(٧٧٢) والبخت والعراب سوائ) ١ لان مطلق الاسم یتناولہما واﷲاعلم بالصواب۔
ۖ کتبہ لجدہ فقرأتہ ، فکان فیہ ذکر ما یخرج من فرائض الابل فقص الحدیث الی ان تبلغ عشرین و مائة فاذاکانت أکثر من ذالک فعد فی کل خمسین حقة و ما فضل فانہ یعاد الی أول فریضة الابل ، و ما کان اقل من خمس و عشرین ففیہ الغنم فی کل خمس ذود شاة ۔( سنن بیہقی ، باب ذکر روایة عاصم بن ضمرة ...و فیما زاد علی مائة و عشرین الخ ، ج رابع ، ص ١٥٨، نمبر ٧٢٦٨مصنف ابن ابی شیبة ،باب١١ ،من قال اذا زادت علی عشرین و مائة استقبل بھا الفریضة ج ثانی، ص ٣٦١،نمبر٩٩١١) اس حدیث میں ہے کہ ایک سو بیس کے بعد ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری سے شروع کرے ۔
ترجمہ: (٧٧٢) بختی اور عربی اونٹ برابر ہیں۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ اونٹ کا مطلق نام دو نوں کو شامل ہے۔
تشریح : عرب میں دو قسم کے اونٹ پا ئے جاتے تھے ایک چھوٹا ہو تا تھا اور الگ نسل کا ہو تا تھا ، جسکو بختی اونٹ کہتے ہیں ۔ اور دوسرا اونٹ بڑا ہو تا ہے جو عام طور پر لوگ رکھتے ہیں اس کو عربی اونٹ کہتے ہیں ، چونکہ اونٹ کا نام دو نوں کو شامل ہے اس لئے دونوں کے احکام ایک ہے ۔