Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 2

619 - 645
 ١   اما وجوبہا فلقولہ علیہ السلام فی خطبتہ ادّ واعن کل حر وعبد صغیرٍ او کبیر نصف صاعٍ من بُرّ او صاعا من شعیرٍ رواہ ثعلبة بن صُعَیْر العدوی وبمثلہ یثبت الوجوب لعدم القطع    ٢     وشرط الحریة لتحقق التملیک۔ 

جہاد کا گھوڑا ہو وہ غنی نہیں ہے۔اگر وہ محتاج ہو تو اس کو زکوة دی جا سکتی ہے۔اس لئے کہ یہ سب چیزیں حاجت اصلیہ میں داخل ہیں۔ 
وجہ :  (١)صدقة الفطر واجب ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن ابن عمر قال فرض رسول اللہ ۖ زکوة الفطر صاعا من تمر او صاعا من شعیر علی العبد والحر والذکر والانثی والصغیر والکبیر من المسلمین وامر بھا ان تودی قبل خروج الناس الی الصلوة  (بخاری شریف ، باب فرض صدقة الفطر ص ٢٠٤ نمبر ١٥٠٣ مسلم شریف ، باب زکوة الفطر علی المسلمین من التمر و الشعیرص٣٩٥ نمبر ٢٢٧٨٩٨٤) اس حدیث میں فرض کے لفظ سے حنفیہ صدقة الفطر دینا واجب قرار دیتے ہیں۔
لغت : مسکن : رہنے کی جگہ،رہنے کا مکان۔  اثاثة  : گھرکا سامان ، گھر کا فرنیچر۔ سلاح : ہتھیار۔
 ترجمہ:  ١   صدقة الفطر کے واجب ہو نے کی دلیل توحضور علیہ السلام کا قول ہے اپنے خطبے میں کہ ہر آزاد اور غلام ، اور چھوٹے اور بڑے کے بدلے میں صدقة الفطر نکا لو آدھا صاع گیہوں یا ایک صاع جو نکا لو۔حضرت ثعلبہ بن صعیر عدوی نے اس کو روایت کی ہے ، اور یقینی نہ ہو نے کی وجہ سے اس قسم کی حدیث سے وجوب ہی ثابت کر سکتے ہیں ۔      
 تشریح :  صاحب ھدایہ کی حدیث یہ ہے (١)۔عن عبد اللہ بن ثعلبة بن أبی صعیر عن ابیہ قال قام رسول اللہ  ۖ خطیبا فأمر بصدقة الفطر صاع تمر أو صاع شعیر عن کل رأس زاد علی فی حدیثہ : أو صاع بر أوقمح بین اثنین ، ثم اتفقا : عن الصغیر و الکبیر و الحر و العبد ۔ ( ابو داود شریف ، باب من روی نصف صاع من قمح ، ص ٢٤٠، نمبر ١٦٢٠ ) اس حدیث میں صدقة الفطر کے واجب ہو نے کا ثبوت ہے ، اور چونکہ صدقة الفطر آیت سے ثابت نہیں ہے ، بلکہ حدیث سے ثابت ہے اور حدیث ظنی ہوتی ہے اور ظنی سے وجوب ہی ثابت ہو گا فرض ثابت نہیں ہو گا ، اس لئے صدقة الفطر فرض نہیں ہے واجب ہے ۔(٢) اس حدیث میں واجب ہو نے کی صراحت ہے ۔ عن عمر و بن شعیب عن ابیہ عن جدہ أن النبی  ۖ بعث منادیا فی فجاج مکة : ألا ان زکوة الفطر واجبة علی کل مسلم ، علی کل ذکر وأنثی ، حر و عبد ، وصغیر و کبیر ، مدان من قمح ، أو صاع مما سواہ من الطعام ۔ (دار قطنی ،کتاب زکوة الفطر ج ثانی ص ١٢٣ نمبر ٢٠٦١) اس حدیث میں ہے کہ صدقة الفطر ہر مسلمان پر واجب ہے ۔   
ترجمہ:   ٢  آزاد ہو نے کی شرط ملکیت متحقق ہو نے کے لئے ہے ۔ 
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 فصل ما یکرہ فی ا لصلوة 13 1
3 فصل فی آداب الخلاء 35 2
4 باب صلوة الوتر 42 3
5 وتر کا بیان 42 4
7 باب النوافل 56 3
8 فصل فی القرأة 66 3
9 فصل فی قیام رمضان 94 3
10 فصل فی التراویح 94 3
11 باب ادراک الفریضة 104 3
12 باب قضاء الفوائت 127 3
13 باب سجود السہو 144 3
14 باب صلوٰة المریض 178 3
15 باب سجود التلاوة 197 3
16 باب صلوة المسافر 218 3
17 میل شرعی،میل انگریزی اور کیلو میٹر میں فرق 222 16
18 بحری میل 228 16
19 باب صلوة الجمعة 254 2
20 باب صلوة العیدین 290 19
21 فصل فی تکبیرات تشریق 312 20
23 باب صلوة الکسوف 318 19
24 باب صلوة الاستسقاء 326 19
25 باب صلوة الخوف 332 19
26 باب الجنائز 339 2
27 فصل فی الغسل 342 26
28 فصل فی التکفین 352 26
29 کفن کا بیان 352 26
30 کفن بچھانے اور لپیٹنے کا طریقہ 355 26
31 فصل فی الصلوة علی ا لمیت 361 26
32 فصل فی حمل الجنازة 384 26
33 فصل فی الدفن 389 26
34 باب الشہید 397 2
35 باب الصلوٰة فی الکعبة 413 2
36 کتاب الزکوٰة 419 1
38 باب صدقة الصوائم 419 36
39 باب زکوة الابل 451 38
40 فصل فی البقر 458 38
41 فصل فی الغنم 464 38
43 فصل فی الخیل 469 38
44 فصل فی مالا صدقة فیہ 473 38
45 جانور کے بچوں کا فصل 473 38
46 باب زکوٰة المال 498 36
47 فصل فی الفضة 498 46
48 فصل فی الذہب 505 46
49 درہم کا وزن 509 46
50 دینار کا وزن 509 46
51 نصاب اور اوزان ایک نظر میں 510 46
52 چاندی کا نصاب 510 46
53 سونے کا نصاب 510 46
54 رتی اور ماشہ کا حساب 511 46
55 فصل فی العروض 512 46
56 باب فی من یمرّ علی العاشر 520 36
57 باب فی المعادن والرکاز 541 56
58 باب زکوٰة الزّروع والثمار 556 56
59 باب من یجوز دفع الصّدقات الیہ ومن لا یجوز 584 56
61 باب مصارف الزکوة 584 56
62 باب صدقة الفطر 618 36
63 فصل فی مقدار الواجب و وقتہ 634 62
64 صدقة الفطر کی مقدار 641 62
65 صاع کا وزن 641 62
Flag Counter