Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 2

394 - 645
 ١  لانہما لاحکام البناء  والقبر موضع البلی ثم بالاٰجر اثرالنار فیکرہ تفاؤل (٧٣٥)  ولاباس بالقصب )   ١   وفی الجامع الصغیر ویستحب اللبن والقصب لانہ صلی اﷲ علیہ وسلم جُعل علی قبرہ طُنّ من قصب 

لکڑی مکروہ ہے کیونکہ وہ دیر پا رہتا ہے۔  البتہ بانس چونکہ دیرپا نہیں ہے اس لئے وہ جائزہے۔  
وجہ:  (١)حدیث میں ہے ۔عن جابر قال نھی رسول اللہ ۖ ان یجصص القبر وان یقعد علیہ وان یبنی علیہ (مسلم شریف ، کتاب الجنائز ، فصل فی النہی عن تجصیص القبور ص ٣١٢ نمبر ٩٧٠ ابو داؤد شریف ، باب فی البناء علی القبر ج ثانی ص ١٠٤ نمبر ٣٢٢٥)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبر پر پکی اینٹ اور تختہ نہ دیا جائے، اس پر کوئی بنیاد نہ بنائی جا ئے ، اور نہ چونے گچ سے مضبوط کی جا ئے (٢)۔ عن ابراہیم قال کانوا یستحبون اللبن و یکرھون الآجر ویستحبون القصب ویکرھون الخشب ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ١٣٧، فی تجصیص القبر والآجر یجعل لہ ج ثالث ص ٢٧، نمبر ١١٧٦٩) اس اثر سے بھی مسئلہ کی تائید ہوتی ہے۔  
لغت:  الآجر  :  پکی اینٹ،  خشب  :  لکڑی،  القصب  :  بانس۔البلی : بوسیدہ ہو نا ، گلنا۔  تفاول : بد فالی لینا ۔ 
 ترجمہ:   ١  اس لئے کہ پکی اینٹ اور لکڑی بنیاد کو مضبوط کر نے کے لئے ہے اور قبر گلنے کی جگہ ہے ۔ پھر پکی اینٹ میں آگ کا اثر ہے ، اس لئے بدفالی کے طور پر مکروہ ہے ۔ 
تشریح : پکی اینٹ اور لکڑی کے مکروہ ہو نے کی دلیل عقلی ہے ۔ کہ لکڑی اور پکی اینٹ بنیاد کی مضبوطی کے لئے ہے اور قبر مضبوطی کی جگہ نہیں ہے بلکہ وہ گلنے اور سڑنے کی جگہ ہے اسلئے مضبوط لکڑی اور پکی اینٹ نہیں دینی چاہئے ، پھر دوسری بات یہ ہے کہ پکی اینٹ آگ سے پکی ہے اسلئے اس میں آگ کا اثر ہے اس لئے اس میں بد شگونی ہے کہ صاحب قبر کے ساتھ عذاب والی چیز رکھی جا ئے ، اس لئے یہ مکروہ ہے ۔ اس اثر میں اس کا ثبوت ہے ۔ عن سوید بن غفلة قال : اذا أنا مت فلا تؤذنوا بی أحدا و لا تقربونی جصا و لا آجرا و لا عودا و لا تصحبنا امرأة ۔  ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ١٣٧، فی تجصیص القبر والآجر یجعل لہ ج ثالث ص ٢٧، نمبر ١١٧٦٦)  اس اثر میں ہے کہ لکڑی اور پکی اینٹ قبر کے قریب نہ کی جا ئے ۔
ترجمہ:  (٧٣٥)  اور بانس کے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
 ترجمہ:    ١   اور جامع صغیر میں ہے کہ کچی اینٹ اور بانس دینا مستحب ہے ، اس لئے کہ حضور ۖ کی قبر پر بانس کا گٹھا استعمال کیا ہے ۔  
تشریح :  بانس اتنا مضبوط نہیں ہو تا اس لئے قبر پر اس کو رکھنے میں کو ئی حرج نہیں ہے ۔ حدیث مرسل میں ہے کہ حضور ۖ کی قبر میں 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 فصل ما یکرہ فی ا لصلوة 13 1
3 فصل فی آداب الخلاء 35 2
4 باب صلوة الوتر 42 3
5 وتر کا بیان 42 4
7 باب النوافل 56 3
8 فصل فی القرأة 66 3
9 فصل فی قیام رمضان 94 3
10 فصل فی التراویح 94 3
11 باب ادراک الفریضة 104 3
12 باب قضاء الفوائت 127 3
13 باب سجود السہو 144 3
14 باب صلوٰة المریض 178 3
15 باب سجود التلاوة 197 3
16 باب صلوة المسافر 218 3
17 میل شرعی،میل انگریزی اور کیلو میٹر میں فرق 222 16
18 بحری میل 228 16
19 باب صلوة الجمعة 254 2
20 باب صلوة العیدین 290 19
21 فصل فی تکبیرات تشریق 312 20
23 باب صلوة الکسوف 318 19
24 باب صلوة الاستسقاء 326 19
25 باب صلوة الخوف 332 19
26 باب الجنائز 339 2
27 فصل فی الغسل 342 26
28 فصل فی التکفین 352 26
29 کفن کا بیان 352 26
30 کفن بچھانے اور لپیٹنے کا طریقہ 355 26
31 فصل فی الصلوة علی ا لمیت 361 26
32 فصل فی حمل الجنازة 384 26
33 فصل فی الدفن 389 26
34 باب الشہید 397 2
35 باب الصلوٰة فی الکعبة 413 2
36 کتاب الزکوٰة 419 1
38 باب صدقة الصوائم 419 36
39 باب زکوة الابل 451 38
40 فصل فی البقر 458 38
41 فصل فی الغنم 464 38
43 فصل فی الخیل 469 38
44 فصل فی مالا صدقة فیہ 473 38
45 جانور کے بچوں کا فصل 473 38
46 باب زکوٰة المال 498 36
47 فصل فی الفضة 498 46
48 فصل فی الذہب 505 46
49 درہم کا وزن 509 46
50 دینار کا وزن 509 46
51 نصاب اور اوزان ایک نظر میں 510 46
52 چاندی کا نصاب 510 46
53 سونے کا نصاب 510 46
54 رتی اور ماشہ کا حساب 511 46
55 فصل فی العروض 512 46
56 باب فی من یمرّ علی العاشر 520 36
57 باب فی المعادن والرکاز 541 56
58 باب زکوٰة الزّروع والثمار 556 56
59 باب من یجوز دفع الصّدقات الیہ ومن لا یجوز 584 56
61 باب مصارف الزکوة 584 56
62 باب صدقة الفطر 618 36
63 فصل فی مقدار الواجب و وقتہ 634 62
64 صدقة الفطر کی مقدار 641 62
65 صاع کا وزن 641 62
Flag Counter