Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 2

617 - 645
 ١   لما فیہ من الصلة او زیادة دفع الحاجة   ٢   ولو نقل الیٰ غیر ہم اجزاہ وان کان مکروہا لان المصرف مطلق الفقراء بالنص واﷲاعلم.

ترجمہ :   ١ اس لئے کہ اس میں صلہ رحمی ہے ، یا حاجت دور کر نے میں زیادتی ہے ۔  
تشریح:  بہتر تو یہی ہے کہ جس شہر کے مالداروں سے زکوة لی اسی شہر کے غرباء پر تقسیم کر دی جائے۔لیکن اگر دوسرے شہر میں ان کے رشتہ دار ہیں تو دوسرے شہر میں رشتہ داروں کی طرف زکوة منتقل کر سکتے ہیں کیونکہ اس میں صلہ رحمی ہے ۔یا دوسرے شہر کے لوگ زیادہ محتاج ہیں تو پھر وہاں منتقل کی جا سکتی ہے ۔کیونکہ اس میں بہت زیادہ محتاج کی مدد کر نا ہے ۔ 
 وجہ :  (١) رشتہ دار کو دینے کے بارے میں حضور ۖ نے فر ما یا ۔ وقال النبی ۖ لہ اجران اجر القرابة واجر الصدقة۔ (بخاری شریف، باب الزکوة علی الاقارب ص ١٩٦ نمبر ١٤٦١ ترمذی شریف، باب ماجاء فی الصدقة علی ذی القرابة ص ١٤٢ نمبر ٦٥٨) اس حدیث میں ہے کہ رشتہ دار کو دینے میں دہرا اجر ہے اس لئے دوسرے شہر میں رشتہ دار کو دیا تو مکروہ نہیں ہے ۔  (٢) اور زیادہ محتاج کو دینے کی حدیث یہ ہے ۔عن قبیصة بن مخارق الھلالی قال تحملت حمالة فأتیت النبی  ۖ فقال : أقم یا قبیصة ! حتی تأتینا الصدقة فنأمر لک بھا ۔ ( ابو داود شریف ، باب ماتجوز بہ المسألة ، ص ٢٤٤، نمبر ١٦٤٠)   اس حدیث میںحضرت قبیصہ ہلالی مدینے کے باہر سے تشریف لا ئے تھے ، لیکن چونکہ زیادہ محتاج تھے اس لئے آپ ۖ نے فر ما یا کہ ٹھہر جاؤ زکوة کا مال آئے گا تو دو نگا ، اس سے معلوم ہوا کہ باہر کا آدمی زیادہ محتاج ہو تو اس کو زکوة دینا مکروہ نہیں ہے ۔
 ترجمہ:  ٢  لیکن اگر دوسرے شہر کی طرف منتقل کر دیا تو جائز ہے اگر چہ ایسا کر نا مکروہ ہے ، اس لئے کہ آیت کی وجہ سے مطلق فقراء زکوة کا مصرف ہیں 
تشریح :  دوسرے شہر میں رشتہ دار بھی نہیں ہے ، اور وہ زیادہ محتاج بھی نہیں ہے اس کے باوجود دوسرے شہر میں زکوة دے دی تو زکوة ادا ہو جائے گی ،البتہ ایسا کر نا مکروہ ہے ۔ ۔ اور دینا جائز اس لئے ہے کہ آیت میں ہے کہ فقراء کو دو اور یہ لوگ بھی فقراء ہیں ، اس لئے دینا جائز ہے      
وجہ :  اس اثر میں ہے۔ عن ابی العالیة أنہ بعث بصدقة مالہ الی المدینة ۔ ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب ٦٥، من رخص أن یرسل بھا الی بلد غیرہ ، ج ثانی ، ص ٣٩٤، نمبر ١٠٣١٣) اس اثر میں زکوة اپنے شہر سے مدینة کی طرف بھیجی گئی ہے ، جس سے معلوم ہوا کہ جائز ہے ۔   
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 فصل ما یکرہ فی ا لصلوة 13 1
3 فصل فی آداب الخلاء 35 2
4 باب صلوة الوتر 42 3
5 وتر کا بیان 42 4
7 باب النوافل 56 3
8 فصل فی القرأة 66 3
9 فصل فی قیام رمضان 94 3
10 فصل فی التراویح 94 3
11 باب ادراک الفریضة 104 3
12 باب قضاء الفوائت 127 3
13 باب سجود السہو 144 3
14 باب صلوٰة المریض 178 3
15 باب سجود التلاوة 197 3
16 باب صلوة المسافر 218 3
17 میل شرعی،میل انگریزی اور کیلو میٹر میں فرق 222 16
18 بحری میل 228 16
19 باب صلوة الجمعة 254 2
20 باب صلوة العیدین 290 19
21 فصل فی تکبیرات تشریق 312 20
23 باب صلوة الکسوف 318 19
24 باب صلوة الاستسقاء 326 19
25 باب صلوة الخوف 332 19
26 باب الجنائز 339 2
27 فصل فی الغسل 342 26
28 فصل فی التکفین 352 26
29 کفن کا بیان 352 26
30 کفن بچھانے اور لپیٹنے کا طریقہ 355 26
31 فصل فی الصلوة علی ا لمیت 361 26
32 فصل فی حمل الجنازة 384 26
33 فصل فی الدفن 389 26
34 باب الشہید 397 2
35 باب الصلوٰة فی الکعبة 413 2
36 کتاب الزکوٰة 419 1
38 باب صدقة الصوائم 419 36
39 باب زکوة الابل 451 38
40 فصل فی البقر 458 38
41 فصل فی الغنم 464 38
43 فصل فی الخیل 469 38
44 فصل فی مالا صدقة فیہ 473 38
45 جانور کے بچوں کا فصل 473 38
46 باب زکوٰة المال 498 36
47 فصل فی الفضة 498 46
48 فصل فی الذہب 505 46
49 درہم کا وزن 509 46
50 دینار کا وزن 509 46
51 نصاب اور اوزان ایک نظر میں 510 46
52 چاندی کا نصاب 510 46
53 سونے کا نصاب 510 46
54 رتی اور ماشہ کا حساب 511 46
55 فصل فی العروض 512 46
56 باب فی من یمرّ علی العاشر 520 36
57 باب فی المعادن والرکاز 541 56
58 باب زکوٰة الزّروع والثمار 556 56
59 باب من یجوز دفع الصّدقات الیہ ومن لا یجوز 584 56
61 باب مصارف الزکوة 584 56
62 باب صدقة الفطر 618 36
63 فصل فی مقدار الواجب و وقتہ 634 62
64 صدقة الفطر کی مقدار 641 62
65 صاع کا وزن 641 62
Flag Counter