٣ ثم یدار الحساب علیٰ الاربعینات والخمسینات فیجب فی کل اربعین بنت لبون وفی کل خمسین حقة لما روی انہ علیہ السلام کتب اذازادت الابل علیٰ مائة وعشرین ففی کل خمسین حقة وففی کل اربعین بنت لبون من غیر شرط عود ما دونہا ٤ ولنا انہ علیہ السلام کتب فی اٰخر ذٰلک فی کتاب عمر وبن حزم فما کان اقل من ذٰلک ففی کل خمس ذود شاة فتعمل بالزیادة
اور اسی طرح آگے تمام اونٹوں کا حساب کرتے چلے جائیں ۔اب حساب سے ایک سو اکیس ]١٢١[ تین مرتبہ چالیس ہو ئے اس لئے اس میں تین بنت لبون لازم ہو ں گے ۔ اور ایک سو تیس ]١٣٠[ دو مرتبہ چالیس ہو ئے اسلئے دو بنت لبون لازم ہو نگے اور ایک مرتبہ پچاس ہوا ، اس لئے ایک حقہ لازم ہو گا ۔
ترجمہ: ٣ پھر حساب گھما یا جائے گا چالیس اور پچاس پر ۔ پس ہر چالیس پر ایک بنت لبون ، اور ہر پچاس پر ایک حقہ لازم ہو گا ۔ کیونکہ حضور ۖ نے خط لکھوایا کہ جب ایک سو بیس پر اونٹ زیادہ ہو جائے تو ہر پچاس میں ایک حقہ ، اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہے ۔ اس سے کم میں حساب کو لوٹائے بغیر ۔
تشریح : حضرت امام شافعی کے یہاں ایک سو بیس اونٹ کے بعد اس طرح حساب کیا جائے گا کہ ہر چالیس اونٹ میں ایک بنت لبون ، اور ہر پچاس اونٹ میں ایک حقہ ۔ چالیس سے کم میں کچھ بھی نہیں ، کیونکہ حضور ۖ نے زکوة کے جو خطوط لکھوائے اس میں اسی طرح حساب تھا ۔ حدیث یہ ہے ۔حدثنا حماد قال : أخذت من ثمامة بن عبد اللہ بن أنس کتابا زعم أن ابا بکر کتبہ لأنس و علیہ خاتم رسول اللہ ۖ حین بعثہ مصدقا .... فاذا زادت علی عشرین و مائة ففی کل اربعین بنت لبون و فی کل خمسین حقة (ابو داؤد شریف ،باب فی زکوة السائمة ص ٢٢٦ نمبر ١٥٦٧ بخاری شریف ، باب زکوة الغنم ، ص ٢٣٥، نمبر ١٤٥٤ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی زکوة الابل و الغنم ، ص ١٦٠، نمبر ٦٢١) اس حدیث میں تصریح ہے کہ ایک سو بیس کے بعد ہر چالیس اونٹ میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ لازم ہوگا۔ اور چونکہ درمیان میں جو پانچ یا دس یا پندرہ یا بیس اونٹ ہیں اس کی زکوة کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اس لئے اس میں زکوة واجب نہیں ہوگی۔
ترجمہ: ٤ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام نے حضرت عمرو ابن حزم کے خط کے آخیر میں یہ لکھوا یا کہ جو اس سے کم ہو تو ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری لازم ہو گی ۔ اس لئے خط کے اس زیادتی پر عمل کیا جائے گا ۔
تشریح : ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر ابن حزم کو جو زکوة کے حساب کے لئے خط لکھوایا اسکے بعض خط میں یہ تذکرہ ہے کہ ایک سو بیس کے بعد ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہو نی چاہئے ۔ اور چونکہ یہ اور خطوط سے علاوہ ہے اس لئے اس زیادتی کو قبول کر نا چاہئے اور اس پر عمل ہو نا چاہئے ۔ عمر بن حزم کے لئے خط کا حصہ یہ ہے ۔ من ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم أن النبی