی (بخاری شریف ، باب تاویل قولہ من بعد وصیة یوصی بھا او دین ،کتاب الوصایا ص ٣٨٤ نمبر ٢٧٥٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاجت اصلیہ سے فارغ ہونے کے بعد زکوة یا صدقہ الفطر ادا کرے(٣) حاجت اصلیہ کی تفصیل کا پتہ اس اثر سے ہوتا ہے  ۔عن سعید بن جبیر قال یعطی من الزکوة من لہ االدار والخادم والفرس ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ٧٥ من لہ دار و خادم یعطی من الزکوة ج ثانی ص ٤٠٢،نمبر١٠٤١٥)اس اثر سے معلوم ہوا کہ جس کے پاس رہنے کا گھر ہو اور خدمت کا غلام ہو اور 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 فصل ما یکرہ فی ا لصلوة 13 1
3 فصل فی آداب الخلاء 35 2
4 باب صلوة الوتر 42 3
5 وتر کا بیان 42 4
7 باب النوافل 56 3
8 فصل فی القرأة 66 3
9 فصل فی قیام رمضان 94 3
10 فصل فی التراویح 94 3
11 باب ادراک الفریضة 104 3
12 باب قضاء الفوائت 127 3
13 باب سجود السہو 144 3
14 باب صلوٰة المریض 178 3
15 باب سجود التلاوة 197 3
16 باب صلوة المسافر 218 3
17 میل شرعی،میل انگریزی اور کیلو میٹر میں فرق 222 16
18 بحری میل 228 16
19 باب صلوة الجمعة 254 2
20 باب صلوة العیدین 290 19
21 فصل فی تکبیرات تشریق 312 20
23 باب صلوة الکسوف 318 19
24 باب صلوة الاستسقاء 326 19
25 باب صلوة الخوف 332 19
26 باب الجنائز 339 2
27 فصل فی الغسل 342 26
28 فصل فی التکفین 352 26
29 کفن کا بیان 352 26
30 کفن بچھانے اور لپیٹنے کا طریقہ 355 26
31 فصل فی الصلوة علی ا لمیت 361 26
32 فصل فی حمل الجنازة 384 26
33 فصل فی الدفن 389 26
34 باب الشہید 397 2
35 باب الصلوٰة فی الکعبة 413 2
36 کتاب الزکوٰة 419 1
38 باب صدقة الصوائم 419 36
39 باب زکوة الابل 451 38
40 فصل فی البقر 458 38
41 فصل فی الغنم 464 38
43 فصل فی الخیل 469 38
44 فصل فی مالا صدقة فیہ 473 38
45 جانور کے بچوں کا فصل 473 38
46 باب زکوٰة المال 498 36
47 فصل فی الفضة 498 46
48 فصل فی الذہب 505 46
49 درہم کا وزن 509 46
50 دینار کا وزن 509 46
51 نصاب اور اوزان ایک نظر میں 510 46
52 چاندی کا نصاب 510 46
53 سونے کا نصاب 510 46
54 رتی اور ماشہ کا حساب 511 46
55 فصل فی العروض 512 46
56 باب فی من یمرّ علی العاشر 520 36
57 باب فی المعادن والرکاز 541 56
58 باب زکوٰة الزّروع والثمار 556 56
59 باب من یجوز دفع الصّدقات الیہ ومن لا یجوز 584 56
61 باب مصارف الزکوة 584 56
62 باب صدقة الفطر 618 36
63 فصل فی مقدار الواجب و وقتہ 634 62
64 صدقة الفطر کی مقدار 641 62
65 صاع کا وزن 641 62
Flag Counter