١ لما فیہ من الصلة او زیادة دفع الحاجة ٢ ولو نقل الیٰ غیر ہم اجزاہ وان کان مکروہا لان المصرف مطلق الفقراء بالنص واﷲاعلم.
ترجمہ : ١ اس لئے کہ اس میں صلہ رحمی ہے ، یا حاجت دور کر نے میں زیادتی ہے ۔
تشریح: بہتر تو یہی ہے کہ جس شہر کے مالداروں سے زکوة لی اسی شہر کے غرباء پر تقسیم کر دی جائے۔لیکن اگر دوسرے شہر میں ان کے رشتہ دار ہیں تو دوسرے شہر میں رشتہ داروں کی طرف زکوة منتقل کر سکتے ہیں کیونکہ اس میں صلہ رحمی ہے ۔یا دوسرے شہر کے لوگ زیادہ محتاج ہیں تو پھر وہاں منتقل کی جا سکتی ہے ۔کیونکہ اس میں بہت زیادہ محتاج کی مدد کر نا ہے ۔
وجہ : (١) رشتہ دار کو دینے کے بارے میں حضور ۖ نے فر ما یا ۔ وقال النبی ۖ لہ اجران اجر القرابة واجر الصدقة۔ (بخاری شریف، باب الزکوة علی الاقارب ص ١٩٦ نمبر ١٤٦١ ترمذی شریف، باب ماجاء فی الصدقة علی ذی القرابة ص ١٤٢ نمبر ٦٥٨) اس حدیث میں ہے کہ رشتہ دار کو دینے میں دہرا اجر ہے اس لئے دوسرے شہر میں رشتہ دار کو دیا تو مکروہ نہیں ہے ۔ (٢) اور زیادہ محتاج کو دینے کی حدیث یہ ہے ۔عن قبیصة بن مخارق الھلالی قال تحملت حمالة فأتیت النبی ۖ فقال : أقم یا قبیصة ! حتی تأتینا الصدقة فنأمر لک بھا ۔ ( ابو داود شریف ، باب ماتجوز بہ المسألة ، ص ٢٤٤، نمبر ١٦٤٠) اس حدیث میںحضرت قبیصہ ہلالی مدینے کے باہر سے تشریف لا ئے تھے ، لیکن چونکہ زیادہ محتاج تھے اس لئے آپ ۖ نے فر ما یا کہ ٹھہر جاؤ زکوة کا مال آئے گا تو دو نگا ، اس سے معلوم ہوا کہ باہر کا آدمی زیادہ محتاج ہو تو اس کو زکوة دینا مکروہ نہیں ہے ۔
ترجمہ: ٢ لیکن اگر دوسرے شہر کی طرف منتقل کر دیا تو جائز ہے اگر چہ ایسا کر نا مکروہ ہے ، اس لئے کہ آیت کی وجہ سے مطلق فقراء زکوة کا مصرف ہیں
تشریح : دوسرے شہر میں رشتہ دار بھی نہیں ہے ، اور وہ زیادہ محتاج بھی نہیں ہے اس کے باوجود دوسرے شہر میں زکوة دے دی تو زکوة ادا ہو جائے گی ،البتہ ایسا کر نا مکروہ ہے ۔ ۔ اور دینا جائز اس لئے ہے کہ آیت میں ہے کہ فقراء کو دو اور یہ لوگ بھی فقراء ہیں ، اس لئے دینا جائز ہے
وجہ : اس اثر میں ہے۔ عن ابی العالیة أنہ بعث بصدقة مالہ الی المدینة ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب ٦٥، من رخص أن یرسل بھا الی بلد غیرہ ، ج ثانی ، ص ٣٩٤، نمبر ١٠٣١٣) اس اثر میں زکوة اپنے شہر سے مدینة کی طرف بھیجی گئی ہے ، جس سے معلوم ہوا کہ جائز ہے ۔