Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 2

455 - 645
٣   ثم یدار الحساب علیٰ الاربعینات والخمسینات فیجب فی کل اربعین بنت لبون وفی کل خمسین حقة لما روی انہ علیہ السلام کتب اذازادت الابل علیٰ مائة وعشرین ففی کل خمسین حقة وففی کل اربعین بنت لبون من غیر شرط عود ما دونہا   ٤  ولنا انہ علیہ السلام کتب فی اٰخر ذٰلک فی کتاب عمر وبن حزم فما کان اقل من ذٰلک ففی کل خمس ذود شاة فتعمل بالزیادة 

اور اسی طرح آگے تمام اونٹوں کا حساب کرتے  چلے جائیں ۔اب حساب سے ایک سو اکیس ]١٢١[ تین مرتبہ چالیس ہو ئے اس لئے اس میں تین بنت لبون لازم ہو ں گے ۔ اور ایک سو تیس ]١٣٠[ دو مرتبہ چالیس ہو ئے اسلئے دو بنت لبون لازم ہو نگے اور ایک مرتبہ پچاس ہوا ، اس لئے ایک حقہ لازم ہو گا ۔ 
 ترجمہ: ٣  پھر حساب گھما یا جائے گا چالیس اور پچاس پر ۔ پس ہر چالیس پر ایک بنت لبون ، اور ہر پچاس پر ایک حقہ لازم ہو گا ۔ کیونکہ حضور ۖ  نے خط لکھوایا کہ جب ایک سو بیس پر اونٹ زیادہ ہو جائے تو ہر پچاس میں ایک حقہ ، اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہے ۔ اس سے کم میں حساب کو لوٹائے بغیر ۔ 
تشریح :  حضرت امام شافعی  کے یہاں ایک سو بیس اونٹ کے بعد اس طرح حساب کیا جائے گا کہ ہر چالیس اونٹ میں ایک بنت لبون ، اور ہر پچاس اونٹ میں ایک حقہ ۔ چالیس سے کم میں کچھ بھی نہیں ، کیونکہ حضور ۖ نے زکوة کے جو خطوط لکھوائے اس میں اسی طرح حساب تھا ۔ حدیث یہ ہے ۔حدثنا حماد قال : أخذت من ثمامة بن عبد اللہ بن أنس کتابا زعم أن ابا بکر کتبہ لأنس و علیہ خاتم رسول اللہ  ۖ حین بعثہ مصدقا .... فاذا زادت علی عشرین و مائة ففی کل اربعین بنت لبون و فی کل خمسین حقة (ابو داؤد شریف ،باب فی زکوة السائمة ص ٢٢٦ نمبر ١٥٦٧   بخاری شریف ، باب زکوة الغنم ، ص ٢٣٥، نمبر ١٤٥٤ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی زکوة الابل و الغنم ، ص ١٦٠، نمبر ٦٢١) اس حدیث میں تصریح ہے کہ ایک سو بیس کے بعد ہر چالیس اونٹ میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ لازم ہوگا۔ اور چونکہ درمیان میں جو پانچ یا دس یا پندرہ یا بیس اونٹ ہیں اس کی زکوة کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اس لئے اس میں زکوة واجب نہیں ہوگی۔
 ترجمہ: ٤  اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام نے حضرت عمرو ابن حزم کے خط کے آخیر میں یہ لکھوا یا کہ جو اس سے کم ہو تو ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری لازم ہو گی ۔ اس لئے خط کے اس زیادتی پر عمل کیا جائے گا ۔ 
تشریح :  ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر ابن حزم کو  جو زکوة کے حساب کے لئے خط لکھوایا اسکے بعض خط میں یہ تذکرہ ہے کہ ایک سو بیس کے بعد ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہو نی چاہئے ۔ اور چونکہ یہ اور خطوط سے علاوہ ہے اس لئے اس زیادتی کو قبول کر نا چاہئے اور اس پر عمل ہو نا چاہئے ۔ عمر بن حزم کے لئے خط کا حصہ یہ ہے ۔  من ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم أن النبی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 فصل ما یکرہ فی ا لصلوة 13 1
3 فصل فی آداب الخلاء 35 2
4 باب صلوة الوتر 42 3
5 وتر کا بیان 42 4
7 باب النوافل 56 3
8 فصل فی القرأة 66 3
9 فصل فی قیام رمضان 94 3
10 فصل فی التراویح 94 3
11 باب ادراک الفریضة 104 3
12 باب قضاء الفوائت 127 3
13 باب سجود السہو 144 3
14 باب صلوٰة المریض 178 3
15 باب سجود التلاوة 197 3
16 باب صلوة المسافر 218 3
17 میل شرعی،میل انگریزی اور کیلو میٹر میں فرق 222 16
18 بحری میل 228 16
19 باب صلوة الجمعة 254 2
20 باب صلوة العیدین 290 19
21 فصل فی تکبیرات تشریق 312 20
23 باب صلوة الکسوف 318 19
24 باب صلوة الاستسقاء 326 19
25 باب صلوة الخوف 332 19
26 باب الجنائز 339 2
27 فصل فی الغسل 342 26
28 فصل فی التکفین 352 26
29 کفن کا بیان 352 26
30 کفن بچھانے اور لپیٹنے کا طریقہ 355 26
31 فصل فی الصلوة علی ا لمیت 361 26
32 فصل فی حمل الجنازة 384 26
33 فصل فی الدفن 389 26
34 باب الشہید 397 2
35 باب الصلوٰة فی الکعبة 413 2
36 کتاب الزکوٰة 419 1
38 باب صدقة الصوائم 419 36
39 باب زکوة الابل 451 38
40 فصل فی البقر 458 38
41 فصل فی الغنم 464 38
43 فصل فی الخیل 469 38
44 فصل فی مالا صدقة فیہ 473 38
45 جانور کے بچوں کا فصل 473 38
46 باب زکوٰة المال 498 36
47 فصل فی الفضة 498 46
48 فصل فی الذہب 505 46
49 درہم کا وزن 509 46
50 دینار کا وزن 509 46
51 نصاب اور اوزان ایک نظر میں 510 46
52 چاندی کا نصاب 510 46
53 سونے کا نصاب 510 46
54 رتی اور ماشہ کا حساب 511 46
55 فصل فی العروض 512 46
56 باب فی من یمرّ علی العاشر 520 36
57 باب فی المعادن والرکاز 541 56
58 باب زکوٰة الزّروع والثمار 556 56
59 باب من یجوز دفع الصّدقات الیہ ومن لا یجوز 584 56
61 باب مصارف الزکوة 584 56
62 باب صدقة الفطر 618 36
63 فصل فی مقدار الواجب و وقتہ 634 62
64 صدقة الفطر کی مقدار 641 62
65 صاع کا وزن 641 62
Flag Counter