Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 2

326 - 645
(  باب صلوة الاستسقاء  )
(٦٦٤)  قال ابوحنیفة لیس فی الاستسقاء صلوٰة مسنونة فی جماعة  فان صلی الناس وحدانا جاز وانما الاستسقاء الدعاء والاستغفار)  ١   لقولہ تعالیٰ :فقلتُ استغفروا ربکم انہ کان غفارا :الاٰیة

(  باب صلوة الاستسقاء  )
ضروری نوٹ :   استسقاء کے معنی ہیں بارش طلب کرنا، یہ سقی سے مشتق ہے ،ملک میں قحط سالی ہو جائے اور بارش نہ ہو تو استسقاء کیا جا سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک نماز پڑھنا کوئی ضروری نہیں ہے۔صرف دعا سے بھی استسقاء ہو سکتا ہے اور نماز بھی پڑھ سکتا ہے۔ اور صاحبین کے نزدیک نماز استسقاء مسنون ہے۔ دونوں کی دلیلیں نیچے آرہی ہیں۔اس کی دلیل یہ آیت بھی ہے  فقلت استغفروا ربکم انہ کان غفارا o یرسل السماء علیکم مدرارا o  (آیت ١١١٠ سورۂ نوح١٧) اس آیت میں ہے کہ اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کرو تاکہ اللہ تعالی تم پر خوب بارش برسائے۔اور چونکہ نماز استسقاء میں اپنے گناہوں سے توبہ کرنا ہے اس لئے اس آیت سے استسقاء ثابت ہوتا ہے۔
ترجمہ:  (٦٦٤)امام ابو حنیفہ نے فرمایا استسقاء میں جماعت کے ساتھ نماز مسنون نہیں ہے۔پس اگر تنہا تنہا نماز پڑھے تو جائز ہے، استسقاء صرف دعا اور استغفار کا نام ہے۔  
تشریح : آپۖ نے کبھی نماز استسقاء پڑھی ہے اور کبھی صرف جمعہ کے خطبہ کے وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہے۔ اس لئے استسقاء دونوں طرح جائز ہے۔صرف نماز ہی پڑھنا مسنون نہیں ہے۔  
 ترجمہ:   ١   اللہ تعالی کا قول کہ اپنے رب سے استغفار کرو وہ بہت معاف کر نے والا ہے 
وجہ:  (١) صاحب ھدایہ کی آیت یہ ہے ۔  فقلت استغفروا ربکم انہ کان غفارا o یرسل السماء علیکم مدرارا o  (آیت ١١١٠ سورۂ نوح١٧) جس میں یہ حکم ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کرو تو بارش خوب ہوگی ۔جس سے معلوم ہوا کہ گناہوں سے توبہ کرکے بارش مانگنا استسقاء ہے(٢) صاحب ھدایہ نے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ حدیث میں ہے کہ استسقاء کے لئے جمعہ کے خظبہ کے وقت آپنے ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہے۔اسی سے بارش ہو گئی  ۔عن انس بن مالک ان رجلا دخل المسجد یوم الجمعة ورسول اللہ ۖ قائما یخطب ... فرفع رسول اللہ یدیہ قال اللہم اغثنا ۔(بخاری شریف ، باب الاستسقاء فی خطبة الجمعة غیر مستقبل القبلة ص ١٣٨ نمبر ١٠١٤ مسلم شریف ، کتاب الاستسقاء ص ١٩٣ نمبر ٨٩٧ ٢٠٧٨ ابو داؤد شریف ، باب رفع الیدین فی الاستسقاء ص ١٧٣ نمبر ١١٧٥،) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپۖ نے اس کے لئے مستقل نماز نہیں پڑھی صرف دعا پر اکتفا کیا۔اس لئے امام ابو حنیفہ کے نزدیک نماز ضروری نہیں ،صرف دعا اور استغفار سے بھی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 فصل ما یکرہ فی ا لصلوة 13 1
3 فصل فی آداب الخلاء 35 2
4 باب صلوة الوتر 42 3
5 وتر کا بیان 42 4
7 باب النوافل 56 3
8 فصل فی القرأة 66 3
9 فصل فی قیام رمضان 94 3
10 فصل فی التراویح 94 3
11 باب ادراک الفریضة 104 3
12 باب قضاء الفوائت 127 3
13 باب سجود السہو 144 3
14 باب صلوٰة المریض 178 3
15 باب سجود التلاوة 197 3
16 باب صلوة المسافر 218 3
17 میل شرعی،میل انگریزی اور کیلو میٹر میں فرق 222 16
18 بحری میل 228 16
19 باب صلوة الجمعة 254 2
20 باب صلوة العیدین 290 19
21 فصل فی تکبیرات تشریق 312 20
23 باب صلوة الکسوف 318 19
24 باب صلوة الاستسقاء 326 19
25 باب صلوة الخوف 332 19
26 باب الجنائز 339 2
27 فصل فی الغسل 342 26
28 فصل فی التکفین 352 26
29 کفن کا بیان 352 26
30 کفن بچھانے اور لپیٹنے کا طریقہ 355 26
31 فصل فی الصلوة علی ا لمیت 361 26
32 فصل فی حمل الجنازة 384 26
33 فصل فی الدفن 389 26
34 باب الشہید 397 2
35 باب الصلوٰة فی الکعبة 413 2
36 کتاب الزکوٰة 419 1
38 باب صدقة الصوائم 419 36
39 باب زکوة الابل 451 38
40 فصل فی البقر 458 38
41 فصل فی الغنم 464 38
43 فصل فی الخیل 469 38
44 فصل فی مالا صدقة فیہ 473 38
45 جانور کے بچوں کا فصل 473 38
46 باب زکوٰة المال 498 36
47 فصل فی الفضة 498 46
48 فصل فی الذہب 505 46
49 درہم کا وزن 509 46
50 دینار کا وزن 509 46
51 نصاب اور اوزان ایک نظر میں 510 46
52 چاندی کا نصاب 510 46
53 سونے کا نصاب 510 46
54 رتی اور ماشہ کا حساب 511 46
55 فصل فی العروض 512 46
56 باب فی من یمرّ علی العاشر 520 36
57 باب فی المعادن والرکاز 541 56
58 باب زکوٰة الزّروع والثمار 556 56
59 باب من یجوز دفع الصّدقات الیہ ومن لا یجوز 584 56
61 باب مصارف الزکوة 584 56
62 باب صدقة الفطر 618 36
63 فصل فی مقدار الواجب و وقتہ 634 62
64 صدقة الفطر کی مقدار 641 62
65 صاع کا وزن 641 62
Flag Counter